قوم پرستی: عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں

ڈاکٹر سلیم خان

Asia Times Desk

للن نے کلن سے پوچھا ارے بھائی اپنے سجاد لون کا کیا حال ہے؟

کلن  نے حیرت سے سوال کیا،  یہ سجاد لون کون ہے ؟

للن بولا وہی جو مودی جی کو اپنا بڑا بھائی کہتا تھا ۔

کہنے کو تو کوئی بھی کسی کو بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے ۔ جیسے امیت شاہ کہتے ہیں مقبوضہ کشمیر اور سیاچن بھی ہمارا ہے لیکن  کیامودی جی بھی کچھ کہتے تھے ؟

یہ تو میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کیاکہا لیکن یہ ضرور کیا کہ  جموں کشمیر کی مخلوط صوبائی سرکار  میں سجاد لون کو  بی جے پی کے کوٹہ سے وزیر بنادیا۔

یہ تو بہت بڑی بات ہے کہ جو شخص ۲۰۰۸؁ کے پارلیمانی انتخاب میں پانچویں نمبر پر آیا  وہ وزیر بنا دیا گیا ؟ اور جموں کےسنگھی دیکھتے رہ گئے ! کمال ہے۔

للن سینہ پھلا کر بولا بھائی تم نےسنا  ہی ہوگا مودی ہے تو ممکن ہے۔

وہ بیچارہ تو ریاستی الیکشن میں بی جے پی کو تو دور خود  اپنی پیو پلس کانفرنس کو وادی  ایک بھی سیٹ نہیں جتا سکا اس کے باوجود  یہ چمتکار  کیسے ہوگیا؟

بس یہ ہواکہ ۲۰۱۴؁ میں جب وادی کے اندر کوئی بی جے پی کو پوچھتا نہ تھا ریاستی الیکشن سے دو ہفتہ قبل سجاد نے وزیراعظم سے دہلی میں آکر ملاقات کی ۔

ارے بھائی للن   تو کیا اگر مہاراشٹر کے الیکشن سے پہلے میں بھی مودی جی سے مل لوں تو  کیا مجھے  بھی  وزیر بنا دیا جائے گا؟

دیکھو کلن معاملہ صرف ایک ملاقات کا نہیں ہے۔ سجاد لون کے والد عبدالغنی لون حریت کے بڑے رہنما تھے ۔

تو کیا حریت کے ہر رہنما کے بیٹے کو وزارت سے نوازہ جاتا ہے۔ سجاد کا بھائی بلال لون تو اب بھی حریت میں شامل ہے۔

عبدالغنی   لون کے بابت ۲۰۰۲؁ میں یہ مشہور ہوا کہ وہ بی جےپی سے پینگیں بڑھا رہے ہیں اور پھر یہ خبر آئی کہ عسکریت پسندوں نے انہیں ہلاک کردیا۔

کلن بولا اس کے باوجود ۱۲ سال بعد سجاد لون نے مودی جی سے ملاقات کی ! یہ تو بڑی دلیری کا کام ہے۔

صرف ملاقات  ہی نہیں کی بلکہ وزیراعظم کی تعریف کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں بی جے پی میں شامل ہونے کے امکان کا بھی اعتراف کیا۔

کلن نے سوال کیا کہ تب پھر کیا پوچھنا۔ دہلی میں عیش کررہا ہوگا؟

نہیں بھائی کلن میں نے سنا ہے دیگر کشمیری رہنماوں کو ساتھ اسے بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اوہو جب جموں کشمیر میں  بی جے پی کا کوئی رہنما گرفتار نہیں ہوا  تو اس غریب پر کیوں یہ آفت آئی؟

اس نے دفع ۳۷۰ کی منسوخی کے خلاف سرینگر میں ایک آل پارٹی میں شرکت کرکے اس کی مخالفت کردی تھی ۔

اچھا تو وہ ‘ پاسباں بھی خوش رہے راضی رہے صیادبھی’  والی پالیسی کا شکار ہوگیا۔ ایک ساتھ دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔

لیکن وہ  موقف بھی تو ضروری تھا اس لیے دفع ۳۷۰ کی مخالفت کرنے والے سیاستداں کا مستقبل کشمیر میں تاریک ہے۔

للن نے کہالیکن بی جے پی نے تو اسے گرفتار کرکے وقار بخش دیا ۔

جی ہاں سجاد لون سے آئندہ خدمت لینے کے لیے ضروری ہے ورنہ دفع ۳۷۰ کی طرح کشمیر کے لوگ اس کو بھی مسترد کرکے دفع کردیتے ۔

اچھا مگر جیل کے اندر سجاد لون سوچ رہا ہوگاکہ  یہ کیسی آزادی ہے جس نے غیروں کے ساتھ اپنوں کو بھی جیل بھیج دیا  گیا ؟

ہاں یار ! اگر مودی جی اس مشکل کی گھڑی میں  اپنے چھوٹے بھائی کو ہی  جیل جانے سے بچا لیتے تو کم از کم ایک  تنہا(لون) کشمیری ان کی حمایت میں  ہوتا۔

للن بولا  بھائی لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ جموں میں بی جے پی کے رہنماوں تک کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے کیا تم نے ان میں سے کسی کا کوئی بیان سنا ؟

جی ہاں ایک دن اچانک ان میں سے کئی لوگوں نے ملازمت میں ریزرویشن اور زمین فروخت کرنے پر پابندی کی بات کی تھی۔

للن نے کہا اچھا تو پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ کیا کوئی احتجاج وغیرہ ہوا؟

کلن بولا  جی نہیں اس کے بعد مکمل خاموشی ہے۔ کوئی کچھ نہیں بولتا۔

بول بھی کیسے سکتا ہے ؟ سب کو سجادلون کی طرح خاموش کردیا گیا ہے ۔

کلن نے کہا لیکن میں نے اس بیچ میں نے لداخ  کے بودھ رہنما کا بیان پڑھا

اچھا وہ کیا کہہ رہا تھا ؟

کلن بولااس نے کہا کہ ہمیں پہاڑی علاقہ کے لوگوں کی مانند خصوصی درجہ دیا جائے ۔

اچھا تو وہ لداخی رہنما بھی بول پڑا جو یوان پارلیمان میں بہت اچھل رہا تھا

کلن نے کہا جی ہاں اور امیت شاہ اس کو رشک سے دیکھ رہے تھے ۔میڈیا اس کو سر پر بٹھا رہا تھا۔

اب  اگرہر کوئی خصوصی درجہ مانگ رہا ہے تو بی جے پی کا کیا  ہوگا؟

کلن بولا بی جے پی کو دینا ہی ہوگا کیونکہ جموں اور لداخ والوں کو ناراض نہیں کرسکتے توکشمیریوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔

اگر یہی کرنا ہے تو یہ تماشہ کیوں کیا؟ اور وادی کے لوگوں سمیت حفاظتی دستوں کو پریشان  کیوں کیا جارہا ہے؟

کلن نے کہا یہ بات تو  وزیر داخلہ ہی  بتا سکتے ہیں ۔

اچھا  !مجھے تو لگتا ہے  یہ بات وزیر اعظم بھی نہیں جانتے تو وزیر داخلہ کیسے بتائیں  گے ؟

اچھا جب وہ دونوں نہیں جانتے تو کون جانتا ہے؟

للن بولا میرے خیال میں فی الحال ملک میں کیا ہورہا ہے؟ کیوں ہورہا ہے؟ اور کیسے ہورہا ہے ؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔

لیکن یہ جو پبلک ہے ۔ یہ سب جانتی ہے پبلک ہے۔ اندر کیا ہے ، باہر کیا ہے ، اندر کیا ہے باہر کیا ہے یہ سب کچھ پہچانتی ہے ۔ یہ پبلک ہے۔

بھائی یہ تو راجیش کھنہ کی فلم روٹی کا گانا ہے لیکن سچ تو یہ ہے فی الحال اپنے دیش کی پبلک روٹی کو بھول کر دیش بھکتی پر گزاراہ کررہی ہے۔

ہاں اب میں سمجھا کہ یہ لوگ  کیوں کچھ نہیں جانتے؟  قوم پرستی کے نشے میں دھت بھلا کوئی کیا جان سکتا ہے ؟

للن نے پوچھا لیکن کلن بھائی آخر یہ نشہ کیسے اترے گا ؟

اس کا دوطریقہ ہے للن ہے ۔

اچھا پہلا کون سا ہے ؟

پہلا تو جموں والوں کے لیے بھوک ہے کہ جب حد سے بڑھ جاتی ہے سارا نشہ ہرن ہوجاتا ہے۔

سمجھ گیا اور دوسرا ؟ یعنی سجاد لون کے لیے؟

وہ تم نے علامہ اقبال کا شعر نہیں سنا؎

عذاب دانش  حاضر سے باخبر ہوں میں                            کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *