مجھے قوی امید ہے کہ آنے والا کل گزرے کل سے بہتر ثابت ہوگا کیونکہ اب اردو ڈیجیٹل میں آپ جیسے سینئر س باقاعدہ طور پر شامل ہوگئے ہیں

Ashraf Ali Bastavi

محترم معصوم مرادآبادی

صاحب السلام علیکم 

نیوز  پورٹل کے لیے. بہت بہت مبارکباد  ۔۔ خوشی اس بات کی ہے  آپ جیسے سینئرنے اردو ڈیجیٹل میڈیا میں باقاعدہ قدم رکھا ہے اور افسوس اس بات کا  ہے کہ اچھا بھلا چلتا اخبار  آپ کو بند کر نا پڑا. عام طور پر جب کوئی اخبار یا نشریاتی ادارہ بند ہوجائے تو لوگ مایوس ہوتے ہیں لیکن میں مایوس نہیں ہوں بلکہ پر امید  ہوں کہ  شاید اب اردو ڈیجیٹل کے اچھے دن آنے والے ہیں.

کیونکہ اب آپ جیسے معتبر صحافی ڈیجیٹل میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ڈیجیٹل میڈیا میں 2014،میں جب میں نے نیوز پورٹل لانے کا ارادہ کیا تو لوگ اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے بعض دوستو ں نے مذاق اڑایا،لیکن میرے عزم میں ذرا بھی لغزش نہ ہوئی کیونکہ میرے پاس اردو ٹائمز امریکہ کے ساتھ سرگرم وابستگی کا 5سال کا تجربہ تھا،

میں نے سمجھ لیا تھا یہ میرے لیے بہتر وسیلہ ثابت ہوگا، 13 ستمبر 2008 کو بطور پی ٹی سی جوائن تو کر لیا لیکن جب ان پیج میں نیوز ارسال کرنا شروع کیا تو ویب ایڈیٹر نے کہا جناب خبریں یونیکوڈ میں ہی بھیجیں.

میں نے اردو کے سینئر رپورٹرس، آپریٹرس اور ساتھی جرنلسٹوں سے رابطہ کیا. پہلے تو لوگوں نے سرے سے انکار کر دیا کہ میاں کیا کہتے ہو ایم ایس ورڈ میں اردو؟

 میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی لیکن ایک ہفتہ تک مجھے کامیابی نہ مل سکی.  پھر بڑی تگ و دو کے بعد میرے انتہائی مخلص دوست افضل حسین خان جو کہ کافی تکنیک دوست ہیں  نے ایک سافٹویئر یونی کوڈ کنورٹر لا دیا.

یقین جانیں بڑی راحت ملی.  پھر کیا تھا ہم نے اردو ٹائمز کے بھارت کالم میں اپڈیٹ شروع کر دیا اس کی جو اجرت  انہوں نے طے کی تھی  وہ میرے لیے حیران کن تھی  کیونکہ یہ اجرت  یہاں ہندوستان میں میری کل وقتی سروس کے ماہانہ مشاہرہ سے کچھ زیادہ ہی تھی اس لیے ان کے لیے میں اپنے اوقات میں رات رات بھر جاگ کر اپڈیٹ کرتا ،  جب یہاں رات ہوتی ہے وہاں امریکہ میں دن دن ہوتا ہے. یہ تبدیلی  میرے لیے بہت سود مند رہی ، یہاں سے مجھے  بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، عالمی نوعیت کی خبروں کی سمجھ  بڑھی ، مجھے ڈیجیٹل صحافی بنانے میں اردو ٹائمز امریکہ کا کلیدی رول ہے۔

انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری تب دی تھی جب میں ڈیجیٹل جرنلزم میں بالکل طفل مکتب تھا اور پہلے دن  سے اس کی اجرت دی, اس پیشے میں نو واردین کی  تربیت  کا ان کا یہ انداز ہندوستانی صحافت  کی روایت سے بالکل برعکس دیکھ میں بھی حیران تھا ، کیونکہ یہاں مجھے  کریر کے شروعاتی دنوں میں ایسے سینئر صحافی حضرات سے سابقہ پڑ چکا تھا جنہوں نے   انٹر ویو میں مجھے کامیاب قرار دینے کے بعد کام شروع کرنے کا آفر تو دیا لیکن اجرت پر کوئی بات کرنے سے یہ کہتے ہوئے منع کردیا تھا کہ ابھی ہم کچھ دن دیکھیں گے۔ جبکہ میرے پاس چار سال کا اردو اور ہندی میں رپورٹنگ کا تجربہ بھی تھا لیکن اس کے باوجود میں انہیں مطمئن نہ کر سکا جس کاآ ج تک مجھے قلق ہے ۔ البتہ میں نے بھی طے کر لیا تھا ، تمام دشواریوں کے باوجود استحصال سہنے کو تیار نہ ہوا ۔   

 اس کے   لیے میں اردو ٹائمز کے آن لائن ایڈیٹر  عمران بشیر کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا. اسی درمیان ہم نے تختہ مشق کے طور پر اپنا بلاگ لکھنا شروع کر دیا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب بی بی سی اردو نے اپنے انڈیا کالم کو تبدیل کردیا تھا اب اس کا نام آس پاس رکھ دیا گیا تھا، مجھے لگا اس خالی جگہ کو میرے لیے پر کرنا ممکن تو نہیں لیکن مشکل بھی نہیں ہے۔ بی بی سی کی آن لائن ریڈر شپ پر کسی حد تک شب خون مارا جا سکتا ہے.

 اردو اخبارات میں شائع تقریری مضامین بھی مجھے دق کرتے تھے جس  سے اردو قارئین کو نکالنے کا خیال پنپنے لگا تھا ، مجھے لگا کہ اردو اخبارات تک اگر اچھے معیاری مضامین ارسال کیے جائیں تو منظر نامہ کسی حد تک بدل سکتا ہے. اس میں مجھے خواطر خواہ کامیابی ملی رویش کمار ، ابھئے کمار ، اپوروا نند  جیسے دیگر مضمون نگاروں کے   مضامین کا ترجمہ اور بین الاقوامی میڈیا کی اہم خبروں سے اپنے قارئین کو جوڑنے کی ادنیٰ سی کوشش کی۔

انہی خیالات کے مرکب کے نتیجے میں ایشیا ٹائمز کی شروعات کر دی گئی، ہماری جز وقتی کوششیں قارئین کے حضور پیش ہیں۔ قارئین نے سراہا ہے اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا ہے.

اب ہمارا اگلا ہدف جزوقتی کو کل وقتی میں بدلنے کا ہے ہم اس سمت میں کام کر رہے ہیں لوگوں کو ڈیجیل جرنلزم کے مستقبل اس کی اہمیت کے بارے میں بتانے بیدار کرنے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں. لیکن ابھی اردو ریڈرس کے درمیان  ڈیجیٹل میڈیا کے تئیں اعتماد کا وہ نظریہ نہیں بن سکا ہے،

جس کی ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے مجھے قوی امید ہے کہ آنے والا کل گزرے کل سے بہتر ثابت ہوگا کیونکہ اب اردو ڈیجیٹل میں آپ جیسے سینئر س باقاعدہ طور پر شامل مل ہوگئے ہیں. وقت آگیا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش مسائل اور اس کے حل پر بات چیت  کا  دور شروع ہو

آپ کا خیر اندیش 

اشرف علی بستوی ، ایشیا ٹائمز نئی دہلی 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *