سالار جنگ میوزیم کی دلچسپ کہا نی ؛ ایک شخص کی ذاتی کوششیں کس طرح ایک میوزیم میں تبدیل ہوگئیں

Asia Times Desk

حیدرآباد جیسے موتیوں اور محلوں کے شہر میں جہاں چار مینار اور گولکنڈہ کا قلعہ کافی مشہور ہے سالار جنگ میوزیم دنیا میں کسی بھی فرد واحد کے ذریعہ قائم کیا گیا قدیم اور قیمتی چیزوں کے سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ میوزیم موسی ندی کے کنارے واقع ہے۔جیسے ہی آپ پرانے شہر میں قدم رکھیں گے جو کہ تاریخی عمارتوں، پرسکون محلوں ، لذیذ پکوان اور گوناگوں تہذیبوں کے لیے جانا جاتا ہے، میوزم کو آپ خوش آمدید کہنے کے لیے آپنے سامنے پائیں گے۔ 

اس شاندار میوزیم کی 40گیلیریوں سے گذرتے ہوئے سیاحوں کو لگتا ہے کہ وہ ہندوستان کے شاندار ماضی کے کسی عہد میں ہیں۔ اس لیے کہ ہندوستان کے اس تیسرے سب سے بڑے میوزیم میں جن نوادرات کو جمع کیا گیا وہ تاریخ کے مختلف ادوار اور دنیا کے مختلف علاقوں کے انتہائی منفرد اور نایاب نوادرات ہیں۔ یہ میوزیم اس لیے بھی مشہور ہے کیوں کہ یہاں پر موجود نوادرات ایک خاندان کی ذاتی ملکیت رہے ہیں اور ان کو جمع کرتے تین نسلیں گذری ہیں اوریہ لوگ ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔سالار جنگ اور ان کا خاندان پوری دنیا سے نوادرات اکٹھا کرنے کے لیے مشہور تھا۔ یہ سلسلہ سالار جنگ اول نواب میر تراب علی خان سے شروع ہوا۔

ان کے اہم نوادرات میں سے ویلڈ ریبیکا نامی سنگ مرمر سے تراشا مجسمہ بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے روم سے 1876میں حاصل کیا تھا۔سالار جنگ دوم میر لئیق علی خان کا محض 26سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ زیادہ تر نوادرات جن کی تعداد تقریبا 50ہزار ہے وہ سالارجنگ سوم میر یوسف علی خان نے جمع کیا ہے۔ آرٹ کے معاملے وہ بہت باذوق واقع ہوئے تھے اور انہوں نے 1914میں نظام کی ریاست سے وزیر اعظم کی عہدے سے استعفی دے کر اپنی بقیہ زندگی دنیابھر سے نوادرات جمع کرنے میں صرف کردی۔

 
40سال کی محنت سے ان کے ذریعہ اکٹھا کی گئیں نوادرات آج سالار جنگ میوزیم میں تاریخ اورآرٹ سے دلچسپی رکھنے والوں اور اس سے متعلق طلبہ کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔ یوسف علی خان نے نوادرات جمع کرنے کے لیے یورپ اور دنیا کے دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ بعد میں دنیا کے مختلف علاقوں سے تاجر اپنے نوادرات بیچنے حیدرآباد آنے لگے۔ 
سالارجنگ میوزیم بورڈ کے ممبر اورسالارجنگ خاندان کے چشم وچراغ نواب احترام علی خان کے مطابق’’انہوں نے اپنا پیسہ گانے بجانے جیسی پارٹیوں میں برباد نہیں کیابلکہ انہوں نے اپنی دولت نوادرات جمع کرنے میں خرچ کی جس کی وجہ سے ان کے محل کی دیوان ڈیوڑھی میں ہزاروں نوادرات جمع ہوگئے۔ ان کو گویا زیادہ سے زیادہ نوادرات جمع کرنے کا ایک جنون تھا اور دیکھتے دیکھتے اتنے نوادرات جمع ہوگئے کہ محل میں ان کو رکھنے کی جگہ نہ رہی۔لہذا انہوں نے اس کو دوسرے محل میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن قبل اس کے کہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کوپہنچتا داعی اجل کا بلاوا آگیا۔‘‘

یوسف علی خان کنوارے ہی 1949میں وفات پاگئے۔دنیا کے عظیم ماہر آرٹ اور نوادرات سالار جنگ کی عظیم روایت کو باقی رکھنے کے لیے نوادرات اور لائبریری کو ایک میوزیم کی شکل میں دیوان ڈیوڑھی میں آراستہ کیا گیا۔ اس کا افتتاح 16دسمبر 1951کی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا اور اس طرح سالارجنگ میوزیم کاآغاز ہوا۔ 1958تک یہ سالار جنگ اسٹیٹ کمیٹی کے زیر انتظام رہا لیکن اس کے بعد سالار جنگ کے اہل خانہ نے اس کو حکومت ہند کوعطیہ کر دیا ۔ 

احترام علی جن کے دادا نواب میر تراب علی جنگ سالار جنگ سوم کے چچازادبھائی تھے نے بتایا کہ ’’اگر ان نوادارات کو وارثوں میں تقسیم کردیا جاتا تو بعید نہیں کہ یہ سب فروخت ہوجاتا اور ملک سے باہر بھی جاسکتا تھا۔ یہ بہت اچھا ہے کہ یہ سب اب ایک میوزیم کی زینت ہے۔ ‘‘

تراب علی جنگ کا ماننا تھا کہ اس کو ملک کے سپر دکرکے وہ کوئی احسا ن نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کو محفوظ کرنے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہے ۔ کیوں کہ ان نوادرات کو محفوظ اور اسی طرح باقی رکھنے میں کافی زیادہ خرچ تھا اور اس کو حکومت ہند جیسا کوئی ادارہ ہی برداشت کرسکتا تھا۔ اوریہ بیش قیمت سرمایہ بغیر کسی شرط کے عطیہ کردیا گیا۔ 
احترام علی خان کہتے ہیں کہ’’دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوا۔ اس لیے اس خاندان کا بطور خاص لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ خاندان کے ایک فرد کو محض بورڈ کی ممبر شپ دی جاتی ہے اور ایسا باورکرایا جاتا ہے کہ یہ ان پر ایک بڑا احسان ہے۔ جب کہ اہم چیز شکر گزاری ہے۔‘‘

1961میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ سالارجنگ میوزیم کو قومی اہمیت والے ایک ادارہ کی حیثیت دی گئی اور تب سے اس کا انتظام ایک بورڈ کے ذریعہ چلایا جاتا ہے جس کا سربراہ ریاست کا گورنر ہوتا ہے۔ 1961میں یہ پورا سرمایہ موسی ندی کے سامنے ایک نئی عمارت میں منتقل کردیا گیا۔ میر تراب علی خان بھون (مغربی بلاک) اور میر لئیق علی خان بھون ( مشرقی بلاک) کا قیام سال 2000میں عمل میں آیا۔ دس ایکڑ اراضی پر پھیلے اس میوزیم میں نو ہزار مخطوطات، 43ہزار نوادرات اور47ہزار کتابیں ہیں۔گیلریوں میں چوتھی صدی اتنے پرانے نوادرات بھی ہیں۔ان میں انڈین ، ایشیائے مشرق آرٹ ، یوروپین آرٹ، مشرق وسطیٰ آرٹ اور بچوں کے آرٹ پر مشتمل گیلریاں ہیں۔ میوزیم میں سب سے دلچسپ چیز انیسویں صدی کی برطانوی میوزکل گھڑی ہے۔ سیاح گھنٹہ کے پورے ہونے پر کلاک ہال میں جمع ہوجاتے ہیں تاکہ وہ اس مشینی شخص کو دیکھ لیں جو کہ مشین کے اندر سے نکل کر گھنٹی پر ہتھوڑا مارتا ہے۔ میوزیم کا دوسرا اہم اور قیمتی سرمایہ اطالوی مجسمہ ساز جی بی بینزونی کے ذریعہ تراشہ گیا ریبیکا کا مجسمہ ہے۔ یہاں پر فرانس کے بادشاہ لوئس شانزدہم سے لے کر میسورکے ٹیپو سلطان تک کی ہاتھی کے دانت کی بنی کرسیا ں بھی ہیں۔

احترام علی خان کا ماننا ہے کہ تاریخ اور آرٹ کے حوالے سے کوئی جتنے بھی زاویے سے سوچے وہ تمام طرح کے نوادرات یہاں پر موجود پائے گا۔ احترام علی کا یہ بھی اندازہ ہے کہ ان نوادرات کی بدولت یہ میوزیم یوروپ کے میوزموں کو بھی پیچھے چھوڑسکتا ہے۔ ویلڈ ریبیکا کی طرف اشارہ کرکے انہوں نے کہا کہ بینزونی نے اپنی پوری عمر میں اس طرح کے صرف چار مجسمے بنائے تھے۔ اس کے علاوہ بقیہ تین فرانس، انگلینڈ اور اٹلی میں ہیں۔

احترام علی خان کہتے ہیں کہ’’اگر آپ سالار جنگ میوزم میں جائیں تو ہر طرف آپ کو زندگی ہی زندگی نظر آئے گی۔جب کہ یوروپ کے سب سے اچھے نوادرات میں بھی زندگی دکھائی نہیں دے گی۔ہمارے پاس فرانس کی آخری شہزادی میری انٹینیٹ کا ڈریسنگ ٹیبل بھی ہے۔ کیا آپ یہ سب سوچ سکتے ہیں۔ وہ اتنا سب کچھ اپنے ملک کے لیے کہاں سے جمع کریں گے۔‘‘

اس مجموعے میں پوشاک، آلات حرب وضرب، چھوٹی پنٹنگ ، بدری آرٹس، عربی اورفارسی کے مخطوطات، چینی مجموعے، یوروپین گھڑیاں اور فرنیچر ، سنگ مرمر کے یوروپین مجسمے، مصری اور شامی آرٹس اورمشرقی ایشیاء کے مجسمے شامل ہیں۔ 

سالار جنگ میوزیم کے ڈائرکٹر ناگیندر ریڈی نے بتایا’’اس مجموعہ میں زیادہ نوادرات بیرون ملک سے جمع کیے گئے ہیں اور یہ دیکھنے میں بھی نہایت خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس تقریبا 33ممالک سے نوادرات جمع ہیں۔‘‘

ہرروز یہاں تین سے چار ہزار لوگ میوزیم دیکھنے آتے ہیں ۔ اتوار یا چھٹی کے دنوں میں یہ تعداد چھ ہزار اور کبھی کبھی 12سے13ہزار یومیہ بھی ہوجاتی ہے۔ 

(یہ مضمون آئی ایے این ایس اور فرینک اسلام فاؤنڈیشن کے ذریعہ چلائے گئے ایک خصوصی سلسلہ کا حصہ ہے۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *