عرس مبارک

حضرت سید مظفر علی شاہ جعفری پر خصوصی رپورٹ

Azhar Umri Agra

دورے حاضل میں تصوف ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے دنیا میں امن و آمان قائم کیا جا سکتاہے، سید محمد اجمل علی شاہ

آگرہ، تاج نگری واقع حضرت سید مظفر علی شاہ جعفری کے تین روزہ عرس مبارک کا اہتمام پنجہ مدرسہ پر کیا گیا، شہر کے اس اہم عرس پر اپنے خطاب میں درگاہ سجادہ نشین سید محمد اجمل علی شاہ نے کہا کہ

خاندان قادریہ چشتیہ کے اعظیم المراتبت بزرگ حضرت سید مظفر علی شاہ صا حب جعفری کی پیدا ئش آگرہ 1227ھ میں ہوئی آپکے جد حضرت سید امجد علی شاہ جعفری قادری سلسلہ قادریہ کے بزرگ تھے، خاندان کے وارث اور اپنے جد کے روحانی علمی نسبی جانشین تھے، اس وجہ سے آپ کی تربیت قادری سلسلہ کی بنیادی تعلیمات سے ہوئی ، لیکن ساتھ ہی آپکی طبیعت میں خاندان ِ چشت اہل بہشت کی سی سوزش اور سر مستی تھی جو وقت کے ساتھ بڈتی گئی ، بالاخرا اپنے شیخ اور جد سید امجد علی شاہ قادری کے حکم سے پہلے اجمیر شیریف پھر غریب نواز کے حکم سے بریلی شریف خانقاہِ نیازیہ قطب عالم مدار ے اعظم حضور نیاز ہے حضرت شاہ نیاز احمد قادری چشتی نظامی رضی اللہ عنہ جو آفتاب اور عطائے رسول نائب رسول فی الہند خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ کے روحانی جانشین ہیں ، کے شوخ و ذوق میں نکل گئے لیکن ظاہر ی ملاقات تقدیر کو منظور نہ تھی، جب داخل ِ خانقاہِ ہوئے تو حضرت کے وصال کا تیسرا دن تھا حضرت کے جانشین کا مل حضور تاج الولیاء شاہ نظام الدین حسین رضی اللہ عنہ کی عمر شریف بھی16سال تھی ملاقات کے شوق کا غلبہ تھا کہ ان کا خیال اپکے جانشین پر اس درجہ نہ کامل ہو اکے عرضِ بعت کرتے حضرت کے حکم سے کچھ دن قیام کا ارادہ کر لیا اسی رات حضور آفتاب قطب عالم مدارے اعظم کی زیارت بزریہ خواب ہوئی اور حکم ہوا کہ و ہ جانشین کی شکل میں ہم ہی ہیں , دوسرے دن حضرت شاہ تاج الولیاء کی ذیان گوہر بار سے بھی وہی جملے اور کچھ دل کا سن کر اعتقاد کامل ہو گیا اور بعیت سے مشرف ہو ئے ذہانت اور استقامت غیر معمولی تھی خود آپکی عمر بھی اس وقت23 سال ہی تھی مرشد کی توجہ اور محبت اس درجہ ذیادہ تھی کے اپنے روحانی درجات بہت جلدی جلدی تہ کیئے، خلافت بھی بہت کم عمر میں مل گئی تھی سلسلہ قادریہ کے ساتھ ساتھ چشتیت کا بحر زخاد سمیٹے ہوئے حضرت سید مظفر علی شاہ جعفری کا فیض روحانی ہر خاص و عام تک پہنچاشہر آگرہ میں سبھی مشایخ آپسے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے آئے ہیں ، آپکو بہت ساری ذبانوں میں کمال حاصل تھا آپکی تصنیف جواہر غیبی شریعت اور طریقت کی مشہور و معروف کیاب ہے جو ہندوستان افغانستان ایران وغیرہ کے کتب خانون میں موجور ہے، کلام فارسی کے انتخابات کتابو ں میں مل جاتے ہیں ، جس میں نعت منقبت عارفانہ غزلیں شامل ہیں ، سال ایک تنگ بجرے میں موتقف رکرذندگی کا بڈا حصہ صرف خالق ِ اکبر کے نام کر دیا 30 سیرت میں مصطفویت و کردار میں تضیویت کا عکس نمایاں نظر آتا تھانفاست کا خیال بہت غالب رہتا شریعت پہ سختی کے ساتھ کاربند تھے اپنے دور میں معاشرے میں آئی خرابیوں کو دور کیا طریقت کے اصولوں پر طالبان ِ حق کو چلنے کی سختی سے ترغیب دیتے تھے، آپکے مریدین خلفاء اور شاگردوں میں علماء شعرا ء اور اولیاء نے بہت مقبولیت حاصل کر درجہ کمال پر پہنچے، آپکے فرزند و جانشین حضرت سید اصغر علی شاہ جعفری صاحب نے آپکی تعلیمات کر فروغ دیا اور خاندانی وضعداری کو بہ شان و شوکت جاری رکھا یہی وجہ ہے کے آج بھی آپ کے عرس میں شریعت اور طریقت کے اصولوں کا پورا خیال رکھا جاتا ہے ، ہجری ماہ ربع الاول ۹ تاریخ کو اپنے اس شعرکے ورد کہ ساتھ وصال فرمایا 1299

یا رسول اللہ کریمی سیدی

انت مولائی حبیبی مرشدی

درگاہ پنجہ مدرسہ شاہی میں اپنے جد بزرگوکے پاس آرام فرماں ہیں آپکے امزار پر انوار سے ہزاروں لوگ فیض اُٹھاتے ہیں ۔

حضرت سید مظفر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا عرس اس سال بھی یہ بتاریخ ربیع الاول 9 ،10،11 ، 1441 ھ مطابق 7، 8 ،9 نومبر2019ء کو ادب و اہترام کے ساتھ درگاہ شاہی پنجہ مدرسہ آگرہ میں منایا گیا، پہلے روز9 ربیع الاول ۷ نوامبر مو عصر کی نماز کے بعد غسل کی رسم ادا کی گئی بعد نماز عشاء محفل سماع (قوالی) درگاہِ عالیہ پر ہوئی دوسرے دن 8 نوامبر10ربیع الاول کو بعد نماز فجر قرآن خوانی اور محفل ِ سماع ہوئی اور دوپہر کو لنگر تقسیم کیا گیا، عصر کی نماز کے بعد محفلِ سماع و آخر ی قل اور رنگ کی رسم کے ساتھ عرس شریف کا اختتام ہو گیا، عرس میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے لوگو ں نے شرکت کی خاص طور پر سید حیدر علی شاہ، سید شبر علی شاہ، سید شمیم احمد شاہ ، سید صنوان احمد شاہ سید یاصر علی ، سید غالب علی شاہ ، سید مہتشم علی شاہ ،سید فیض علی شاہ ، سید فائزعلی شاہ، سید نقی علی شاہ،معراج الدین ، سید محمود الزامان ، سید سلیم الزامان ، سید تنویر احمد نظامی ، سید مسعود احمد ، سید علی ، سید عرفان سلیم ، سید خاور ہاشمی ، اظہر عمری ، شارق اقبال ، منور حسین خان، شاہین ہاشمی ، سمیر قریشی ، سید تسنیم احمد ، شاہد ندیم،

انتظامیہ میں حاجی امتیاز احمد ، ذاہد حسین قریشی ، حاجی افضال احمد ، چاند نیازی ، نثار احمد صابری ، لعیق اویسی نیازی ، نایاب نیازی ، اختر اویسی نیازی ، سعید اللہ ماہر ،اعجاز نیازی ، سنی نیازی ، شاداب نیازی ، عامر نیازی ، اشرف نیازی حاجی توفیق ، سید مبارک علی ، سید ذاہد منشی ، ریاض ، دانش نیازی ، تابش نیازی ، شارق نیازی برکت علی قریشی ، فاروق بیگ ، شاداب قریشی ، کرم الٰہی جمال احمد نیازی ، جمیل الدین، چاند اصغر علی ، تاج ، مستقیم ،چودھری فیضان ، افضال نیازی ودیگر حضرات موجو رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *