فیروزآبادکے موجودہ ایس پی ایم پی نے مسلم علاقوں میں ترقیاتی کام نہیں کروائے ، ر شہر قاضی سید شاہ نیاز علی

ایس پی اُمیدوار مسلم علاقوں میں ترقی کے نام پر ووٹ کا مطالبہ کیوں نہیں کرتےْ ؟

Azhar Umri Agra

 فیروزآباد ، قدیمی شاہی بڈا امام باڈا کے جنرل سیکرٹری اور شہر قاضی سید شاہ نیاز علی نے ایس پی ایم پی اکشے یادو سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فروزآباد میں ترقیاتی کام عام عوام کے لئے نہیں کیئے، صرف وہاں پرکام ہوا جہاں پر سماجوادی لیڈر چاہتے تھے ، شہر قاضی نے کہا کہ ضلع میں سماجوادی جگہ جگہ پر ترقی کاموں کو ڈھیڈوھورا پیٹ رہی ہے، جبکہ سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کام کرانے میں ضلع میں تعصب کیا گیا، اب وہی پارٹی اور امیدوار ان کے حقوق کے لئے ووٹ دالنے کے لئے باہر آئے ہیں، عوام اس طرح کے اُمیدواروں کیبارے میں شوچنا چاہیے، شہر قاضی نے کہا کہ سماجوادی پارٹی نے کون سے مسلم علاقہ کو پاش کولونی بنایا، نئی آباردی میں کون سی دلدل مشتمل گلی کی بد قسمتی کو بدلا، مسلم علاقہ کی ترقی کے لئے کون سی منصوبہ بناکر سطح پر لائی گئی ، ایس پی کے ایم پی تھے اُور حکومت بھی ایس پی کی تھی، بہت کچھ ہو سکتا تھا لیکن فیروزآباد کی عوام کواکشے یادو سے ترقی کی اُمید تھی ، وہ مکمل نہیں ہوئی ، کیا مسلمان دل دل بنے علاقیوں کو بھول کر ۱۰۰ بستر اسپتال کے نام پر ووٹ ایس پی کو ڈالے، یا بنیادی ضرورت کو بھول کر ہائی پروفیشنل میڈیکل کالج کے نام پر ووٹ دیں؟ہمارے معاشرہ کی پہلی ضرورت تعلیم ، ترقی اُور روزگار ہے ، جس کے لئے ابھی تک کسی نے کچھ نہیں کیا، انتخاب کی آمد پر نصف اینٹ رکھ کر ڈگری کالج نہیں بنایا جاتا، ترقی کے نام پر ٹیکس میں اضافہ اسی سماجوادی حکومت میں ہوا، مونسپل کارپوریشن کے ملازم خود انتظامی نظام کے تحت گھر کا ٹیکس اُور پانی کا اضافیائی ٹیکس آج بھی وصول رہے ہیں، جبکہ مسلم اکثریت کے علاقوں میں سڈک تو دور نائی کھرنجے تک نہیں ہیں،نمازی ہوں یا اسکول کے بچے تمام کو مٹی اور بڈھتی ہوئی نالیوں کے روستی جانے کے لئے مجبور ہیں، ایس پی اُمیدوار مسلم علاقوں میں ترقی کے نام پر ووٹ کا مطالبہ کیوں نہیں کرتےْ ؟
شہر قاضی نے کہا کہ ہمارا احتجاج ایم پی اکشے یادو سے نہیں بلکہ ان کی پارٹی کی نقطہ نظر سے ہے، اس وجہ مسلم علاقے اب بھی ترقی سے مہروم ہیں، اسی وجہ سے مسلم معاشرے میں ایم پی کے خلاف ناراضگی ہے، سید شاہ نیاز نے کہا کہ انتخابی منشور جاری کرے، شہر قاضی نے تمام لوک سبھا اُمیدواروں سے کہا کہ وہ لوک سبھا سطح پر انتخابی منشور جاری کریں اور عوام کے درمیان جائیں ، رہی بات قومی اور ریاستی حکومت کے طرف سے منصوبوں کی تو وہ تو ہر حکومت اُسے لاتی ہے، اور پورے معاشرے کو فیض ہوتا ہے، شہر فیروزآباد میں ایس پی حکومت میں شروع ہوئی آسرا منصوبہ کے ۸۴ مکان آج بھی اختصاص شدہ نہیں ہوئے ، جبکہ بی جے پی حکومت میں وزیر اعظم ہاوسنگ سکیم میں تمام مسلمانوں کو فائدہ پہچاہے، ایس پی ایم پی اکشے یادو اُور اُن کا فنڈ کے ذیعہ صرف اُن علاقوں کی ترقی ہوئی جو ایم پی کے ساتھ رہتے ہیں، میرے رابطہ میں بہت سے مسلم پارٹی کارکن ہیں، جن کو ایس پی نے نظر انداز کر دیا، عوام کے درمیان ایس پی اُمیدوار کی جانب ایک منفی سوچ پیدا ہو گئی ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *