بابری مسجدملکیت مقدمہ

 متولی کا جائدادپر کوئی حق نہیں ہوتا

Azhar Umri Agra

1949سے پہلے نرموہی اکھاڑہ کا مسجد کے اندورنی صحن پر کوئی دعویٰ نہیں تھا،جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون کی دلیل
 نئی دہلی 11/ ستمبر
بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا آج اکیسواں دن تھا لیکن آج عدالت کی کارروائی بجائے ساڑھے دس بجے شروع ہونے کے دو پہر دو بجے شروع ہوئی اور پونے چار بجے ختم ہوگئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون نے اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے پانچ رکنی آئینی بینچ کو بتایا کہ 22 اور 23 دسمبر 1949 کی درمیانی شب کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مورتیوں کو مسجد کے اندورنی حصہ میں رکھاگیا تھا جو ایک غیر قانونی عمل تھاجو 6 دسمبر 1992 بابری مسجد کی شہادت کے دن تک جاری رہا۔اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو ڈاکٹر راجیو دھون نے مزید بتایا کہ نرموہی اکھاڑہ والے ہمیشہ سے باہری صحن میں پوجا پراتھنا کیا کرتے تھے لیکن 1949 کے غیر قانونی عمل کے تحت انہیں اندرون صحن میں داخلہ ملا۔ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کی توجہ  Continuous Wrong یعنی کے لگاتار ہونے والے غیر قانونی عمل کی جانب دلاتے ہوئے عدالت کو  22 اور 23 دسمبر 1949 کی درمیانی شب میں ا نجام دیئے گئے عمل کی جانب مبذول کرائی اور کہاکہ 1949 سے قبل نرموہی اکھاڑہ کا اندرونی صحن پر کوئی دعوی ہی نہیں تھا لہذا آج وہ اندرونی صحن پر دعو ی کرکے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں انہوں نے وضاحت کی کہ 1989میں نرموہی اکھاڑہ نے اندرونی صحن پر اپنا دعویٰ پیش کیا، ڈاکٹرراجیودھون نے دلیل دی کہ  نرموہی اکھاڑہ کی جانب سے داخل کیا گیا سوٹ معینہ مدت میں داخل نہیں کیا تھا لہذا اسے خارج کردینا چاہئے۔ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ نرموہی اکھاڑہ نے اپنی عرضداشت میں لکھا ہے کہ متنازعہ اراضی ان کی ہے یعنی کہ وہ ان کو Belong کرتی ہے لیکن شبعیت اور ٹرسٹی میں فرق ہوتا ہے اور شبیعت کو صرف انتظامی امور کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کا پراپرٹی پر حق نہیں ہوتا ہے دوسرے متنازعہ اراضی کبھی نرموہی اکھاڑہ کی تھی ہی نہیں لہذا لفظ belongingکا وہ استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر راجیو دھون نے 1950 میں مجسٹریٹ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ پر بھی سوال کھڑے کئے اور عدالت سے کہا کہ کیا اب مجسٹریٹ کے خلاف مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے؟ اسی درمیان عدالت کا وقت ختم ہوگیا اور عدالت نے اپنی کاررائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔آج دوران بحث ڈاکٹرراجیودھون نے اس سب فیصلوں کی خواندگی کی، 1933 –  Sir Seth Hukum Chand versus Maharaj Bahadur Singh. 1880-  Maharani Rajroop Koer versus Syed Abdul Hussein. 1972- State of Bihar versus Deokaran Nenshi. 1981- CWT versus Suresh Seth. 1986- Maya Rani Punj versus CIT. 2008- Union of India versus Tarsem Singh،آج ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی 12 ستمبر تک ملتوی کردی دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃ العین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہرو و دیگر موجود تھے۔واضح رہے کہ الہ آبادہائی کورٹ کافیصلہ آنے کہ فورابعد جمعیۃعلماء ہند، سنی سینٹرل وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ، اکھل بھارتیہ ہندومہاسبھا کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر پہلی سماعت عدالت عظمی کی دورکنی بینچ نے جس میں جسٹس آٖفتاب عالم اورجسٹس لودھا شامل تھے 9 /مئی 2011کی تھی۔ جمعیۃعلماء ہندنے اپنی اپیل میں مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ خارج کردینا چاہئے کیونکہ وہ ثبوتوں پر نہیں آستھاپر مبنی ہے، جمعیۃعلماء ہند کے وکیل نے یہ بھی کہاکہ متنازعہ زمین پر مسلمانوں ہندووں اور نرموہی اکھاڑہ کے دعویٰ الگ الگ ہیں جنہیں مشترک نہیں کیا جاسکتا، اپیل میں یہ بھی کہا گیاتھا کہ ہائی کورٹ میں  اس طرح کا کوئی مقدمہ تھاہی نہیں جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہوکہ مسلمانوں ہندووں اورنرموہی اکھاڑہ کا متنازعہ زمین پرمشترکہ حق ہے بلکہ تینوں میں سے ہر ایک نے پوری ملکیت پر دعویٰ کیا تھا، کسی نے بھی زمین کی تقسیم کی بات نہیں کہی تھی، عدالت عظمی نے پینتالیس منٹ تک جاری دونوں فریق کے وکلاء کی بحث سننے کے بعد بابری مسجد ملکیت معاملہ پر ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگادی تھی اور متنازعہ مقام کی ملکیت اور اکوائر آراضی پر اسٹیٹس کو کا حکم جاری  کردیاتھا، صدرجمعیۃعلماء ہند کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ملکیت کولیکرجو ریمارکس کئے تھے اس سے مسلمانوں نے راحت کی سانس لی تھی کیونکہ انہیں حق وانصاف کیلئے امید کی کرن نظرآنے لگی تھی، جمعیۃعلماء ہند 30/ستمبر2010سے لیکر 9/مئی 2011 کے دوران  سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کیلئے سینئر وکلاء کی خدمات  حاصل کیں، دستاویزات کی فراہمی اور تراجم وغیرہ کے حصول میں دن رات ایک کردیئے گئے، اس وقت وکلاء کی ٹیم میں جولوگ شامل تھے ان میں سے کچھ سینئر وکلاء کے نام حسب ذیل ہیں، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ انیس سہروری، معروف قانون داں پی پی رواؤ، دیگر سینئر وکلاء الطاف نائک، سابق ایڈوکیٹ جنرل جمووکشمیر ایم اے قدیر، سینئر ایڈوکیٹ روی کرن جین، آفتاب احمد صدیقی اورجسٹس صغیر احمد وغیرہ کے مشورہ سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو 15/نومبر2010 کوسپریم کورٹ میں چیلنچ کیا گیا اب اسی پٹیشن کی بنیادپر سماعت چل رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *