آہ! یہ بہکتے ،بکھرتے ،گرتے،مرتے چندن

سیدہ مہرافشاں

Asia Times Desk

یوپی کے قصبہ کاسگنج میں26جنوری کو جس طرح فساد برپا کیا گیا، وہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں۔ یہ بھی ویسی ہی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے جس کی بدولت اب تک ہزاروں فساد ہوچکے ہیں۔جانی اورمالی نقصان تو ہوتا ہی ہے ، لیکن فسادی بھول جاتے ہیں کہ ملک بدنام اورغریبوں کا جینا محال ہوتا ہے۔ اس فساد میں ایک نوجوان چندن مارا گیا۔دنگائیوں نے ایک مسافر حنیف اکرم کوپکڑکرمارا ،کوٹا جو علی گڑھ سے لکھیم پورجاتے ہوئے کاسگنج سے گزررہا تھا۔ اس کی ایک آنکھ پھوڑدی۔ ایک شخص نوشاد کی ٹانگ میں گولی لگی۔ اقلتیی فرقہ کی دوکانیں اورجائدادیں جلا ئی گئیں۔ اوراب ان کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے۔
کیا وجہ تھی کہ قومی تہوار 26جنوری پر ویر عبدالحمید تراہے پرترنگاجھنڈا لہرانے میں رخنہ ڈالا گیا؟ یہ مسلم علاقہ ہے اورمسلم طبقہ کے ہی لوگوں نے یہ پروگرام رکھا تھا جب بائکوں پرسوار ہوکروی ایچ پی اور اے بی وی پی وغیرہ کے لوگ وہاں پہنچے،ہنگامہ کیا اورترنگے کی جگہ بھگوا لہرانے کی زبردستی کی۔کہنے کوتو یہ ترنگا ریلی تھی مگررنگ اس کا بھگواتھا۔ جھنڈے بھی بھگوا ہی نظرآتے ہیں۔ وہاں سے یہ ٹولا دوسرے علاقوں میں گیا اور بلا اشتعال اقلیتوں کی املاک کونقصان پہنچایا۔ جو مل گیا اسی کو مارا پیٹا۔ گولی بھی چلائی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں بھی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہاہے اور گرفتاریاں، تلاشیاں اور قرقی بھی ان کی ہورہی ہے۔ اول دن سے ہی یہ بات صاف ہے کہ فساد ایک طرفہ سازش سے ہواہے۔
انگریزوں کے دور سے آج تک مسلم قوم اس درد کو لے کر جی رہے ہیں۔لیکن پھربھی اس ملک کی آزادی کے لئے اوراس کے بعد اس کی حفاظت کے لئے جان دینے والے عبدالحمید، برگیڈیر عثمان شہید جیسے بیشما رلوگ موجود ہیں۔بس ڈرائیور شیخ سلیم نے امرناتھ یاتریوں کی جان بچائی۔ایسے کتنے ہی روز پیدا ہوتے رہیں گے اورملک کی خاطر جان نثار کرتے رہیں گے۔ہم تویہی لکھتے رہیں گے کہ
یہ کیسا قرض ہے نفرت کا کم نہیں ہوتا
کہ بڑھتا جاتا ہے، جتنا چکائے جاتے ہیں
اس فساد کے چلتے 22سالہ نوجوان چندن کی موت افسوسناک ہے۔ اس کا دھرم چاہے جوکچھ ہو، وہ اپنی ماں کا لال تھا۔سرکاراب 20 لاکھ دے یا 50 لاکھ، ماں کیلئے چندن کی کمی تو پوری نہیں ہوگی۔ فرقہ پرستی اور فساد کی آگ بھڑکانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی شہ پر برپا ہونے والے فساد میں ہندو مارا جائے، یا مسلمان، سب کے لہو کا رنگ ایک ہے۔ کئی کے پرکھے بھی ایک ہونگے اورسب اسی مادروطن کے سپوت ہیں۔ چندن ہمارے لئے بس ایک خبرکا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کی ماں کے دل سے پوچھو، جس نے اس کو پال پوس کر بڑا کیا۔اس کی بہنوں سے پوچھو، جن کے دلوں میں اس کیلئے کیا کیا تمنائیں ہونگی؟ یہ بحث تو الگ ہے کہ وہ کس کی گولی کا شکار ہوا، اہم بات یہ ہے کہ آگ کس نے بھڑکائی اوراس کونفرت کی آگ میں کس نے جھونکا ؟
ماں ماں ہی ہوتی ہے، چاہے ویمولا کی ماں ہو، چندن کی ماں ہو، نجیب کی ماں ہو،سرحد پر نگرانی کرنے والے ہمارے کسی جوان کی ماں ہو، یا ان بیشمار نوجوانوں اورکم عمربچوں کی مائیں ہوں جن کے روز مارے جانے کی خبریں کشمیر سے آتی رہتی ہیں۔ کاش انسانیت کے دشمن اس درد کوسمجھ پاتے۔آخران کو اپنے ہی نوجوانوں اوربچوں کو موت کے منھ میں دھکیل کرکیا ملے گا؟چند روز کی حکومت، جس کا زوال توہونا ہی ہے۔ہٹلر نہیں بچا، یہ کیا بچیں گے؟
تھوڑی دیر کیلئے اقلیت کے درد کو بھول جائیں اور غورکریں کہ گاندھی جی کے قاتل کی ذہنیت کس سانچے میں ڈھلی تھی ؟ 1984 میں جنہوں نے سکھوں پر ظلم کیا وہ کون تھے؟ داراسنگھ کون تھا جس نے اڈیسہ میں گراہم اسٹین اوراس کے معصوم بچوں کوزندہ جلا دیا ؟گلبرگی ، گودند پنسارے، نریندردھابولکر اور ویمولا کی موت کے لئے کون ذمہ دارتھا؟ گوری لنکیش کی آواز کو بند کر کے ہمیشہ کے لئے خاموش کرنے والے کون لوگ تھے؟ جج لویا کی مشتبہ موت کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ان میں سے کوئی بھی ملزم نہ مسلمان تھا اور نہ سیکولر۔ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جوجھوٹے راشٹرواد کے نام پر ملک کو تاریکی کے دور میں دھکیل دینے کیلئے بیچین ہیں۔
اس طرح کی سازشوں کا پردہ فاش کرنے والے ہرطرف منظرعام پرآرہے ہیں۔بریلی کے ڈی ایم رگھوندروکرم سنگھ نے سوشل میڈیا پر جو حق بیانی کی اس پرحکومت کی بوکھلاہٹ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کو اوراس کے نوجوانوں کوتباہی کے راستے پرکون لیجایا جارہا ہے؟ وکرم سنگھ نے ٹھیک سوال اٹھا یا کہ کشیدگی پیداکرنے کیلئے مسلم محلوں میں جا کر نعرے بازی کرنے کا ایک رویہ چل پڑا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا، پاکستان سے بیشک اختلاف ہے لیکن ہندستانی مسلمان ہمارے بھائی ہیں ۔اس پر سرکار آگ بگولہ ہوگئی۔ بجائے اس کے کہ اس بات پر غورکرتی۔ ایسی ہی باتیں سہارنپورکی ایک خاتون افسررشمی ورن نے کہی ہیں کہ بھگواررنگ کی ترنگاریلیاں فسادپھیلانے کیلئے نکالی جاتی ہیں۔
نیتا لوگ بچوں کو بھلائی کاراستہ دکھانے کے بجائے اپنے بے اصل بیانات سے آگ میں گھی ڈالنے کاکام کرتے ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کو کبھی کانوڑیوں کے بھیس میں، کبھی ان کے کچے ذہنوں میں گؤ ماتا کا پریم انڈیل کر،کبھی لوجہاد کا بہاناتراش کر، کبھی بیف کھانے کا الزام لگاکر موت اورتشدد کابرپا کیا جاتا ہے۔بے قصوراخلاق کو قتل کرنے والے نوجوانوں کو نفرت کی آگ میں جھونک دینے کا کام کرنے والے کون لوگ ہیں؟ جابجا دلتوں پر ظلم کرنے والے ، گجرات میں سرعام گاڑی سے باندھ کر بے رحمی سے مارنے پیٹنے والے کون تھے اورکیوں پولیس نے ان کے ساتھ نرمی برتی؟کیا یہ ملک سے وفاداری ہے؟ کم عمر بچے، جن کے دلوں میں رام، کرشن ، لکشمن اورسیتا کے ادرشوں کی گاتھائیں ڈالنی چاہئیں،نہ کہ کسی بے قصورکو بے رحمی سے قتل کرنے اورزندہ جلانے کاویڈیو بنوانا، اس کو وائرل کرنا، ان کو سنگ دلی سکھاناہے۔ ان کے دلوں کوپتھر بناناہے۔یہی بچے بڑے ہوکر خون کی ہولی کھیلیں گے، بلکہ کم عمری میں ہی کھیلنے لگے ہیں۔ سنبھلو یہ کس کے بچے ہیں جو اسکولوں میں اپنے ساتھیوں کوبے رحمی سے قتل کر رہے ہیں۔مرنے والے کون ہیں؟سنگ دلی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو اپنے خون کی بھی پہچان نہیں ہوتی۔کون ماں ہے، کون باپ ہے ،کون بھائی کون دوست اورساتھی ہے؟ ظلم جس کے دل ودماغ میں گھرکرلیتا ہے وہ انسان بھیڑیے سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔آج جن کے دلوں میں دھرم کے نام پر دشمنی اورنفرت بٹھائی جارہی ہے ، کل وہی ذات برادری اور علاقہ کے نام پر اپنے ہی ہم مذہبوں پر ظلم توڑیں گے۔ پڑھنے کی عمرمیں ان کے ہاتھ سے قلم چھین کر تلوار پکڑا دینا ،دیش پریم نہیں۔ ان کو گیتا کی اشلوک سکھانے کے بجائے ان سے تشدد کے نعرے بلند کرائے جارہے ہیں تاکہ ذات اور مذہب کے نام پر جنون پیدا ہو۔مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے ان کے آقاہرغلط کام کیلئے ان کی واہ واہی کرتے ہیں۔
جو نادان اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو تباہ برباد کرنے پر تلے ہیں، دوسروں کو ان سے خیر کی کیا امید ہوسکتی ہے؟ لیکن ہمارامقام جداہے۔ ہمیں اپنے بچوں میں دین کی سمجھ، صبروتحمل، ہرانسان کے ساتھ ہمدردی، ہرمذہب کے لوگوں کے ساتھ بھائی چارہ، فتنہ سے دوررہ کر تعلیم اوراپنی قدروں پر توجہ کرنی ہوگی۔تاکہ جب آگ بھڑکے تو ہماری نسلیں ہی اس پرپانی ڈالنے کا کام کریں۔اللہ ہمارے ملک اورقوم کو اس بربادی سے بچائے اوراس قوم میں سے ہی حق کی آوازبلند کرنے والے پید ا ہوں۔ خدابڑا ہی رحیم اورکریم ہے۔
Celll/WhatsApp-9810380879

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *