کمزور طبقات بالخصوص اقلیتوں کو قانون کی تعلیم دینے کی اشد ضرورت : پروفیسر صمدانی

Azhar Umri Agra

بدایوں میں پروفیسر شکیل صمدانی کا استقبالیہ
کمزور طبقات بالخصوص اقلیتوں کو قانون کی تعلیم دینے کی اشد ضرورت : پروفیسر صمدانی
بدایوں، سسرسید انسٹی ٹیوٹ آف پیرا میڈیکل سائنسز، بدایوں کے ذریعہ شعبہ قانون، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، کے سینئر استاد و سرسید اویئر نس فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی کا انسٹی ٹیوٹ میں شاندار استقبال کیا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے بانی و ضلع کی مانی جانی شخصیت ڈاکٹر شکیل انصاری نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں کہا کہ یہ پیرا میڈکل کالج اور بدایوں کے عوام کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہم ملک کے جانے مانے ایجوکیشنسٹ اور سماجی کار کن پروفیسر صمدانی کا استقبال کر رہے ہیں۔ پروفیسر صمدانی نے تعلیم کے میدان میں اور سوسائٹی کے لئے جو کام کیا ہے اور کر رہے ہیں اسے تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ سرسید اور علی گڑھ تحریک کی دین ہے اس سے اس علاقے کے پیرا میڈیکل کورس کرنے والے طلبا اور طالبات کا بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔
مہمان خصوصی پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ سرسید نے تعلیم کی جو شمع جلائی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں جگہ جگہ تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں اور سرسید پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اسی کا نتیجہ ہے۔ پروفیسر صمدانی نے مزید کہا کہ مذہب اسلام تعلیم و تربیت پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک مسلمان تعلیم پر توجہ دیتے رہے پوری دنیا میں نمبر ۔1 رہے۔ پروفیسر صمدانی نے کہا کہ ہمیں دقیہ نوسی سوچ سے نکل کر ترقی یافتہ خیالات کو اپنانا چاہئے کیونکہ دقیہ نوسی خیالات سے انسان کی سوچ بھی دقیہ نوسی ہو جاتی ہے اور وہ ترقی کے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران اور موجود لوگوں سے گذارش کی کہ وہ تعلیم کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت اور صحیح ذہن سازی کی طرف متوجہ ہوں، بالخصوص قانون کی تعلیم کی طرف ضرور سے توجہ دیں کیونکہ آج کے دور میں قانون کی تعلیم کے ذریعہ ہی سماج کے پچھلے طبقات، دلتوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔ آج کے دور میں لڑکیوں کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی لڑکوں کی اور قانون کے میدان میں بھی مسلمان لڑیوں کے لئے بہت مواقع ہیں۔ انھوں نے جلسہ استقبالیہ میں موجود شہر کے ذمہ داران سے درخواست کی کہ بدایوں ضلع میں جلد از جلد ایک معیاری لاء، (قانون) کالج کا قیام کریں۔ اخیر میں پروفیسر صمدانی نے انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈاکٹر شکیل انصاری کا استقبالیہ دینے کے لئے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جلسوں سے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور لوگوں کی ذہن سازی بھی ہوتی ہے۔
اس موقع پر سماجی کارکن ویریندر جاٹو، سابق وارڈ ممبر عامر انصاری، یوجن سبھا کے ضلع صدر وسیم انصاری، عبدل، گڈو خاں، جاوید خاں، اقرار انصاری، یعقوب سیفی، راجا، ببلو بھائی، شانو علوی، سرسید اویئر نس فورم کے میڈیا انچارج عبداللہ صمدانی، ناظم، واسق و نوید وغیرہ بھی موجود تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *