لدھیانہ میں شب برات کے موقعہ پر مساجد میں دینی اجلاسات کا انعقاد 

اللہ تعالیٰ کی حضور مانگنے والا بندہ دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔شاہی امام پنجاب 

Azhar Umri Agra

لدھیانہ گزشتہ رات شب برات کے موقعہ پر لدھیانہ شہر کی مساجد میں خوب رونق رہی اور اکثر مدارس میں دینی اجلاسات منعقد کئے گئے وہیں قبرستانوں میں اپنے اقارب کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرنے والوں کی بھیڑ رہی ، شہر کے سبھی چورراہوں پر اس دوران سخت اسکیورٹی انتظامات بھی نظر آئے ، لدھیانہ کی جامع مسجد کے اعطراف میں رونق دیکھنے کے قابل تھی ، جگراؤں بل سے آتی ڈبل روڑ اور شاہپور روڑ پوری طرف مزین تھی ہر طرف روشنی ہی روشنی کی گئی تھی اور لاؤڈ اسپیکر پر عوام قاری ابوبکر صاحب کا نعتیہ کلام سن کر محظوظ ہو رہے تھے ، شہر میں آج ساری رات براؤں روڑ پر آباد کروائی گئی نئی مسجد احرارمیں بھی نفل نماز ادا کرنے والوں کا تانتا لگا رہا ، براؤں روڑ پر مسلمانوں کی بڑی آمد کو دیکھتے ہوئے ایس ایچ او تین نمبر موجود رہے ، اسی دوران نماز عشاء کے بعد لدھیانہ کی تاریخی جامع مسجد میں شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی شاہی امام پنجاب بھی فرزندان توحید سے مخاطب ہوئے اور شب برات کے فضائل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتا ہے تو دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے پھر اسے کسی کی محتاجی نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں سے محبت کرتے ہیں انہیں کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیتے ، شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کہا کہ مسلمانوں یاد رکھو ہمارا ایمان ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے اور یہ بات اسلام دشمن طاقتیں بھول جاتی ہیں اور اکثر اہل ایمان سے زبردستی کرنا چاہتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ محبت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی روح اور خون میں شامل ہے اب دنیا کی کوئی طاقت کسی بھی ہربہ سے اسے نکال نہیں سکتی ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کہا کہ آج شب برات کے موقعہ پر ہم ایک بار پھر سے اپنے عزم کا اعازہ کرتے ہیں کہ زندگی کی آخری سانس تک انشاء اللہ تاج ختم نبو ت ؐ کی حفاظت کرتے رہیں گے قابل ذکر ہیکہ آج کے اجلاس میں سمبھل سے تشریف لائے شاعر نونہال وقار فراضی نے خوب سماء باندھا ، فراضی نے اول نعت رسول پاک ﷺ پیش کی اور پھر کچھ نظمیں بھی سنائیں جس کے دوران اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی رہیں ،پروگرام کی نظامت جناب غلام حسن قیصر نے فرمائی ، جناب قاری محمد محترم ، شاہنواز خان ، بابل خان خاص طور پر موجود تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *