برطانوی خاتون کا ہلدی کے ذریعے کینسر کے خاتمے کا دعویٰ

Asia Times Desk

لندن: برطانیہ میں ایک خاتون نے دنیا کو اس وقت حیران کر دیا جب اس کا کینسر جڑ سے ختم ہو گیا۔ اس خاتون کا دعویٰ ہے کہ تمام علاج سے تنگ آ کر اس نے ہلدی استعمال کی جو مشرق کے مصالحہ جات میں کم و بیش لازمی مقام رکھتی ہے۔ ملازمت سے ریٹائرڈ شدہ خاتون ڈینیک فرگوسن کو 10 سال قبل بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ انہیں خون کا سرطان مائیلوما لاحق تھا جس میں خون کا پلازما متاثر ہوتا ہے۔

ان پر کیموتھراپی ناکام ہو گئی اور اسٹیم سیل سے علاج بھی کارگر ثابت نہ ہوا۔ مایوس ہونے کے بجائے ڈینیک نے روزانہ ایک کیپسول کھانا شروع کر دیا جس میں ہلدی کے سب سے اہم جادوئی مرکب ’سرکیومن‘ کی 8 گرام مقدار شامل تھی جو ہلدی کے دو چمچوں کے برابر ہے۔ سرکیومن، ہلدی کا سب سے اہم معالجاتی جزو ہے اور ہلدی کے ایک بڑے چمچمے میں اس کی 3 سے 4 گرام مقدار موجود ہوتی ہے۔ ڈینیک کا کینسر دوسری مرتبہ پلٹ کر آیا تھا اور

تیزی سے پھیلتے ہوئے اب کمر سمیت پورے بدن میں زبردست تکلیف کی وجہ بن رہا تھا۔ اس کیفیت میں مریض مشکل سے پانچ سال بھی زندہ نہیں رہ پاتا۔ اس کیفیت پر برطانیہ میں بارٹس این ایچ ایس ٹرسٹ میں خون کے ممتاز ماہر ڈاکٹر عباس زیدی نے کہا ’روزانہ سرکیومن کھانے کے بعد اب یہ خاتون نارمل اور بہتر زندگی جی رہی ہیں۔‘ برطانوی ماہرین اب اس خاتون کا بغور تجزیہ کر رہے ہیں اور اسے برٹش میڈیکل جرنل کیس رپورٹس میں شائع کیا گیا ہے۔ ہلدی میں موجود سرکیومن اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔گزشتہ 50 سال سے سرکیومن پر 50 سے زائد طبی ٹرائلز سامنے آ چکے ہیں۔ سرکیومن پھیپھڑوں کے امراض، پتے کے سرطان، دل کی بیماریوں، آنتوں اور چھاتی کے کینسر، ڈپریشن اور دیگر خطرناک امراض سے بچاتا ہے اور یہ بات اب ثابت بھی ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ گٹھیا کے مریضوں میں آپریشن کے بعد انہیں تیزی سے ٹھیک بھی کرتا ہے۔ ہلدی کا شوخ پیلا رنگ بھی سرکیومن کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور کیمیا کی زبان میں اسے ’’پولی فینول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے کھانوں میں ہلدی کا استعمال عام ہے۔ڈینیک فرگوسن کو 2007ء میں خون کا سرطان تشخیص ہوا تھا اور وہ موت کے قریب تھیں جب کہ 2011ء میں انہوں نے سرکیومن کا استعمال شروع کیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو دیگر ادویہ کے ساتھ ہلدی بھی استعمال کرائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *