تذکرہ حضرت سیّدنا امیرابوالعُلا قدس سرَّہٗ

مولاناسیّدشاہ محمّدریَّان ابوالعُلائی

Azhar Umri Agra

دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیاے کرام کا کردار فراموش نہیں کیاجاسکتا ،انہوں نے مخلوق خدا کے سامنے اپنے قول کی بجاے اپنی شخصیت اور کردار کو پیش کیا،انہو ں نے انسانوں کی نسل،طبقاتی اور مذہبی تفریق کو دیکھے بغیر ان سے شفقت و محبت کا معاملہ رکھا ،جماعت صوفیاکے مقتدر مشاءخ میں ایسی بھی ہستیاں ہوئیں جو اپنے لافانی کارناموں کی وجہ سے ممتاز و عدیل ہوئیں جیسے گیارہویں صدی ہجری کے مقبول زمانہ بزرگ حضرت محبوب جل وعَلا سیدنا امیر ابوالعُلا قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز جن کی ولایت و کرامات اور خوارق و عادات سے زمانہ روشن ہے ۔

حضرت سیّدامیر ابوالعُلا کی ولادت با سعادت990ھ مطابق 1592ء میں قصبہ نریلہ (دہلی) میں ہوئی،اسم گرامی امیر ابوالعُلا،امیر آپ کا موروثی لقب ہے اورتخلص انسان;207; ہے،آپ میر صاحب،سیّدنا سرکار، محبوب جل و عَلا اورسرتاجِ آگرہ وغیرہ کے خطاب سے مشہور ہوئے،آپ کے والد کانام امیر ابوالوفا اور والدہ بیگم بی بی عارفہ تھیں ،ان کے علاوہ آپ کی ایک ہمشیرہ بھی تھیں ،والد کی طرف سے آپ حضرت سید عبداللہ باہر خلف امام زین العابدین کی اولاد سے ہیں اور والدہ کی جانب سے حضرت ابوبکر صدیق کی اولاد میں سے ہیں ۔ (نجات قاسم،ص8)

امیر ابوالعُلا ابن امیر ابوالوفا ابن امیر عبد السلام ابن امیر عبد الملک ابن امیر عبد الباسط ابن امیر تقی الدین کِرمانی ابن امیر شہاب الدین محمودا بن امیر عمادالدین اَمر جاج ابن امیر علی ابن ا میر نظام الدین ابن امیر اشرف ابن امیرا عزالدین ابن امیر شرف الدین ابن امیر مجتبیٰ ابن امیر گیلانی ابن امیر بادشاہ ابن امیرحسن ابن امیر حُسین ا بن امیرمحمدابن امیر عبداللہ ا بن امیر محمد ابن امیر علی ابن امیر عبد اللہ ابن امیر حسین ابن امیر اسماعیل ا بن امیر محمدابن امیر عبدا للہ باہر ابن امام زین العابدین ابن امام حسین ابن امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللّہ وجہہ الکریم و قدس اللہ اِسرارہم ۔ (حجۃ العارفین ص57)

امیر ابوالعُلا ا بن بی بی عارفہ بنت خواجہ محمد فیض ابن خواجہ ابوا لفیض ابن خواجہ عبد اللہ خواجکا ابن خواجہ عبید اللہ احرار ابن خواجہ محمود ابن خواجہ شہاب الدین شاشی (چار پشت بعد)خواجہ محمد النامی بغدادی سے ہوتے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّہ عنہ سے جاملتا ہے ۔ (سلسلۃ العارفین وتذکرۃ الصدیقین)

حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلاکے آباو اجداد کسی زمانے میں کِرمان (ایران) میں سکونت پذیر تھے، حضرت شاہ محمدقاسم ابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ 1281ھ)لکھتے ہیں

’’حضرت سیّدامیر عماد الدین اَمر جاج قدس اللّہ سرہ کہ مزار شریف اُن کا بیچ قَریہ بسم مُضافات دارالامان کِرمان (ایران)کے ہے تمام عالم میں روشن تھے‘‘

(نجات قاسم ،ص8)

حضرت امیر عماد الدین امر جاج کے نبیرہ حضرت امیر تقی الدین کِرمانی جو مرزا شاہرُخ (بادشاہ)کے عہد میں کِرمان (ایران)سے ہجرت کرکے سمر قند (ازبُکستان)تشریف لائے ، لکھتے ہیں

’’سولہ برس کی عمر میں آپ (امیرتقی الدین)اپنے وطن مالوف کِرمان (ایران)سے ہجرت کرکے ولایت و ماورالنہر کو تشریف لے گئے اور مولانا قطب الدین رازی سے تحصیل ِ علوم ظاہری کی کرکے تھوڑے دِنوں میں عالم الدّہر اور فاضل العصر ہوگئے،چنانچہ سلسلہَ ارادت آپ کا بہ چند واسطہ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗسے ملتا ہے کہتے ہیں کہ اصرار سے مرزاشاہرُخ بادشاہ کے شہر سمر قند میں آپ نے توطُن اختیار کیاوہیں انتقال فرمایا‘‘ (نجات قاسم ،ص11)

واضح ہوکہ خواجہ عبید اللہ احرار اور امیر تقی الدین کِرمانی دونوں ہم عصر اور دوست ہیں ، دونوں بزرگ کا مزار بھی ایک ہی جگہ پرسمر قند میں واقع ہے،روایت ہے کہ امیر تقی الدین کِرمانی کے جنازہ کو خواجہ عبید اللہ احرار اپنے دوش پر مزار تک ل گئے ہیں ،اس وقت دونوں خانوادہ میں بڑی قربت ہوچکی تھی ۔ (ایضا)

موَلف نجات قاسم لکھتے ہیں

’’کئی پشتوں سے برابر بزرگوار حضرت محبوب جل و عَلا کے نواسے خواجگان احراری کے تھے‘‘

(نجات قاسم ،ص13)

یعنی حضرت سیّدنا ابوالعُلا، خواجہ محمد فیض المعروف فیضی ابن خواجہ ابو الفیض کے نواسہ ہوے،آپ کے والد امیر ابوالوفا، خواجہ ابوالفیض ابن خواجہ عبداللہ عرف خواجکا (متوفیٰ 908ھ )کے نواسہ ہوے اور ہمارے حضرت کے جد امیر عبدالسلام، خواجہ عبداللہ عرف خواجکا ابن خواجہ عبیداللہ احرار( متوفیٰ 895ھ) کے نواسہ ہوے ،اور اس طرح امیر عبدالسلام کے والد ماجد حضرت امیر عبدالملک، خواجہ عبداللہ عرف خواجکاکے خویش عزیز ہوے ۔ (انفاس العارفین،ص21)

ہمارے حضرت کا کئی پشتوں سے نانیہالی خاندان شاہ بیگ خان کے قبضے کے بعد مشکلات کا شکار ہوتاچلاگیا ،ماہِ محرم 906ھ موافق ماہِ اگست1500ء میں خواجہ عبیداللہ احرار کے صاحبزادے خواجہ محمد یحییٰ احراری(متوفیٰ 906ھ) اور اُن کے دو بیٹے (محمد زکریا احراری اور عبدالباقی احراری)اپنے والد محترم کے ہمراہ شہید ہوئے ۔

(سلسلۃ العارفین وتذکرۃ الصدیقین)

خواجہ محمد ہاشم کِشمی(متوفیٰ 1054ھ) رقمطراز ہیں

’’اب اُن کامولد و مسکن سمر قند کوئی پُر امن جگہ نہ رہا تھا ،مجبوراً خواجہ احرار کے پَس ماندگان کو کاشغر(ایران)اور ہندوستان کارُخ کرنا پڑا‘‘

(نِسمات القدس من حدائق الانس ،مقصد دوم)

حضرت امیر تقی الدین کِرمانی کے صاحبزادے امیر عبدلباسط سمر قند (ازبُکستان)کے رہنے والے تھے ،سمرقند میں آپ کے خاندان کے افراد دولت و ثروت اور جاہ و مَنْصَب کے علاوہ شجاعت و بہادری اور زہد و تقویٰ کے لئے مشہور تھے،ان کے دوفرزند تھے امیر عبدالملک اور امیر زین العابدین، امیر عبدالملک کے صاحبزادے یعنی ہمارے حضرت سیّدنا ابوالعُلاکے جد امیر عبدالسلام سمرقندسے سکونت ترک کرکے جلال الدین محمد اکبر(متوفیٰ 1014ھ 1605ء)کے عہدِ حکومت(963ھ 1555ء تا 1014ھ1605ء) میں ہندوستان اپنے اہل و عیال کے ساتھ تشریف لائے، لاہور ہوتے ہوئے قصبہ نریلہ جو دہلی میں واقع ہے پہنچ کر وہاں قیام فرمایا(اُسی اثنا میں حضرت ابوالعُلاکی پیدائش ہوئی)کچھ عرصہ وہاں قیام کرکے مع اہل و عیال فتح پور سیکری پہونچے وہاں شہنشاہ اکبر سے ملاقات ہوئی ،اکبر کی درخواست پر آپ نے یہاں قیام کرنا منظور کیا ۔ (نجات قاسم،ص14)

ابھی آپ کم سِن ہی تھے کہ والد ماجد کو درد قولنج کی شکایت ہوئی اور اُسی مرض میں انہوں نے فتح پور سیکری میں وفات پائی، نعش کو دہلی لے جایا گیا اور وہیں مدْرسہ لَعل دروازہ کے قریب سُپردخاک کیا گیا ،لیکن اب کوئی واقف کارباقی نہ رہا کہ نشانِ مزار بتا سکے ،بقول نجات قاسم;207;

’’چنانچہ کاتب (محمد قاسم)نے بہت تجسس کیا مگر زیارت (مزار)نصیب نہ ہوئی ‘‘

(ص15)

والد محترم سے محروم ہونے کے بعد آپ کے جد امیر عبدالسلام آپ کی ہر طرح سے دل جوئی کرتے اور ہر بات کا خیال رکھتے آپ کے جد حرمین شریفین زاد اللّٰہ تشریفاً و تعظٰیماًکی زیارت کے لئے روانہ ہوئے توپھر ہندستان واپس تشریف نہ لاسکے اوروہیں اُنہوں نے وفات پائی مزار جنت البقیع میں ہے،سفرحج سے قبل آپ کے دادا نے آپ کو نانا خواجہ محمد فیض المعروف بہ فیضی خلف خواجہ ابوالفیض کے سُپرد فرمایاتھا ابھی آپ اچھی طرح سِن شعور کو پہونچے بھی نہ تھے کہ نانا نے ایک مُہم میں جام شہادت نوش کیا اس طریقے سے ہمارے حضرت کا خاندان بچپن میں کئی طرح کے صدمے کا شکار ہوتا چلا گیا لیکن کہتے ہیں کہ اللہ اُنہیں کو مقام ِ ولایت سے نوازتا ہے جنہیں صبرو تحمل کے راستے سے گزارتا ہے ۔ (نجات قاسم،ص8)

آپ کے نانا خواجہ محمد فیض المعروف خواجہ فیضی بردوان(بنگال) میں حاکم مان سنگھ کی طرف سے نظامت کے عُہدے پر فائز تھے،دادا (امیر عبدالسلام)کی رحلت کے بعد خواجہ فیضی آپ کو اپنے ہمراہ بردوان لے گئے آپ کی تعلیم و تربیت نانا کی نگرانی میں ہوئی،آپ کے نانا نہ صرف ایک مُغل عہدے دار تھے بلکہ اپنے بلند مرتبہ آباو اجداد کے علوم و فنون سے بھی آراستہ و پیراستہ تھے انہیں کی صحبت میں حضرت سیّدنا ابوالعُلاتیزی کے ساتھ کمال معرفت تک پہنچے ۔

(حجۃ العارفین ،ص59)

بقول نجات قاسم;207;

’’تھوڑے ہی دِنوں میں جملہ علوم میں وحید العصر اور سب فنون میں فرید الدہر ہوگئے ‘‘

(نجات قاسم،ص15)

آپ اپنے نانا کے ذریعہ فن سِپہ گری اور تیراندازی میں بے مثال ثابت ہوئے ،معاملہ فہمی ،راست گوئی،خوش تدبیری،اِستقلال،شُجاعت اور جواں مردی کا بہت جلد اعلیٰ نمونہ بن گئے ۔

جب دِل بالکل اللہ کی جانب متوجہ ہوا تو بردوان (بنگال)سے کہیں دور جاکر عبادت میں مشغول ہونا چاہا ،بہ سلسلہَ ملازمت بردوان میں مقیم تھے کہ شہنشاہِ وقت محمد اکبرماہ اکتوبر 1014ھ1605ء میں کوچ کر گیا،نورالدین محمد جہاں گیر (متوفیٰ 1037ھ1627ء)تخت ِ شاہی پرجب رونق افروز ہوا تو عنانِ حکومت (1014ھ1605ء) میں لینے کے بعد ایک فرمان جاری کیا کہ’ ’جملہ صوبے دار ،مَنصَب دار ،ناظم اور اُمراء آگرہ شاہی دربار میں حاضر ہوں ‘‘ تاکہ اُن کی ذہانت ،قابلیت،وجاہت اور شخصیت کو پَرکھا جائے آپ تو خود ہی ملازمت سے بے زار تھے اور اس راہ کو ترک کرکے دوسری راہ اختیار کرنا چاہتے تھے جب یہ شاہی فرمان بردوان پہونچا تو اُس کو تائید غیبی سمجھ کر سفر پر نکل پڑے ،بردوان سے شہر عظیم آباد(پٹنہ)ہوتے ہوئے منیر شریف پہونچے کسی نے یہ اطلاع دی کہ یہاں فاتحِ منیر حضرت امام محمد المشتہر بہ تاج فقیہ قدس سرہٗ کے نبیرہ اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری قدس سرہ ٗ(متوفیٰ 782ھ)کے خانوادہ سے وابستہ حضرت ابا یزید مخدوم شاہ دولت منیری قدس سرہ ٗ( متوفیٰ 1017ھ) تشریف رکھتے ہیں ،واضح ہوکہ خانقاہ سجادیہ (داناپور)انہیں بزرگ کی اولاد امجاد سے ہے ۔

موَلف نجات قاسم لکھتے ہیں کہ

’’یہ ننگ خاندان کاتب(محمد قاسم) اس رسالہ کا بھی اولاد ناخلف سے انہیں حضرت مخدوم یحییٰ منیری قدس سرہ کے ہے القصہ حضرت محبوب جل وعلاکو یہ احوال سُن کر مخدوم شاہ دولت قدس سرہ کی ملاقات کا ا شتیاق ہوا‘‘(ص28)

موَلف آثارِ منیرلکھتے ہیں کہ

’’آپ(مخدوم دولت منیری) کی بزرگی کا شہرہ سُن کر آپ کی خدمت اقدس میں آئے شرف ِ ملاقات حاصل کیا اور پہلا فیض آپ ہی سے لیا جس کے جلوے نے ابوالعلائیت کا شہرہ بلند کردیا‘‘(ص35)

جب اکبرآباد (آگرہ)پہونچے تو جہاں گیر کے دربار میں آپ کے حُسن و جمال کے چرچے ہونے لگے ایک روز دیوان ِخاص میں جہاں گیرنے لوگوں کی آزمائش کی خاطر نارنگی پہ نشانہ بازی رکھا، خیال ہواکہ احضرت ا میر ابوالعُلا کو بلاوَ چنانچہ حضرت کا پہلا نشانہ (نارنگی پے)خطا کرگیا لیکن دوسرا نشانہ دُرست ہوا آپ کی اِس سُبک دستی پر سب حیران تھے خوشی کے مارے جہاں گیر نے ایک جام شراب کا آپ کو بڑھایا لیکن آپ نے نظر بچاکر شراب کو آستین میں ڈال دیا، بادشاہ نے گوشہ َ چشم سے دیکھ لیا اور کَبیدہ ہوکر کہا کہ یہ خود نمائیاں مجھ کو پسند نہیں نشہَ شراب میں بدمست توتھا ہی ،پھر جام دیا اور حضرت نے پھرویسا ہی عمل کیا، نہایت تُرش رو ہوکر کہا’’کیا تم غضب سلطانی سے نہیں ڈرتے ہو ‘ ‘بس اب محبوب جل و عَلا کو جلال آگیا اور فرمایا ’’ میں غصب خدا و ررسول سے ڈرتا ہوں ناکہ غضب سلطانی سے‘ ‘نعرہ مارا سب کے سب کانپ اُٹھے پھر مرضیَ خدا دو شیر غرّاں آپ کے دونوں جانب نمودار ہوگئے خوف و بد حواس میں سارے کے سارے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے بقول نجات قاسم;207;

’’یہ بیت پڑھتے آپ باہر (دربار سے)نکلے‘‘

ایں ہمہ طمطراق کُن فیکُن

ذرہَ نیست پیش اہل جنوں

(انفاس العارفین،ص22نجات قاسم،ص33)

خواجہ بزرگ حضرت سیّد معین الدین حسن چشتی قدس اللہ سرہٗ(متوفیٰ 633ھ) کے حکم سے آپ اپنے عمِ معظم حضرت امیر عبداللہ نقشبندی( متوفیٰ1033ھ) سے مرید ومجاز مطلق ہوئے کچھ عرصہ بعدحضرت عم محترم نے خلافت سے نواز کر آپ کو خاندانی (جدّی و مادری)تبرکات تفویض فرمائے ۔ (انفاس العارفین،ص21)

بقول نجات قاسم;207;

’’بوقت وفات کہ حضرت امیر (عبداللہ)نے حضرت محبوب جل و عَلا کو اپنا سجّادہ نشین کرکے بارامانت قُطبیت کا آپ کے تفویض کیا‘‘(ص51)

واضح ہوکہ آپ کو سلسلہَ چشتیہ کی خلافت حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہٗ سے براہِ راست (فیض اویسی )تھی جب کوئی سلسلہَ چشتیہ میں بیعت ہونا چاہتا تو خواجہ بزرگ کے بعد اپنا نام تحریر فرماتے، حضرت شاہ حیات اللہ منعمی لکھتے ہیں

’’ میں نے دارالخیر اجمیر میں خادموں کے پاس اگلے وقت کے شجرے سلسلہَ چشتیہ ابوالعُلائیہ کے اسی ترتیب سے لکھے ہوئے دیکھے‘‘(ص114)

اِسی طرح ہمارے حضرت نے طالبوں کو معرفت کا جام پلایا اور خوب پلایا جس کی رَمق آج بھی خوب سے خوب تر نظر آتی ہے ۔

حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلاشعروشاعری کا بھی آپ ذوق رکھتے تھے ،سیماب;207;اکبرآبادی لکھتے ہیں

’’آپ شاعر تھے ایک رسالہَ مختصر جو مسائل’ فناو بقا ‘پر مشتمل ہے آپ کی تصنیف سے موجود ہے اس کے علاوہ چند مکتوبات اور ایک مختصر سا دیوان بھی آپ کی یادگار ہے‘‘(کلیم عجم،ص147)

صاحب ’تذکرۃ الاوَلیائے ابوالعلائیہ‘ لکھتے ہیں

’’آپ انسان;207; تخلص کیا کرتے ،آپ فرماتے ہیں ;242;

سررِشتہَ نسب بہ علی ولی رسید

اِنسان;207; تخلصم شد نامم ابوالعُلاء‘‘

(ص14)

موَلف حجۃ العارفین لکھتے ہیں

’’اور جو کچھ آنحضرت کی اپنی تحریر ہیں ،اس کمترین کی نگاہ سے گذراہے وہ ایک بیت اور ایک مصرع ہے ;242;

الٰہی شیوہ َمردانگی دہ

زنا مردان دین بیگانگی دہ

عبہر حالیکہ باشی با خدا باش

اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ یہ شعر بھی ارشاد فرماتے تھے ;242;

جدائی مبادامرازخدا

دگر ہر چہ پیش آیدم شایدم‘‘

(ص73)

موَلف نجات قاسم;207; لکھتے ہیں

’’ہر وقت آپ کی زبان پر ایک شعر موزوں رہتا ;242;

دردم ازیارست ودرمانیز ہم

دل فدائے او شدہ و جاں نیز ہم ‘‘

(ص61)

موَلف مِراۃ الکونین کہتے ہیں ’’وجد و سماع میں بہت مشغول رہتے کبھی کبھی غایت جذبہَ شوق میں یہ شعر حافظ;207; کا پڑھتے ;242;

فیض روح القُدس ار باز مدد فرماید

دیگراں ہم بکنند آں چہ مسیحا می کرد‘‘

(ص418)

آپ کی تصنیفا ت میں مشہور رسالہ ’’فنا وبقا‘‘ہے اس کے علاوہ آپ کے مکتوبات بموسومہ’’مکتوبات ابوالعلا‘‘یہ بائیس مکاتیب پر مشتمل ،تشنہَ طبع ہے ۔

حضرت سیّدنا امیر ابوالعُلا ایک مدت تک بیمار رہے جس سے نشست و برخاست میں کافی تکلیف ہوتی تھی بیماری نے طول کھینچا ،روز بروز کمزور ہوتے گئے ،آخری ایّام میں آپ کا کھانا پینا برائے نام ہو گیا ،حضرت امیر نورالعُلا فرماتے ہیں

’’ میں اس وقت خدمت میں حاضر تھا لیکن رات بھر جاگنے کی وجہ سے کچھ غنودگی تھی اسی وقت میں نے دیکھا کہ حضرت فرمارہے ہیں ،بابا! میں اپنی مرضی سے جاتا ہوں ،صبح تک میں ہوں فوراً بیدار ہوگیا کہ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی ہے ،جیسے ہی صبح ہوئی،آنحضرت کی ذات مبارک میں گویا شورش برپاہوگئی اور ایسا محسوس ہواکہ آپ کے ہر بن منھ سے ذکر حق جاری ہے،اس کیفیت میں آپ واصل بحق ہوے‘‘

(حجۃ العارفین،ص91،نجات قاسم;207;،ص116)

اُسی حالت میں آپ کی روح پُرفتوح ،گلزار جنان اور فضائے لامکان کی طرف پرواز کرگئی ،یارانِ ابوالعُلاکا حلقہ ہِجر میں تبدیل ہوگیاوہ وقت نماز اشراق بروز سہ شنبہ 9صفر المظفر 1061ھ بمقام اکبرآباد(آگرہ) تھا ، بقول صاحب تذکرۃ الکرام

’’حضرت امیر نورالعُلا اکبرآبادی نے قطعہَ تاریخ رحلت کہی ہے ;242;

در سِن الف وواحد وستین

شُدمقامش مقام علین

یافت تاریخ اودل غمناک

’’رفت قطب زمان بعالَم پاک‘‘

1061ھ

(ص661)

حضرت محبوب جل و عَلا کا مزار پُرانوار آگرہ میں مرجع خلائق ہے ،آستانہ اور احاطہ َ آستانہ جنت کا نظارہ دکھلارہا ہے ،جہاں تمام مذاہب کے لوگ اپنی مُرادوں کو لے کرحاضر ہوتے ہیں اور دِل کی مراد پاکر واپس جاتے ہیں ،عُرس سَراپا قُدس 9صفر کو عظیم الشان پیمانے پر منایا جاتا ہے ۔

آباد رہے آگرہ تاحشرالٰہی

اکبر;207;ہیں یہاں جلوہ گرانوارِ محمد

(حضرت شاہ محمد اکبر;207;ابوالعلائی داناپوری)

خَانقَاہ سجَّادِیہ ،شاہ ٹولی (داناپور)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *