پیکر صبر جمیل

عبدالغفارصدیقی ۔نورپور۔بجنور ۔

Asia Times Desk

25مئی  کی صبح میرے لیے شام کے مانند ثابت ہوئی۔ایک دوست نے خبر دی کہ استاذ گرامی مولانا سراج الدین ندوی کے تین صاحب زادوں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ ایک بیٹےڈاکٹر شبلی کا انتقال ہوگیا۔ جبکہ دو بیٹے افنان و عدنان زخمی ہیں۔ میرے لیے یہ خبر ناقابل یقین سی تھی میری زبان سے نکلا ہمارا شبلی جواب ملا ہاں میرے پاؤں کی زمین نکل گئ اہلیہ کو بتایا تو آنکھیں چھلک پڑیں ۔
مولانا سے جو قلبی تعلق ہے وہ اظہاروبیان سے باہر ہے بچے ایسے کہ حقیقی بھائ ہوں ۔بے انتہا شریف سعادت مند عجز و انکسار ان کے خمیر میں ہے ایک گھنٹہ بعد اطلاع ملی کہ عدنان بھی اللہ کو پبارے ہوگئے اف کیا قیامت ہے۔مولانا حرم مکہ میں تھے ایک بڑا بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا ۔حرم میں طواف و عمرہ کے بعد ایک باپ اپنے جگر گوشوں کی صحت و سلامتی کی دعا کر رہا تھا ۔وہ رب کعبہ کے حضور ہاتھ اٹھائے کہہ رہا تھا اے میریے پروردگار میرے بچوں
کو دنیا کی مصیبتوں اور آزمائشوں سے نجات عطا فرما۔دوگھنٹے بعد دعا قبول ہوتی ہے ۔
دو بیٹوں کو اس دکھ بھری دنیا سے بلا کر جملہ آرام و آسائش سے معمور جنت میں منتقل کردیا جاتا ہے ۔
مولانا کو خبر ملتی ہے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون زبان و دل سے ادا کرتے ہیں۔ایک بار پھر بارگاہ ربالعزت میں سر جھکاتے ہیں پروودگار آپ ہی کی امانت تھی آپ نے واپس لے لی ۔ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں مولانا۔فون پر اہل خانہ کو تسلی دیتے ہیں اور حکم دیتے جتنی جلد ممکن ہو تدفین کردی جائے ۔ان کا رب ان کا منتظر ہے ۔جنت میں ان کے استقبال کی تیاریاں ہو چکی ہیں ۔میں اگرچہ پہلی فلائٹ سے واپس آرہا ہوں لیکن میرا انتظار نہ کیا جائے۔
پوسٹ مارٹم کی کارروائ کی وجہ سے عصر کی نماز کے بعد تدفین ہوتی ہے۔جنازے میں ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔گاؤں والوں کے بقول اتنی تعداد پہلی بار ہے ۔یہ ان معصوموں کے جنتی ہونے اور مولانا کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔ایک بڑی تعداد وقت معلوم نہ ہونے کے باعث محروم رہ جاتی ہے۔
مولانا دیر رات واپس آتے ہیں پہلے زخمی بیٹے کی عیادت کرتے ہیں ۔پھر گھر آتے ہیں ابو کو دیکھ کر باقی بھائ بہن چمٹ کر رونے لگتے ۔پدرانہ شفقت کے باعث مولانا کی آنکھیں بھی برستی ہیں ۔لیکن بہت جلد قرار آجاتا ہے سب کو تسلی دیتے ہیں۔سب کو اللہ کے فیصلوں پر راضی کرتے ہیں۔بیتاب ماں سے کہتے ہیں زبیدہ دیکھو ہم نے کتنی مشقتوں سے دنیا گزاری ہے۔یہاں کتنی تکلیفیں اٹھائ ہیں ۔دیکھو اللہ نے ہمارے بچوں کو ان تکلیفوں سے محفوظ کردیا۔شبلی کی بیوہ سے کہتے ہیں بیٹی غم نہ کرو اللہ تمہیں بہتر نعم البدل عطا فرمائے گا مجھے دیکھو میرا بیٹا واپس نہیں آئے گا میں نہبں روتا تو تم کیوں رو رہی ہو ۔صبر جمیل کا یہ پیکر صبح سے شام تک تعزیت کے لیے آنے والوں سے باتیں کرتا ۔سیکڑوں فون کے جواب دیتا ہے۔رات کو زخمی بیٹے کی عیادت کرتا ہے ۔اور ماہ مبارک کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے ۔آنے والے آبدیدہ آتے ہیں لیکن اس مرد مجاہد راضی برضا کے چہرے کا سکون اور طمانیت دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے بشارت ہے۔
 اللہ مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور زخمی افنان کو شفا ئے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے ۔آمین یا رب العالمین۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *