تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں!

admin

محمد اسعد فلاحی

ہمت، حوصلہ، شجاعت، بہادری اور دلیری جیسی عظیم صفات موجودہ دور کے کسی خطے میں دیکھنی ہوں تو فلسطینی مسلمانوں کی طرف ایک نظر ڈال لینا کافی ہوگا۔ ان کی بہادری کی داستانیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہورہی ہیں۔ ان کے بلند عزائم عالم اسلام کے لیے مثال بن گئے ہیں۔ ان کی شجاعت خلفائ راشدین کے دور کی یاد تازہ کراتی ہے۔ ان کی دلیری ہم جیسے کم زور ایمان والوں کے ایمان کو ترو تازہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ مادیت کے اس دور میں ایسے بہادروں کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ دنیا میں ایسے بلند حوصلہ انسان بھی رہتے ہیں۔ کس مٹی کے بنے ہیں یہ لوگ؟ کیسے ہیں یہ انسان؟ کس چیز نے انھیں ایسا بنا دیا کہ بغیر اسلحہ کے ننگے بدن ظالم اسرائیل کی  اسلحہ سے لیس اور منظم فوج کے سامنے سینہ تان کریوں کھڑے ہو جاتے ہیں، گویا کہ رہے ہوں؎

ادھر آستم گر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

حال میں ظالم و جابر امریکہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے  یروشلم منتقل کر دیا ہے۔ اس غاصبانہ قبضے کے خلاف تمام جواں حوصلہ فلسطینیوں نے زبردست احتجاج بلند کیا اور امریکہ کے اس فیصلے کی پر زورمخالفت کی۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے ظالم اسرائیلی  فوجیوں نے نہتے فلسطینوں پر حملہ کر دیا، ان پر فائرنگ کی، گولے برسائے اور توپیں داغیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج میں اب تک تقریباً ساٹھ (60) افراد شہید اور تین ہزار(3000) زخمی ہو چکے ہیں۔

  ارض فلسطین پر ظلم و ستم اور بربریت کی یہ کہانی  کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس کی تو نہ ختم ہونے والی ایک مسلسل داستان ہے، جس میں ہزاروں بے گناہ معصوم فلسطینی جام شہادت نوش فرما چکے ہیں، لاکھوں مصیبتوں و پریشانیوں کا شکار ہیں، ہزاروں معصوم بچے گولیوں سے چھلنی ہو چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود نہ تو ان کے ماتھوں پر شکن ہے اور نہ ان کے بلند حوصلوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ فلسطین میں بسنے والے تمام افراد جس میں بزرگ، نوجوان، مرد وخواتین حتی کہ بچے بھی شامل ہیں۔ وہ ارض فلسطین پر اپنی جانوں کو قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ان نہتے لوگوں کو، اسلحہ سے لیس  ظالم اسرائیلی فوجیوں کے آگے صرف ایک معمولی غلیل کے سہارے کھڑے ہونے کی قوت عطا کرتا ہے۔ وہ نہ تو ظالم اسرائیل کی توپوں سے خوف کھاتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کی گیدڑبھبھکیوں سے ڈرتے ہیں۔ وہ اپنی پیشانیوں پر توحید کا پرچم باندھ کر نکلتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ خدا وند قدوس ان کی ان عظیم قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا اورجلد ہی ارض فلسطین پرآزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *