دنیا بھر میں 5سال سے کم عمر کے 20 کروڑ بچے خوراک کی کمی یا موٹاپے کا شکار ہیں، یونیسیف

Ashraf Ali Bastavi

اقوام متحدہ :  اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارہ یونیسیف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں5 سال تک کی عمر کے تقریباً 200 ملین بچے ذہنی اور جسمانی نشونما کے لیے خوراک کی کمی یا موٹاپے کا شکار ہیں اور 6 ماہ سے 2 سال تک کے دو تہائی بچوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو دائریکٹر ہینریٹا فوری نے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ کے حوالے سے خبردار کیاہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے ٹیکنالوجی، ثقافتی اور سماجی ترقی کے باوجود بچوں کی ابتدائی نشونما کے حوالہ سے بنیادی حقائقکو نظرانداز کیا گیا ہے.

اگر بچے اچھی خوراک نہیں کھائیں گے تو ان کی نشونما میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یونیسیف کے اعدادوشمار کے مطابق رپورٹ میں خوراک کی کمی، بھوک یعنی ضروری غذائی اجزاء اور موٹاپے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ5 سال سے کم عمر کے 149ملین بچے اپنی صلاحیتوں یا قد میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ 50 ملین بچے اپنے قد کے لحاظ سے بہت کمزور ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ5 سال سے کم عمر کے 340 ملین بچے فولاد اور وٹامن اے جیسے دیگر ضروری غذائی اجزا کی کمی اور 40 ملین بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں6ماہ سے 2سال کی عمر تک کے 45 فیصد بچوں کی خوارک میں پھل اور سبزیاں شامل نہیں ہوتے اور 60 فیصد بچے انڈے، دودھ، دہی، مچھلی اور گوشت نہیں کھاتے جو بچوں کی افزائش اور نشونما کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں جبکہ غیر غذائیت بخش کھانے جیسے فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات بڑے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ لاکھوں بچے غیر صحت بخش غذا کھانے پر مجبور ہیں لیکن ہمیں غذائیت کی ضروریات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہیں اسکا یہ ملب نہیں کہ بچے بہت زیادہ کھائیں بلکہ بچوں کو متوازن، حفظان صحت اور غذائیت سے بھرپور غذا کھانی چاہیئے اور یہ ہمارا سب سے عام مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل سے بچوں کی صحت بخش غذائی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *