ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانا ہم سب کی ذمہ داری:پروفیسر آصفہ زمانی

’قومی یکجہتی ملک کی سالمیت کے لئے ضروری ‘کے موضوع پر ایک روزہ سیمنار

Azhar Umri Agra

لکھنو ,ہم جس ملک ہندوستان میں رہتے ہیں وہ مختلف تہذیب وثقافت والا ایسا عظیم ملک ہے جو پوری دنیا میں عظیم شناخت اور پہچان رکھتا ہے ۔الگ الگ کلچر اور زبانیں ہونے کے باوجود ہم ہندوستانی ایک ہیں اور رہیں گے ۔ہم سب قومی یکجہتی میں یقین رکھتے ہیں ۔اس ملک کی تعمیر وترقی میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے طور پر کوشش کی اور ضرورت پڑنے پر ہر قربانی دی،ملک کی یکجہتی اور سیاست کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے لئے ہم آج بھی کوشا ں اور تیار ہیں ۔
ان خیالات کا اظہا ر آج یہاں لکھنو یونیورسٹی کے ڈی پی اے ہال میں ’اردواکادمی کے مالی اشتراک سے آواز چیرٹیبل ٹرسٹ آف انڈیا‘کے زیراہتمام منعقد یک روزہ سیمنار’قومی یکجہتی ملک کی سالمیت کے لئے ضروری ‘میں مقررین نے کیا۔
اس سیمنار کی صدارت اردو اکادمی اترپردیش کی چیرپرسن پروفیسر آصفہ زمانی نے کی۔بطور مہمان خصوصی لکھنو کی میئر ڈاکٹر سنیکتا بھاٹیہ نے شرکت کی اور مہمان ذی وقار کے طور پر خواجہ معین الدین اردو ،عربی-فارسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ماہ رخ مزرا شریک رہے ۔مولانا وحیداللہ چترویدی ،عربی فارسی مدارس ایسو سی ایشن کے صدر اقبال حسین عرف پھول میاں اور ڈاکٹر سنجے شکلا نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔مہمان اعزازی کے طور پرارداکا ادمی کے سکریڑی ایس رضوان ،اقلیتی مورچہ کے قومی سکریریٹری شفاعت حسین ،اردداکادمی کے ممبر ندیم اختر ،سرفراز علی ،ڈاکٹر شاداب عالم ،دانش آزاد ،نعیم افضال وغیرہ نے شرکت کی ۔نظامت کے فائض مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے اسسٹینٹ پروفیسر عمیر منظر نے انجام دئے ۔
اس موقع پر پروفیسر آصفہ زمانی نے کہا کہ اردو زبان مشترکہ تہذیب کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یہ زبان قومی ہم آہنگی کی پیداوار ہے۔انہوں نے کہا اردو زبان سے ہی جذبہ حب الوطنی، رواداری محبت و کشادہ قلبی کو فروغ ملا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
بطور مہمان خصوصی لکھنو کی مئیرسینکتا بھاٹیہ نے’قومی یکجہتی ملک کی سالمیت پر اپنے خیالات کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ شروع ہی سے ہماراملک مشترکہ تہذیب اور کلچر کا گہوارہ رہا ہے اس کی ترویج و اشاعت میں ہندوﺅں اور مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں نے مل جل کر حصہ لیا ۔یہاںہر رنگ و نسل کے افراد کے محسوسات اور جذبات کو سموکے انہیں ایسا ادبی رنگ و روپ عطا کیا ہے جس سے باہمی میل جول, رواداری اتحاد محبت و اخوت اور قومی یکجہتی کے جذبوں کی گہری چھاپ پڑی ہے ۔
مہمان ذی وقا ر کے طور پر خواجہ معین الدین چشتی عربی فارسی یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر ماہ رخ مرزا نے کہا کہ جنگ آزادی میں ہمارے اکابرین کا رول بہت نمایاں رہا۔ ہم اس ملک کے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔دفعہ 370ہٹائے جانے کو ایک بہتر قدم قراردیتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیری عوام کو بہت فائدہ ہوگا،وہاں ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔
اقبال حسین عرف پھول میاں نے کہا کہ کیا ہندو کیا مسلمان سبھی نے اس ملک کے لئے قربانی پیش کی ہے ۔ ادیبوں اور مفکروں نے اپنی شعلہ بار تقاریر کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں آزادی کے لئے محبت اور غلامی کے لئے نفرت کا جذبہ پیدا کیا اور آزادی کے مقاصد کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم پیدا ہوئے ہیں ،یہیں مریں گے اور ہیں دفن ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی یکجہتی کی ایسی مضبوط بنیاد ہے کہ اس کو ہلانانا ممکن ہے۔ مولانا حیداللہ چترویدی نے اپنے خطاب کے ذریعہ لوگوں میں جوش بھر دیا ،انہوں نے انسانیت کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔ڈاکٹر سنجئے شکلانے ہندومسلم اتحاد پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔اس موقع پر مقالہ نگاروں کو سرٹیفکٹ سے نوازا گیا اس کے علاوہ مہمانوں کو مومینٹو پیش کیا گیا۔آخر میں ٹرسٹ کے صدر ضرغام الدین ندوی نے ٹرسٹ کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور مہمانون کاشکریہ اداکیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *