جمعیۃعلماء (ارشد مدنی) کی کوشش سے نو سال کے بعد25افراد باعزت بری

دھولیہ جمعیۃ علماء کی شاندار کامیابی پر گلزار احمد اعظمی کی مبارکباد

Azhar Umri Agra

ممبئی
مہاراشٹر کے حساس شہر دھولیہ میں گستاخ رسول ﷺ کی گرفتاری کے لئے احتجاج کرنے والوں پر پولس نے لاٹھی چارج اور فائرنگ کی۔نیز مظاہرین میں سے 25افراد پر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کردیا،جو گزشتہ9سالوں کی سماعت کے بعد ناکافی ثبوت (گواہوں کی عدم دستیابی)کی بنیاد پرعدالت سے باعزت بری ہوگئے۔
2010 میں دھولیہ کلکٹر آفس کے نوٹس بورڈ پرآپ ﷺ گستاخانہ خاکہ بنایا گیا تھا،جس کی اطلاع مسلمانوں کو ہوئی تو اس گستاخ کی گرفتاری کے مطالبہ کو لیکرمسلمانوں نے80 فٹ روڈ ترنگا چوک،دھولیہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔لیکن اس احتجاج میں پولس نے گستاخ کو گرفتارکرنے کے بجائے مظاہرہ کرنے والے مسلم نوجوانوں پر گولی باری کی اور لاٹھی چارج کر دیا،جس میں ایک شخص شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
پولس تھانے میں 25/بے گناہ افراد کے خلاف دفعہ 33,353,307,149,147,143,341,333,2, کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،جن کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے جمعیۃعلماء دھولیہ نے دھولیہ کے مشہور و معروف وکیل ایڈوکیٹ اشفاق شیخ کی خدمات حاصل کی۔ نو سالوں کی عدالتی کارروائی کے بعد گزشتہ دنوں سیشن کورٹ کے جج شری ایس آر اوگلے (کورٹ نمبر ۲) نے تمام ملزمین کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر باعزت بری کردیا۔
۹/ سالوں کے بعد مسلم نوجوانوں کی مقدمہ سے باعزت رہائی پر جمعیۃعلماء مہاراشٹر سکریٹری قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی وکلاء اور ملزمین کی پیروی کرنے والے مقامی جمعیۃعلماء کے ذمہ داران غلام مصطفیٰ (پپو ملا)،الحاج مشتاق احمد صوفی وغیرہ کو مبارکباد پیش کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *