سیماب اکبرآبادی ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ ایک علمی شخصیت تھے، پروفیسر شفیق احمد اشرفی

Azhar Umri Agra

سیماب اکبرآبادی ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ ایک علمی شخصیت تھے، پروفیسر شفیق احمد اشرفی
آگرہ۔ فخر الدین علی احمدمیموریل کمیٹی کے زیر اہتمام سینٹ جانس کالج آگرہ کے وسیع و عریض ہال میں عالمی شہرت یافتہ اردو ادیب سیماب اکبرآبادی کی یاد میں دو روزہ بین الاقوامی سیمینارکا انعقاد ہو گیا۔آج پہلے روز سیمینار کا افتتاح پروفیسر ابن کنول کے ہاتھوں انجام پایا۔ افتتاحی تقریر پروفیسر شفیق احمد اشرفی نے اور پروفیسر ابن کنول کے کلیدی خطبہ کے بعد شام غزل منعقد کی گئی، جس میں استاد موسیقی کار سکندر علی خاں نے کلام،انداز اور ترنم سے سامعین کو محظوظ کیا۔
افتتاحی تقریر میں پروفیسر شفیق احمد اشرفی نے سیماب اور ان کا فن پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ سیماب اکبرآبادی کی شاعری کی روح یوں تو کلاسیکی ہے لیکن ان کے کلام میں ترقی پسندی کے عناصر بغیر کسی مشقت کے تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ان کا عالم آشوب جو عالمی جنگ کے بعد میں منظر عام پر آیا انسان دوستی کی بہترین مثال ہے۔سیماب ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ ایک علمی شخصیت تھے۔عربی،فارسی اور انگریزی پر ان کامل دستگاہ حاصل تھی۔مثنوی مولانا روم اور قرآم شریف کا منظوم ترجمہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔سیماب کی زبان میں سلاست،روانی ،روزمرہ اور محاورہ جس بے تکلفی سے استعمال میں آتے ہیں اس کی اردو ادب میں چند ہی دستیاب ہیں۔سیماب کے سہل ممتنع اردو ادب کے بڑے سے بڑے شاعر کے مقابلے میں۔رکھا ج سکتا ہے۔
کلیدی خطبہ میں پروفیسر ابن کنول نے سیماب پر سیمینار کرانے پر فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا سیماب اکبر آبادی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔انہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف کے دامن کو موتیوں سے بھرا ہے اس کے ساتھ ساتھ صحافت کی بھی بے نظیر خدمات انجام دی ہے۔یوں تو وہ کسئی جرأد سے وابستہ رہے لیکن شاعر ان کے نام کا ایک جزو بن گیا ہے۔سیماب ایک کشادہ دل کا مالک تھے،تعصب اور تنگ دلی ان کے پاس سے ہو کر بھی نہیں گزری تھی۔جہاں قرآن کا منظوم ترجمہ ان کا کار نامہ ہے وہیں کرشن گیت بھی ان ایک لا زوال تخلیق ہے۔
تقاریر کے بعد استاد موسیقی کار سکندر علی خاں نے عاشق حسین صدیقی سیماب اکبر آبادی کی غزلوں کو بہترین انداز اور ترنم میں پیش جن کو سن کر سامعین نے استاد کے فن کو داد و تحسین سے نوازا۔شام غزل کے اختتام پر پہلے روز کے سیمینار کا اختتام ہوا کل بروز اتوار صبح دس بجے سے تین سیشن منعقد ہوں گے۔ان میں دہلی،علیگڑہ اور لکھنؤ و دیگر مقام سے آنے والے دانشور سیماب اکبرآبادی کے فن اور شخصیت کی مختلف جہات پر اپنے مقالے پیش کریں۔بین الاقوامی سیمینار کے آخری دور میں مشاعرہ منعقد کیا جائے گا جس میں معروف شعرأ اپنا کلام پیش کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *