پوروانچل کے بزرگ شاعر مجیب بستوی نے مشاعروں کے گرتے معیار پر کیا تشویش کا اظہار ؛کہا ، مشاعروں میں شاعرات کی بے حجابانہ شرکت سے ہو رہا ہے نقصان

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز) دن بدن مشاعروں کے گرتے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ شاعر انجمن افکار ادب سمریاواں سنت کبیر نگر کے صدر مولانا مجیب بستوی نے ایشیا ٹائمز سے گفتگو میں کہا ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترویج وترقی میں مشاعروں کے رول سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
مشاعرے میر و غالب کے زمانے سے ہوتے چلے آرہے ہیں اور جب تک اردو زبان رہے گی ہوتے رہیں گے ،لیکن سامعین تبدیل ہوتے رہیں گے ۔
لیکن ساتھ ہی انہوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ آج کل مشاعروں میں غیر سنجیدگی کے مظاہرے جس قدر بڑھے ہیں اس سے مشاعروں کی اہمیت پر ضرب لگ رہی ہے ۔
مشاعروں میں شاعرات کی بے حجابانہ شرکت نے اسے مزید نقصان پہونچایا ہے ۔ اس کی وجہ سے نوجوان طبقے میں غیر مہذب انداز میں داد دینے کا رجحان بڑھا اور اب تو عمل تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے ۔

اب یہ بھی محض تفریح کا سامان بن کر رہ گیا ہے ۔مولانا نے کہا کہ یہ صورت حال ہمیں غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم اردو زبان کی بقا و ترقی کے لیے ایسے غیر مہذب انداز اختیار کرنے کو برداشت کریں گے ۔
ہمارا ماننا یہ ہے کہ یہ ایک طرح سے اردو کو بدنام کرنے اور مٹانے کی کوشش ہے ۔ خیا ل رہے ہم اسلام کے پیروکار ہیں ہمیں خوشی اور مسرت کے اظہار کی مکمل آزادی ہے مگر یہ آزادی بے مہار نہیں ہے بلکہ مشروط ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *