مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ

عدالتی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے والی عرضداشت پر فریقین کی بحث مکمل خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کرنے کے لیئے یکم اکتوبر کی تاریخ مقرر کی

Azhar Umri Agra

ممبئی
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں آج این آئی اے کی جانب سے داخل عرضداشت جس میں انہوں نے عدالت کی کارروائی بند کمرے میں یعنی کے   Camera کیئے جانے کی درخواست کی تھی پر فریقین کی بحث مکمل ہوگئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ صادر کرنے کے لیئے یکم اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
آج خصوصی این آئی اے عدالت میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمد نی) کی جانب سے داخل عرضداشت جس میں انہوں نے عدالت کی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی مخالفت کی ہے پر سادھوی پرگیاسنگھ ٹھاکر کے وکیل نے بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں بم دھماکہ متاثرین کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ عدالت کی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی عرضداشت قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے داخل کی ہے۔
ایڈوکیٹ پرشانت مگو نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ایک مذہبی شخصیت ہے اور اس کے ماننے والے ہزاروں میں ہیں اور این آئی اے کی جانب سے کلین چٹ دیئے جانے کے باجود اخبارات میں اس کے خلاف لکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
ایڈوکیٹ مگو نے عدالت کو مزید بتایا کہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور دیگرملزمین کی شبہ عوام میں خراب کرنے کے لیئے بم دھماکہ متاثرین نے صحافیوں کے ہمراہ این آئی اے کی عرضداشت کی مخالفت کی ہے جس کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔
سادھوی پرگیا سنگھ کے وکیل نے بم دھماکہ متاثرین کے وکلاء پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اس معاملے میں ہمیشہ مداخلت کرتے رہتے ہیں اور ان کی مداخلت کی وجہ سے عدالت کا وقت برباد ہوتا ہے۔
ایڈوکیٹ مگو کی بحث کے بعد اسی معاملے کا سامنا کررہے ملزم سمیر کلکرنی نے بم دھماکہ متاثرین اورصحافیوں کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کاسپورٹ کرتے ہوئے عدالت سے کہاکہ عدالتی کارروائی بند کمرے میں نہیں کی جانی چاہئے بلکہ عوام کو پتہ چلنا چاہئے کہ اس اہم مقدمہ میں کیا ہورہاہے۔
سمیر کلکرنی نے کس بھی ملزم کا نام لیئے بغیر کہا کہ ضمانت پر رہائی کے بعدیہ ملزمین میڈیا میں لمبے لمبے بیانات دیتے ہیں، ٹی وی پر ان کے وکلاء انٹرویو دیتے ہیں تب انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے پر انہیں اعتراض ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں قومی تفتیشی ایجنسی NIAکے وکیل اویناس رسال نے خصوصی این آئی اے عدالت میں NIA قانون کی دفعہ 17 کے تحت عرضداشت داخل کرکے معاملے کی سماعت بند کمرے میں کیئے جانے کی درخواست کی تھی، این آئی اے نے اپنی عرضداشت میں کہا تھا کہ گواہوں کے تحفظ کے تحت عدالتی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی درخواست کی جارہی ہے۔
این آئی اے کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کا علم ہوتے ہی جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی عدالت میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر سینئر ایڈوکیٹ بی ایس دیسائی نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ این آئی اے مخصوص بھگوا  ملزمین کو فائدہ پہچانے کی غرض سے عدالتی کارروائی بند کمرے میں کیئے جانے کی گذارش کررہی ہے تاکہ وہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور دیگر ملزمین کو فائدہ پہنچا سکے۔
بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا تھا کہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بم دھماکہ متاثرین اور صحافیوں کو اجازت ملنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر کے انصاف پسند عوام کی اس مقدمہ پر نظر رہتی ہے۔
صحافیوں کی جانب سے ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ صحافت جمہوریت کا اہم ستون ہے اور صحافیوں کو کورٹ کی کارروائی لکھنے سے منع نہیں کیا جاسکتا، جہاں تک رہی بات گواہوں کے تحفظ کی تویہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گواہوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *