دیسی گھی کے حیرت انگیز فوائد

admin

انسان کی پیدائش سے لیکر چودہویں صدی کے نصف تک برصغیر میں ہر کھانے کی زینت دیسی گھی ہی رہا ہے – یہی وجہ تھی کہ آج سے عرصہ قبل لوگ صحت مند زندگی گزارتے تھے – جواں جسم اور جواں حوصلےکےساتھ سخت محنت کرنا پھر بھی ہشاش بشاش زندگی گزاری –
جب سے انگریز کا یہ ڈالڈا بناسپتی گھی میدان میں آیا ہر فرد اس کے شر کا شکار ہوا نتیجتا امراض قلب امراض جگر امراض معده نے پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لے لیا – ستم بالائے ستم پھر خود ہی اس ڈالڈا بناسپتی کو بدنام کرنا شروع کر دیا کہ یہ کولیسٹرول پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے – پھر اس کی جگہ آئل نے لے لی مگر کولیسٹرول جوں کا توں برقرار رہا ہے – اصل بات یہ ہے کہ انگریز جیسے شیطان کو کولیسٹرول کا فلسفہ ہی نهیں پتہ اور نہ ہی طبع انسانی سے اسے واقفیت ہے

ڈالڈا گھی اور آئل دونوں ہی عضلاتی اعصابی تاثیر رکھتے ہیں – جو نبضوں میں سکیڑ کا باعث بن رہیں ہیں – جب کہ بھینس کا گھی اعصابی عضلاتی. گائے کا اعصابی غدی تاثیر کا حامل ہے جو نہ تو کولیسٹرول پیدا کرنےکا باعث بنتا ہے – اور نہ ہی امراض قلب و جگر پیدا

کرتا ہے – آئیں دیکھتے ہیں اس میں کیا کیا خصوصیات موجود ہیں –
روایتی یونانی طبی اور جدید سائنس کی ہزاروں سال کی تحقیق کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیسی گھی صحت اور کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لئے ایک مفید جزو ہے- یہاں پر دیسی گھی کے چند فوائد بیان کئے گئے ہیں ۔
کھانے کا ذائقہ:
دیسی گھی استعمال کرنے سے کھانے کے ذائقہ میں بہتری آتی ہے – اور ہزاروں سال سے کھانے پکانے کیلئے گھی کا استعمال کیا جا رہا ہے – جس میں پکانے سے کھانا خوش ذائقہ ہو جاتا ہے ۔
خراب نہیں ہوتا:
اچھی کوالٹی کا دیسی گھی ریفریجریشن میں رکھنے کے بغیر بھی خراب نہیں ہوتا جب کہ گھی کے کچھ نمونے 100 سال تک خراب نہیں ہوئے ۔ گھی مکھن سے تیار کیا جاتا ہے – جس میں دودھ سے دہی اور پھر مکھن تیار کیا جاتا ہے ۔
غذائیت:
گھی میں وٹامن A ,D اور E وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں – جو استعمال کے بعد براہ راست جسم کو کاربوہائیڈریٹ فراہم کرتا ہے – اور جسم میں توانائی اور وزن فراہم کرنے کا کام کرتا ہے ۔ گھی میں موجود غذائیت براہ راست جگر کے لئے مفید ہے – اور آسانی سے جسم میں جذب ہو جاتی ہے ۔ گھی میں درمیانے درجے کے فیٹی ایسڈ کی بھی بڑی مقدار پائی جاتی ہے – جو جسم میں توانائی ذخیرہ کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔
وزن میں کمی:
دیسی گھی میں موجود فیٹی ایسڈ توانائی کے نظام کو متوازن رکھنے – چربی جلانے اور وزن کم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
مدافعتی نظام:
دوسروں تیلوں کے برعکس گھی میں موجود ایسڈز آنتوں میں بیکٹریا جمع نہیں ہونے دیتا – اور اس میں موجود فائبر مدافعتی اور نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے ۔
نظام انہضام:
جدید تحقیق کے مطابق گھی جسم میں نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے – اور اس میں موجود ایسڈز خوراک کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔
سوزش اور کینسر:
محققین کے مطابق گھی بیماریوں سے بچاﺅ میں بھی مدد فراہم کرتا ہے – گھی میں موجود اجزاء جسم کی سوزش ختم کرتے ہیں – جب کہ کینسر سے بچاﺅ میں بھی گھی کا استعمال معاون ہے ۔ روایتی ادویات میں گھی ہزاروں سال سے سوزش کم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
بھوک میں اضافہ:
گھی میں موجود اجزاء نظام انہضام کو بہتر بناتے ہیں – جس کے نتیجہ میں بھوک میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ذہن کو سکون بھی فراہم کرتا ہے ۔ جدید تحقیق کے مطابق منفی جذبات ایک کیمائی عمل کے نتیجہ میں اُمڈ آتے ہیں ۔ جو کہ جسم میں چربی جمع ھونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ گھی اس کیمیمائی عمل کو روکتا ہے ۔
ادویات کی تیاری:
روایتی طبی اور یونانی ادویات میں ہزاروں سال سے گھی استعمال کیا جا رہا ہے – جس کی بڑی وجہ یہ ہے – کہ یونانی اور طبی ادویات چونکہ جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہیں – اور گھی ان میں جذب ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔
گھی بنانے کا طریقہ:
گھی کو تیار کرنے کا طریقہ نہایت ہی آسان ہے ۔ گھی مکھن کو پگھلا کر حاصل کیا جاتا ہے- جو مناسب طور پر ذخیرہ کرنے سے کئی ماہ تک قابل استعمال رہتا ہے ۔ اگر اسے ریفریجریٹر میں ذخیرہ کیا جائے – تو سالوں تک یہ قابل استعمال رہتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *