حضرت سید علامہ محمد علی شاہ میکش صاحب 

( سید فیض علی شاہ علی شاہ قادری نیازی)

Azhar Umri Agra

مفکر اسلام شیخِ طریقت مرشد نا سیدنا مولانا سید محمد علی شاہ جعفری قادری نظامی نیازی علامہ میکش اکبرآبادی دنیائے ادب اور تصوف کی ممتاز شخصیت کا نام ہندوستان کی مشہور صوفی شخصیت اور اُردو کی استاد شاعر کی حیثیت سے ساری دنیا میں جانے جاتے ہیں ، ساتھ ہی شیخ طریقت عالم دین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ،یہی آپ کی مورثی پہچان بھی ہے،

آپ کی ولادت 3 مارچ1902 میں ہوئی والد کا نام سید اصغر علی شاہ جعفری قادری نظامی تھا ، حضرت میکش آگرہ کے ایک ایسے مشہور و ممتاز خاندان کے فردِبزرگ ہیں جو بلحاظ شروفت و نجابت اور بحیثیت تقدس ظاہروباطن اپنا جواب نہیں رکھتا اور چونکہ گزشتہ صدری عیسوی میں حامل عنانِ نظم و نسق شہربھی رہ چکا ہے، اس لئے قریب قریب تمام دینی و دیناوی و جابتوں کا طرہ امتیاز اپنے سر پر لگائے ہوئے ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آگرہ کی کوئی تاریخ کوئی فیملی خاندان اور کوئی شخصیت ایسی نہیں ( جو ا نتہائی عظمت اور دلی محبت کے ساتھ اس گھرانے کا نام نہ لیتی ہو)چونکہ آگرہ کے تمام سجادگان خصوصی کا سلسلہ ارادت آپ کے جد امجد مولوی سید امجد علی شاہ ;231;تک پہنچتا ہے اس لئے اس آستانہ کی جبیں سائی ارض تاج میں علی العموم باعث فخر و مبابات سمجھی جاتی ہے، اور جناب میکش مسلم طور پر اس خاندان کے وارث اور جانشین مانے جاتے ہیں ،

علامہ میکش اکبرآبادی کا صوفیانہ مسلک وراست میں ملا اور آپ کا خاندان قادری سلسلے سے وابستہ چلا آتا ہے ،آپکے جد سید مظفر علی شاہ صو فی بزرگ تھے، سلسلہ قادریہ چشتیہ نظامہ نیازیہ سے تعلق رکھتے تھے، اہل سنت و الجمعات حنفی فقہ کے مقلدتھے اہل بیت کے عاشق اور صحابہ کا حترام کرنے والے تھے فرماتے ہیں ،

میکش میرا مرتبہ نہ پیچھو، ہوں پنجتنی وچاد یاری

حضرت میکش اکبرآبادی صاحب قبلہ وحدت الوجودکے ماننے والے ہیں ، شیخ اکبر ابن عربی رح کے حوالے سے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے، اسلامی صوفی خصوصاشیخ اکبرابن عربی کی مقلدین اور جمہور صوفیہ کا مسلک یہ ہے کہ ظاہر و باطن خداکے سوائے کوئی موجود نہیں ہے یہ ریکھائی دینے والا عالم جو خدا کا غیرمحسوس ہوتا ہے اور جسے ماسواکہتے ہیں ، ماسوانہیں ہے نہ خدا کے علاوہ اور غیر ہ بلکہ خدا کا مظہر ہے خدا اپنی لا انتہاشانوں کے ساتھ عالم میں جلوہ گر ہے، یہ غیرت وکثرت جو محسوس ہوتی ہے ، ہمارا وہم اور صرف ہماری عقل کا قصور ہے یعنی ہم نے اسے غیر سمجھ لیا ہے درحقیقت ایسا نہیں ہے ، حضرت ابن عربی نے کہا ہے ، الحق محسوس الخلق معقول یعنی جو کچھ محسوس ہوتا ہے اور ہمارے حواس جس کو محسوس کرتے ہیں و ہ سب حق ہی ہے، البتہ ہم جو کچھ سمجھتے تھے وہ مخلوق ہے یعنی مخلوق ہماری عقل نے فرض کر لی ہے در حقیقت نہیں ،

نظریہ اور مزاج پر آپ فرماتے ہیں کہ ذاتی حیثیت سے میں نے کسی مسلک کو ترجیح دینے کی کوشش کی اور نہ کسی مخصوص گرپ یا گروہ کی نمائندگی کی ہے، استدلال کی بات اس سے الگ ہے، اور وہ کسی کے بھی موافق اور کسی کے بھی خلاف ہو سکتا ہے ، لیکن میں گزرے ہوئے بزرگوں کا ادب اوران کی خدمت میں حسن ِظن اختلاف خیال کے باوجود ضروری سمجھتا ہوں ، اور ان کے باہمی اختلاف کو آزاد یئے خیال اور صداقت کا مظہر سمجھتا ہوں ، کوئی قوم اور ملک ایسا ایسا نہیں ہے جہاں باری اور پیغمبر نہ آئے ہو ں عرب اور عراق ہو یا ایران اور ہندوستان خداکی رحمت اور تعلیم سے کوئی محروم نہیں رہ سکتا لیکن ان پیغمبروں کی تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں ، ان میں ہمارے فہم اور معتقدات و روایات نے بھی تصرف کیا ہے ، جو کبھی تحریف اور کبھی تاویل کی شکل اختیار کرتا آیا ہے ، اور یہیں سے اختلاف شروع ہو جاتے ہیں یہ اختلاف جس طرح ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں باہم ہوتے ہیں ، اس طرح دوسرے مذاہب کے مقلدین سے بھی ہوتے ہیں ، لیکن ہ میں اپنے مزاجوں صورتوں اور آپ وہوا کے اختلافات کی طرح ان اختلاف کی طرح ان اختلافات کو بھی فراخ دلی سے برداشت کرنا چاہئے اور جب ہم ساری دنیاکے ہم خیال نہیں ،

آپ نے درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ عالیہ آگرہ سے کی ، ان کا مشغلہ تصنیف وتالیف رہا، 25اپریل 1991 کو آگرہ میں انتقال کرگئے ، ان کی تصانیف اور تالیفات کے نام یہ ہیں مے کدہ ،حرف تمنا( شعری مجموعے) نغمہ اور اسلام ( جواز سمع ) نقداقبال ( تنقید ) شرک وتوحید ( مذہب) حضرت غوث الاعظم (مذہب) مسائل تصوف( ادب) ، حرف تمنا، نقداقبال اور مسائل تصوف پر اُترپردیش اُردو اکادمی کی طرف سے انعمات ملے ، وہ شاعر کے علاوہ نقاد اور ماہر اقبالیت و تصوف تھے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *