الیکٹرانک میڈیا اب مولانا انظر شاہ کی رہائی کو خبر کیوں نہیں بناتا؟

admin

 نئی دہلی : ہندوستان کے مسلمان نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کے حامی یہ بات اب خود ملک کی عدالتوں میں ثابت ہو رہی ہیں۔ ہمیں اپنے نظام عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور تمام تر سازشوں کے باوجود عدالتیں انصاف دیرہی ہیں۔معروف عالم دین مولانا انظر شاہ کا دہشت گردی کے الزام سے با عزت بری کرنے کا عدلیہ کا حالیہ فیصلہ اس کا تازہ ثبوت ہے۔ یہ بات آج جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے  جمعیۃ علما ہندکے صدر دفتر مسجد عبدالنبی میں مولانا انظر شاہ سے ملا قات کے دوران کہی۔ مولانا انظرشاہ اپنی رہائی کے بعد آج خود کو قانونی امداد فراہم کرانے کے لئے جمعیۃ علما ء ہند اور بالخصوص مولانا ارشد مدنی کا شکریہ ادا کرنے آئے تھے۔
 مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا جانبدارانہ کردا ادا کر رہا ہے۔جب بھی کسی بے قصور مسلمان کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا پوری شدت سے اس شخض کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تل جاتا ہے لیکن جب وہی شخض عدالت سے بے قصور ثابت ہو جاتا ہے تو وہ اس کی خبر دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ اس سے الیکٹرانک میڈیا کی نیت اور نیتی دونوں کوہی سمجھا جا سکتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ انظر شاہ کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لینے والا الیکٹرانک میڈیا عدالت سے ان کی رہائی کے بعد کیو ں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ا س رویہ کی وجہ سے اب میڈیا عوام کا اعتماد کھوتاجا رہا ہے۔مولانا مدنی نے امید ظاہر کی کہ ابھی جن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے زیر غور ہیں وہ زیادہ تر فرضی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان شاء اللہ ہم وہ تمام مقدمات جیتیں گے۔ مولانا مدنی نے مولانا انظر شاہ سے ملاقات کے دوران بتایا کہ جمعیۃ علما ہند کا لیگل سیل کس دلجوئی کے ساتھ جیلوں میں بند بے قصور لوگو ں کی رہائی کے لئے کام کر رہا ہے۔
اس موقع پر مولانا انظر شاہ نے  انہیں قانونی امداد پہنچانے اور باعزت بری کرانے میں اہم رول ادا کرنے کے لئے جمعیۃ علما کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور  لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی کا شکریہ ادا کیا۔ واضح ہو کہ پٹیالہ ہاؤس عدالت نے گذشتہ ہفتہ مولانا انظرشاہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے سے متعلق مقدمہ کو ڈسچارج کر دیا تھا اور اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم اپنے اس الزام کو ثابت نہیں کرسکی کہ مولانا انظر شاہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔اس کے علاوہ عدالت نے ان کی تقریروں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ پایا کہ ان تقریروں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو نوجوانوں کو القاعدہ سے جڑنے کی ترغیب دینے والا یا اکسانے والا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *