اردو زبان میں جذبات کے ادائیگی کی بھر پور صلاحیت ہے ۔ وسیم خان

admin

  سنت کبیر نگر : انڈین سوشل آرگنائزیشن کی جانب سے ہرماہ ضلع کے مختلف مقامات میں شعری نشست کا اہتمام کرانے کا کیااہم فیصلہ،اس سلسلے میں سنت کبیر نگر کے مگہرمیں ڈاکٹر اسد نظامی کی صدارت میں ہوئی پہلی ادبی نشست ۔سنت کبیر نگر ۔اردو زبان کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج اردو بولنے اور سمجھنے اور استعمال کرنے والے لوگ ہندوستان کے وسیع وعریض خطے میںہی نہیں بلکہ پوری دنیامیں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔

اردو زبان ایک ایسی زبان ہے کہ جس میں جذبات کی ادائیگی اور اظہار کی بھر پور صلاحیت ہے ،اردو کے الفاظ میں وہ زور ہے کہ آج بھی اس کے جادو کے زور سے عوام نہیں نکل پارہے ہیں ،اردو کی عوامی کہانیوںسے لے کر فلمی گانوںتک کو عوام کی پذیرائی حاصل ہوئی، آج عام بول چال ہو یا سرکاری محکمہ جات ہوں یا پھر عدالتی کام کاج ہوںکہیں پر بھی بغیر اردو کی شمولیت اوراستعمال کے کام نہیں چلتا اردو الفاظ کا سہارا بہر حال یہاں پر رائج تمام زبانوں کو لینا ہی پڑتا ہے یہ ان تمام غیراردو زبانوں کی مجبوریاں ہیں  ۔

ان خیالات کا اظہار سماجی کارکن اورانڈین سوشل آرگنائزیشن کے صدراور معروف شاعراحمدوسیم خان نے باغ نگرواقع آرگنائزیشن دفترمیںنمائندہ ایشیا ٹائم سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔  انھوں نے کہا کہ آج اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن یہ اردو کا المیہ ہی ہے کہ آج تک جنتی سرکاریں آئیں سبھی نے اردو کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیا اوراس زبان کو سرکاری کام کاج اور روزی روٹی سے دور کرتی چلی گئیں ،سرکاروں کے اسی سوتیلے رویے اور جانب دارانہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ آج اردو بدحال اوررو بہ زوال ہے ، اردو کے ساتھ جتنا جانب دارانہ سلوک برتا گیا اگر اس کی آدھی محنت اردو زبان کی ترقی کے لئے کی جاتی تو شاید اردو آج اپنے بام عروج پر ہوتی لیکن افسوس کی بات ہے کہ اردو اپنے ہی گھر میںایک لمبے عرصے سے تعصب اور جانب داری کا شکار رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان میں ہمہ گیریت کے ساتھ ساتھ لہجے کی ایسی چاشنی پائی جاتی ہے کہ تمام تر عداوتوںاور رکاوٹوں کے باوجود آج بھی اردو کے محاورے اور اس کے الفاظ زبان زد خاص و عام ہیں ۔انھوںنے کہا کہ علاقے میں بہت سی ایسی شخصیات ہیں جو وسائل نہ ہونے ہونے کے سبب پردۂ خفامیں ہیں ہم ایسے تمام لوگوں کو ایک اسٹیج فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے یہ غیر معروف لوگ جو ارود کے لئے کچھ کر سکتے ہیں کو منظر عام پر لایا جاسکے۔ ،اس میں ہرمہینہ میںضلع کے مختلف مقامات میں شعری نشست کا آرگنائزیشن کی جانب سے اہتمام کرایاجائے گا ،تاکہ اردوکی ترویج واشاعت عام ہواور اپنے گھر میں اردوزبان پھلے پھولے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *