قابل تعظیم جناب حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب !السلام علیکم

admin

ہم ناچیز پینٹ شرٹ والے مسلمانوں کے لیے آپ جیسے دیندار عالم سے ملاقات کا شرف حاصل کرنا جوئے شیر لاناہے ، اول تو ہم لوگوں میں دین کی سمجھ ہی نہیں ہوتی ، دوسرے اگر سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، کچھ سوالات سامنے رکھتے ہیں تو مقدس روحیں فوراً ہمیں دین سے دوری کا احساس دلانے لگتی ہیں ، ویسے ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور مسلمان ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں اور یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضری ہو۔ من بے چین ہوتا ہے تو آپ جیسے کچھ چنندہ علما سے گفتگو کرکے کچھ اطمینان قلب حاصل کرنے کی جستجو کرتے ہیں ، تاہم آپ کو پریشانی نہ ہو ، اور آپ کے کام اور آرام میں خلل نہ ہو،اس لیے عوامی پلیٹ فارم سے ہی آپ سے محو گفتگو ہوں۔
جناب حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب!

آپ کا اقبال بلند رہے اور آپ قوم کی تکلیفوں کا مداوا کرتے رہیں۔ عرض خدمت یہ ہے کہ قوم کو کچھ پریشانیاں لاحق ہو گئی ہیں ، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ ان پریشانیوں ، تکلیفوں اور خدشات کو دور کرنے اور سنگین مسائل کو حل کرنے میں معاون و مثبت کردار ادا کریں گے۔

قوم پر جب بھی کسی طرح کی مصیبت آئی ہے ، جمیعۃ العلما ہند نے فعال کردار ادا کیا ہے ، اس کی تاریخ سے ہم سب آشنا ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کے حصہ کی جمیعۃ آج بھی مسلمانوں کو لاحق کچھ پریشانیوں سے نکالنے کی اہل ہے۔ آپ کی تنظیم ’مین پاور‘ کی ہے ، ہر جگہ آپ کے فرمانبردار موجود ہیں ، جو آپ کی حصولیابیوں اور سرگرمیوں کی قسمیں کھاتے ہیں۔

جیسا کہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ سرکار کی کارکردگیاں اور اس کی سرگرمیاں ملک و ملت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو تی جارہی ہیں۔ سماج کا انتشار اس کا ثبوت ہے۔ معاشی اور سماجی طور پر ملک کمزورسے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس مورخہ یکم مئی کی ایک خبر نے میری طرح بہت سے مسلمانوں کوبہت زیادہ پریشان کر دیا ہے ، یہ خبر گڑگاؤں کی ہے ، جہاں ہندوتووادی طاقتوں نے ریاستی سرکار پر یہ کہتے ہوئے دباؤ بنانا شروع کر دیا ہے کہ جہاں مسلمانوں کی 50فیصد آبادی ہوگی وہیں نماز پڑھنے کی اجازت دی جانی چاہیے ، اس خبر کو دیکھ کر مجھے علامہ اقبال کے اس شعر کی بھی فکر ہو رہی ، جس میں انہوں نے فرمایا کہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
ہمیں ہے حکم اذان لاالہ الااللہ

تاہم یہاں جماعت ہی نہیں سب جگہ بتوں کا راج ہورہا ہے اور اذان کے بعد اب نماز پر بھی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں ، ان کے اعتراضات کے مطابق کیا مسلمان اب وہیں باجماعت ہو سکیں گے جہاں مسلمانوں کی وافر آبادی ہے۔ کیا اب وہ ہندوستان ہمیں دیکھنے کو نہیں ملے گا جہاں ٹرینوں میں بھی کوئی نمازی جانماز بچھا دیا کرتا تھا۔

]
آج کی ملکی سچائی اگر ایک طرف یہ ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اس بے مہار حکومت کے خلاف ہر جگہ بے چینی دیکھی جا رہی ہے ،اور ایک ایسا ماحول بن رہا ہے کہ 2019میں ملک کی بیشتر آبادی اس حکومت کو جڑ سے اکھاڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ سیکولر ہندوؤں میں بھی اس حکومت کے خلاف بے چینی کی کئی خبریں آتی رہتی ہیں۔ دلتوں پر ظلم ، مسلمانوں پر ظلم ، بچیوں پر ظلم اور بے روزگاروں پر ظلم کی داستانیں سن سن کر امن پسند ہندو بھائی بھی بے چین ہو چکے ہیں۔ سیاست دو ٹکروں میں واضح طور پر تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آپ کے اترپردیش میں مایا وتی اور اکھلیش کا قریب ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کی سیاسی پارٹیاں بھی اس حکومت سے دلبرداشتہ ہو کر روایتی دشمنی کو بالائے طاق رکھ کر سامنے آئے بڑے دشمن سے ٹکرانے کے لیے ہاتھ ملا چکی ہیں۔

حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب !
میرا نادان دل سمجھتا ہے کہ ایسے میں بہار میں ایک مسلم پارٹی کی جستجو و تگ و دوان تمام سیکولر پارٹیوں کے لیے مایوس کن قدم نہ ثابت ہو جائے ، جو سیاسی حساب کتاب کئے بیٹھے ہیں کہ کس طرح بی جے پی کو آئندہ انتخاب میں جیت سے دور رکھا جائے۔ میری چھوٹی سی سمجھ یہ ضرور کہتی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد بنے اور مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبوطی ملے ،لیکن جس ٹائمنگ کے ساتھ بہار میں مسلم پارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی جارہی ہے ، یہ سوائے خودکشی کی طرف لے جانے کے سوا کچھ نہیں۔ پارٹی کی تشکیل ہو ، یہ ضروری ہے یا نہیں اس پر بات آگے کی جائے ، لوک سبھا الیکشن کے بعد کی جائے تو پھر کوئی خوف نہیں ، لیکن ابھی جب بہار میں مقابلہ براہ راست بی جے پی اور غیر بی جے پی کے ساتھ ہے ، ایسے میں مسلمانوں کی الگ پارٹی کا سیدھا مطلب ہے کہ ہم بہار کو پلیٹ میں سجا کر بطور تحفہ بی جے پی کی نذر کر رہے ہیں۔

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک ہرنیں اپنی تاریخ نہیں لکھیں گی ، شکاریوں کی بہادری کی داستانیں تاریخ در تاریخ سنائی جاتی رہیں گی۔
ہم سب کچھ کرنا بھی چاہیں تو مقدس روحیں ہمیں سنگھ اور اسلام مخالف کہہ کر خاموش کر دیں گی،کہ ہم پائجامہ والے نہیں بلکہ پینٹ والے مسلمان ہیں ، کچھ کہیں گے تو ہم پر علماء کرام کی بے ادبی کا الزام تھوپ دیا جائے گا۔ اس لیے ہم اور ہمارے جیسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے آگے آئیں ۔ اگر آپ کی تجربہ کار نگاہیں، اس عمل کو درست سمجھتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات سے قوم کو آگاہ کریں اور اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ عمل کلہاڑی پر ہی پیر رکھ دینے کا ہے تو اللہ کے واسطے آپ بہار کے ان معزز شخصیات سے تبادلہ خیال کریں اور اس پر کوئی نتیجہ خیز فیصلہ لیں۔
یہ درست ہے کہ مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کے لیے سیاست شجر ممنوعہ نہیں ہے ، لیکن جماعت کی آستینوں میں چھپے کون سے سیاسی شاطر اس شجر کا پھل کھانے کے لیے اکسا دے اور ہم ایک بار پھر جنت سے دنیا کی طرف پھینک دئے جائیں اور قوم ایک بار پھر اس شعر کو زندہ ہوتے دیکھے کہ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلیں

رہی بات مسلم پارٹی کی تو اسی ہندوستان میں کئی مسلم پارٹیاں پہلے سے موجود ہیں۔ بدرالدین اجمل صاحب کی پارٹی سمیت کئی پارٹیاں جس میں پیس پارٹی بھی تھی جو اب سماج وادی پارٹی میں ضم ہو گئی ۔ ہمیشہ سنگھ کے نشانہ پر رہنے والی ایم آئی ایم کئی ریاستوں میں اپنے پیر پھیلا رہی ہے۔ بہار میں بھی اس کے فعال ارکان مسلمانوں کو اپنی پارٹی کی طرف راغب کرنے میں سرگرداں ہیں ، پارلیمنٹ میں بھی جب جب مسلم کاز کی بات آتی ہے تو یہ دیکھا گیا ہے کہ مسلم ارکان پارلیمنٹ بغلیں جھانکتے ہیں اور اسد الدین اویسی صاحب سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، کیا ایم آئی ایم وہ کام نہیں کر رہی ہے جو امارت شرعیہ کرنا چاہتی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ امارت شرعیہ کی بھی ایک تاریخ رہی ہے اور پہلے بھی اس نے پارٹی کا قیام کیا ہے ،لیکن وہ دور مسلم لیگ کے منقسم ہندوستان کے خلاف متحد ہونے کا تھا، اب یہ دور سنگھ کے خلاف متحد ہونے کا ہے اسی لیے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آج کے حالات کے مدنظر کیا بہار میں ایک مسلم سیاسی پارٹی کا قیام انتہائی ضروری امر ہے۔

اخبارات میں مسلم پارٹی کے قیام کی باتیں آ چکی ہیں ، امارت شرعیہ نے اب تک اس بات کی تردید نہیں کی ہے اور نہ ہی اخبارات میں شائع رپورٹ کے خلاف کسی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا ہے اس سے اب تک اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ امارت شرعیہ سیاسی پارٹی کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک پریشر پلان ہو ، آر جے ڈی پر دباؤ بنا کر اشفاق کریم کو ممبر اسمبلی بنایا گیا ، جے ڈی یو پر دباؤ بنا کر خالد کو ایم ایل سی بنایا گیا ، اب کانگریس پر دباؤ بنا کر اسرارلحق کی جگہ اپنے بیٹے کے ٹکٹ کو کنفرم بنانے کا منصوبہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو مسلمان پہلے ہی کی طرح بے وقوف بنیں گے ، نقصان میں نہیں رہیں گے۔

بس ڈر یہ ہے کہ بہار کے علمائے کرام اور چھوٹی تنظیمیں دین بچاؤ دیش بچاؤ میں اکٹھا ہوئی بھیڑ کے زعم میں تمام مسلمانوں کو ایک ایسے تاریک مستقبل کی طرف نہ دھکیل دیں جہاں سے امید کی کوئی روشنی ہی دکھائی نہ پڑے۔

حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب ، آپ سے امید ہے کہ آپ مسلمانوں کو کوئی راہ دکھائیں گے اور حضرت ولی رحمانی صاحب سے اس اہم موضوع پر بات کرکے قوم کو کوئی پیغام دیں گے تاکہ ہزاروں الجھنوں میں گھری بے بس قوم کو کوئی سمت دکھائی دے۔

آپ سے التماس ہے کہ قوم کی تقدیر سنوارنے کے لیے آپ ان چنندہ علما کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے تاکہ ہماری قوم کو کوئی راستہ دکھائی دے سکے۔ اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سنگین مسئلہ کو اپنے حجرے سے نکل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے ، آپ سے مودبانہ اجازت چاہوں گا۔

والسلام
طالب دعا
زین شمسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *