تیرہ اکتوبرکو مسلما نوں نے ملک گیر سطح پر’یوم مزاحمت’ منانے کا کیا اعلان ؛ کہا ، دوسرے درجے کا شہری جیسا برتاو برداشت نہیں  

وقت بہت کم ہے ! آئیے ہاتھ سے ہاتھ ملائیں اور 2019 کے عام انتخابات سے قبل  اپنا ایجنڈا خود طے کریں

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمزنیوز ڈیسک ) ملت اسلامیہ ہند کے کچھ درد مند متحرک مسلم نوجوانوں نے آنے والی 13 اکتوبر کو ملک گیر سطح پر ‘یوم مزاحمت’  منانے کا اعلان کیا ہے ۔ جسے “Day of Resistance” کا نام دیا ہے ۔  اس کے لیے سوشل میڈیا ہر ایک کال کی گئی ہے جس میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہونے بھید بھاو کے برتاو پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔  یہاں پر حکومتی سطح پر ہونے والے بھید بھاو کو اتر پردیش میں ہونے والے دو انکاونٹرس وویک تیواری اور مستقیم کے انکاونترس سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

یہ بتایا گیا ہے کہ  وویک تیواری انکاونٹرمعاملے میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود پہل کرتے ہیں ، تیواری کے اہل خانہ کو معاوضہ اور بیوری کو سرکاری نوکری کی پیش کش کرتے ہیں جبکہ مستقیم کے معاملے میں جسے یو پی پولیس نے کیمرے کے سامنے ہلاک کر دیا اس پر کوئیبات نہیں کی جاتی ۔

ایک ہی طرح کے واقعے میں یہ دوہرا رویہ کیوں ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں طبقے کے نزدیک مسلمانوں کو کس درجے کا شہری گردانا جاتا ہے اور اپوزیشن بھی اس پورے معاملے پر بغلیں جھانک رہا ہے ۔

اس مناسبت کافی اہم بنیادی سوالات کیے گئے اور ملک بھر کے انصاف پسند عوام سے اس مہم میں شریک ہونے کی اپیل کی گئی ہے کہاگیا ہے کہ 13 اکتوبر کو اپنے علاقے میں ہونے والے’ یوم مزاحمت ‘ مظاہرے میں شریک ہوں یا خود اپنے شہر ، قصبے یا بازار میں کوئی مظاہرہ منعقد کریں ۔ کرنا صرف یہ ہے کہ  اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لیکرنکلیں ، زیادہ سے زیادہ معاشرے کے نوجوان ، بزرگوں  ،بچوں اور تمام مرد و خواتین کی شرکت کو یقینی بنائیں ۔ سوشل میڈیا پر اس #EqualCitizens ہیش ٹیگ سے اپنے اپنے مظاہرے کی  تصاویر اپلوڈ کریں ۔

اس ‘یوم مزاحمت ‘ کی کال کے لیے جو تحریر سوشل میڈیا میں شیئر کی جا رہی اس کا اردو ترجمہ ایشیا ٹائمز یہاں پیش کر رہا ہے  آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

اترپردیش میں یوگی حکومت کی انکاونٹر پالیسی کی کا پردپہ فاش ہوگیا ہے ، ہم سب نے دیکھا کہ کس طرح کس طرح انا فانا میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وویک تیواری کے اہل خانہ سے ذاتی طور پر ملاقات کی معاوضہ اور نوکری کی پیش کش کی ۔

اب ذرا ہم مستقیم اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں سوچیں ، مسقتیم جسے اتر پردیش پولیس نے کیمرے کے سامنے  موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن مستقیم کی موت پر نہ اپوزیشن اور نہ ہی کسی اور حلقے سے کوئی مضبوط آواز اٹھی ، اس کا مطلب کیا سمجھا جائے؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ مستقیم کے اہل خانہ غریب ہیں یا اسے یہ سمجھا جائے کہ اب ہندوستان میں مسلمانوں کو جان سے مار دینا ایک عام سی بات ہوگئی ہےاور ہندوستانی سماج نے اسےتسلیم کر لیا ہے ؟

 کیا ہندوستانی مسلمان اپنی اس حالات پر یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے دیکھتے رہیں گے؟ کیا ہمیں خود کو دوسرے درجے کا شہری ہونا تسلیم ہے؟ یا ہم اس موقع پرایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈل کرساتھ آئیں گے اور ظلم  کۓ خلاف کندھے سے کندھا ملا کر مظبوطی سے کھڑے ہوں گے ؟

وقت بہت کم ہے ! آئیے ہاتھ سے ہاتھ ملائیں اور 2019 کے عام انتخابات سے قبل  اپنا ایجنڈا خود طے کریں ۔

ہندوستانی مسلم سوسائٹی کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے ملت کی پریشانی پر درد مند دل والے عام لوگ  ، نوکری پیشہ افراد پروفیئشنلس ، سماجی کارکنان، صحافی حضرات ، طلبا اور اساتذہ  نے یہ طے کیا ہے کہ آنے والی 13 اکتوبر کو’ یوم مزاحمت ‘ یعنی “Day of Resistance” کے طور پر منائیں گے ،یہ دن ہمیں ظلم و زہادتی کے خلاف اپنی آواز بلند کا کرنے کا بہترین دن ہے۔

اس دن آپ جہاں کہیں بھی ہیں وہاں سے اس مہم میں مندرجہ ذیل طریقوں سے شریک ہو سکتےہیں ۔

  • اپنے علاقے میں ہونے والے’ یوم مزاحمت ‘ مظاہرے میں شریک ہوں یا خود اپنے شہر ، قصبے یا بازار میں کوئی مظاہرہ منعقد کریں ۔ کرنا صرف یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لیکرنکلیں ، زیادہ سے زیادہ معاشرے کے نوجوان ، بزرگوں  ،بچوں اور تمام مرد و خواتین کی شرکت کو یقینی بنائیں ۔ سوشل میڈیا پر اس #EqualCitizens ہیش ٹیگ سے اپنے اپنے مظاہرے کی  تصاویر اپلوڈ کریں ۔
  • مزاحمتی مظاہرے کی مناسبت سے اس مہم کو عام کرنے کے لیے ایک فیس بک پیج بنائیں اور اسے شیئر کریں ساتھ ہی اس فیس بک لنک کو @VoteHamaraBaatHamari  پر سینٹرل کو آرڈینیشن تیم کو بھی شئر کریں ۔
  • تیرہ اکتوبر کو آپ اپنے آفس میں یا جہاں کہیں بھی ہوں اپنے بازو میں کالی پٹی باندھیں ۔
  • اپنی فیس بک پروفا ئل تصویر کو کالے رنگ میں اس #EqualCitizens  ہیش ٹیگ سے ابھی سے تبدیل کر لیں۔
  • اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس کو کالے رنگ میں اس #EqualCitizens  ہیش ٹیگ سے ابھی سے تبدیل کر لیں۔

اگر آپ آج سے ابھی سے اپنی پروفائل پکچر کو 13 اکتوبر تک کے لیے تبدیل کر لیں گے تو ہم سب کی یہ کوشش  وہ دن انے سے قبل تک ایک بڑی مہم کی شکل اختیار کر لے گی ۔

 یاد رکھیں ہم ایسا کوئی مطالبہ نہیں کر رہے ہیں جو ہمارا آئینی حق نہیں ہے ۔

ہماری مانگیں بالکل واضح ہیں ہم اپنے ساتھ دوسرے درجے کا شہری جیسا برتاو کی مذمت کرتے ہیں اور اسے  سختی سے مسترد کرتے ہیں ۔

کیونکہ

ہندوستان کا ہر شہری برابر کے معاوضے اور احترام کا حق دار ہے

ہندوستان کا ہر شہری کو انصاف کے حصول کا برابری کا  حق ہے

ہمارے معاشی حقوق کا احترام ہو

ہمارے تعلیمی حقوق کا احترام

ہمارے جینے کے حق کا احترام ہو

#EqualCitizens

@VoteHamaraBaatHamari

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *