سرسید اویئر نس فورم کے ذریعہ علی گڑھ نمائش میں دسواں سیمینار منعقد

Azhar Umri Agra

سرسید اویئر نس فورم کے ذریعہ علی گڑھ نمائش میں دسواں سیمینار منعقد
علی گڑھ،مشہور سماجی تنظیم سرسید اویئر نس فورم کے ذریعہ علی گڑھ مہوتسو میں مکتا کاش منچ پر دسویں سیمینار بہ عنوان ’’سرسید: ایجوکیٹر ، رفارمر اینڈ ایکٹوسٹ‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی رجسٹرار عبدالحمید، آپی ایس نے کہا کہ سرسید نے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ سبھی طبقات کے لئے کام کیا، کیونکہ سرسید کا ماننا تھا کہ جدید تعلیم حاصل کر کے ہی اس ملک کے لوگ نہ صرف انگریزوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ خود بھی ہر سطح پر مضبوط ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے آگے کہا کہ سرسید پہلے شخص تھے جنھوں نے تعلیمی ادارے میں جمہوری قدروں کو فروغ دیا۔ انھوں نے سیمینار کے ڈائریکٹر اور سرسید اویئر نس فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی اور ان کی ٹیم کو سیمینار منعقد کرنے کے لئے مبارکباد دی۔
سرسید اویئر نس فورم کے صدر اور سیمینار کے ڈائریکٹر پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ سرسید کا اس نمائش سے بہت گہرا رشتہ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید نے مذہب سے اوپر اٹھ کر سیکولر طریقے سے ایم اے او کالج کا قیام کیا اور انھوں نے کالج کے قیام کے لئے سبھی طبقات مدد لی۔ پروفیسر صمدانی نے آگے کہا کہ آج کے پر آشوب حالات میں ملک میں قومی ایکتا اور بھائی چارہ کو بڑھانے کے لئے سرسید کی تعلیمات کی بہت ضرورت ہے۔ سرسید نے کبھی کوالیٹی سے سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ فعال اور با صلاحیت لوگوں کو اپنے کالج میں نوکریاں دیں۔ انھوں نے کہا کہ علی گڑھ تحریک کو شمالی ہندوستان کی بدولت جنوبی ہندوستان میں زیادہ سمجھا اور اپنایا گیا۔ اخیر میں پروفیسر صمدانی نے کھچا کھچ بھرے مجمع سے درخواست کی کہ وہ مسلم یونیورسٹی میں قیام کے دوران یونیورسٹی کی دی ہوئی مراعات سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں اور سرسید کے خوابوں کی تعبیر بننے کی کوشش کریں۔
منگلایتن یونیورسٹی کے راجسٹرار اجیت سنگھ، (ر) ،آئی پی ایس نے کہا کہ سرسید احمد خان کو تاریخ میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید نے تعلیم میں جس سدھار کی بنیاد ڈالی تھی اس سے ملک آج تک مستفیض ہو رہا ہے۔ پروفیسر فرحت اللہ خان نے کہا کہ سرسید کا ماننا تھا کہ اتحاد کے لئے آپسی اعتماد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ سرسید اور گاندھی کے خیالات میں بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ سرسید نے سیکولرزم کا پہلا سبق اپنے گھر سے سیکھا۔ انھوں نے کہا کہ سرسید نے ایم اے او کالج کا پہلا پرنسپل ایک عیسائی اور وائس پرنسپل ایک ہندو کو بنایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرسید ہر طرح کی مذہبی عصبیت سے پاک تھے۔
شعبہ عربی کے پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے کہا کہ اگر سرسید کے سیکولرزم کو دیکھنا ہے تو ہمیں اسٹریچی ہال کو دیکھنا چاہئے جس میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندوؤں اور انگریزوں کے نام بھی شامل ہیں۔ سرسید نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ ہندو سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر صمدانی ایک سوشل پروفیسر ہیں اور وہ اپنی یونیورسٹی کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ سماجی اور ملی کام بھی کرتے رہتے ہیں اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ طلبا یونین کے سکریٹری حذیفہ عامر نے کہا کہ ہمیں سرسید کے افکار و خیالات کو مسلم یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر بھی لے جانا چاہئے اور مجھے خوشی ہے کہ یہ کام سرسید اویئر نس فورم بڑی ذمہ داری سے نبھا رہا ہے۔ اپنے صدارتی خطبہ میں منگلایتن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کے بی ایس کرشنا نے کہا کہ سرسید کو سیکولر کو بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سیکولرزم ان کی شخصیت میں رچی بسی تھی۔ سیکولرزم کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انھوں نے بدترین حالات میں تعلیم کا کام کیا جب ملک کا ایک بہت بڑا حصہ اس سے محروم تھا۔
اس موقع پر ڈاکٹر خلیل چودھری، احمدی اسکول کی پرنسپل فردوس رحمن، ڈاکٹر نجم الدین انصاری، ملکہ کپور، اور سارہ صمدانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سیمینار میں سماج کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی سرفراز کیا گیا۔ سرسید اویئر فورم ایوارڈبرائے 2019 ڈاکٹر خالد ناصر، میڈیکل کالج، کیپٹن ارون کمار سنگھ، انڈین بینک کے مینیجر کیو ندیم خان، پروفیسر ہمایوں مراد، ڈاکٹر عبید اقبال عاصم، نسیم شاہد، اور قمر عالم کو بھی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ سیمینار کی نظامت عائشہ صمدانی نے کی، مہمانوں کا شکریہ فاطمہ راؤ نے ادا کیا اور استقبالیہ ثانیہ خان نے کیا۔
اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر حیدر علی، ایڈوکیٹ شعیب علی، محمد مطاہر، منصور الٰہی،ڈاکٹر نجم الدین انصاری، رضیہ چوہان، عبداللہ صمدانی، طلت انجم، نجندر کمار، فہمینا شکیل، عدیل شیروانی، حسان الحق، فراز اختر، حنین، دانش اقبال، پون واشنی، نسیم احمد، آکاش، کیبینٹ فرحان زبیری، فاطمہ صمدانی،رحمان انصاری، ڈاکٹر مانو، انس، آکاش، عبدالقادر پاشا، سارم علی، چترانشو، یسریٰ، اویشیک آریہ، عائشہ فرہین، شارقہ محمود، اور راؤ فراز، اعجاز احمد، یونیورسٹی کے سابق کیپٹن اعظم انصاری، شیما جعفری، ماہی انصاری وغیرہ کا خصوصی تعاون رہا۔
اس سیمینار میں سرسید اویئر نس فورم کے ذریعہ سرسید کی زندگی پر ایک اسکٹ بھی پیش کی گئی اور بارہ سینی کالج کے این سی سی کیڈٹس نے شاندار پروگرام پیش کیا گیا۔ علی گڑھ بچوں کے گھر کے ہونہار طلباء کو فورم کی جانب سے نقد انعامات سے سرفراز کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *