مولانا سلمان حسنی ندوی : دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

عدیل اختر

Asia Times Desk

مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت کرب محسوس ہو رہا ہے کہ بابری مسجد کا قضیہ تو ابھی سلجھنا باقی ہے، مگر اسے سلجھانے کے چکر میں ایک محترم عالم دین نے خود کو ہلاک کرلیا اور ملت اسلامیہ ہند کو ایک نئے صدمہ سے دوچار کردیا۔ میرے نزدیک مولانا سلمان حسنی کی معنوی موت واقع ہوگئی ہے اور یہ ملت اسلامیہ ہند ہی نہیں بلک تمام ہی مسلمانوں کے لئے ایک نقصان کی بات ہے۔ اس نقصان پر ہمیں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس دعا کاورد کرنا چاہیے ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا۔۔۔
‌سلمان حسنی صاحب اگرچہ متلون مزاج، پر جوش اور جذباتی آدمی ہیں تاہم ان کی بنیادی فکر ،جذبہ اور جوش دینی و ملی غیرت سے عبارت ہے، ان کی تلون مزاجی اور جو شیلاپن ان کی ایک ذاتی کمزوری اور عذر کہا جا سکتا ہے۔ میں نے جتنا کچھ انہیں جانا ہے اس کے بیان کا تو یہاں موقع نہیں ہے، بس اتنی بات ضرور عرض کروں گا کہ ان کے مزاجی تلون کی داستان میرے نزدیک وہاں سے شروع ہوتی ہے جب انہوں نےاپنے آغاز شباب میں اس وقت کی ایک اہم طلبہ تنظیم کے اسٹیج پر بے اعتدالی کا مظاہرہ کیا تھا اور جوش شباب میں جمیعت الشباب بنا لی تھی، اس کے بعد کی ساری داستان کو نظر انداز کر تے ہوئے میں براہ راست موضوع موجودہ پر آتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا سلمان حسنی ندوی صاحب اپنے مزاج کے عدم استقلال اور دوسری طبعی کمزور یوں نیز مالیاتی بے ضابطگی کی کچھ شکایتوں کے باوجود ملت اسلامیہ ہند کے لئے ایک اہم شخصیت رہے ہیں اور میں خود بھی انہیں عزت و محبت کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہوں اس لئے یہ تنقیدی تبصرہ کرتے ہوئے مجھے دکھ محسوس ہو رہا ہے،اوردکھ کا اظہار کرنا ہی اس تحریر کا مقصد بھی ہے۔ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ حضرت مولانا نے اپنا رہا سہا بھرم اک دم سے خود ہی کھو دیا۔ اس قحط الرجال میں، خاص طور سے اس تناظر میں کہ لائق اعتبار علماء کی صف میں بھی وہ علماء خال خال ہی نظر آتے ہیں،جن کی فکر میں قرآن وسنت کے بنیادی پیغام کی رو سے خامی اور خلل نہ ہو اور عوام کو صحیح دینی فکر اور شعور دینے کا جذبہ رکھتے ہوں، مولانا سلمان حسنی کی موجودگی بسا غنیمت تھی، لیکن افسوس کہ شیطان کا داوں ان پر چل گیا۔
سلمان ندوی صاحب کی مذمت جس بات پر ہو رہی ہے اس میں وہ صحیح ہیں یا غلط اس پر بات کرنے سے پہلے ان کی جو موٹی موٹی غلطیاں ہیں وہ قارئین کو سمجھ لینا چاہیں۔
ان کا پہلا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اجتماعیت، مشورہ اور اطاعت کے الہی احکام کی کھلی خلاف ورزی کی۔ بابری مسجد جیسے حساس، نازک اور انتہائی اہم معاملہ میں انہوں نے پرسنل لا بورڈ جیسے ہندستانی مسلمانوں کے واحد اجتماعی ادارے کا رکن ہوتے ہوئے خود سری کا راستہ اختیار کیا، فریق مخالف سے اس معاملے میں گفت و شنید کا ڈول ڈالا، اس کی پیش کش کو اور تجویز کو قبول کیا اور خود کوتمام مسلمانوں کا اکیلا نمائندہ سمجھنے کی غلطی کرتے ہوئے گویا ایک معاملہ طے کرلیا۔ اس کے نتائج اور نقصانات تو اپنی جگہ، یہ اپنے آپ میں خود ایک گناہ عظیم ہے۔
دوسری غلط حرکت انہوں نے یہ کی کہ ملک میں تنازعات کے تصفیہ کا جو قانونی نظام ہے یعنی عدالت اسے بے اثر اور بے وزن کرنے کی کوشش میں ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوئے جو ہندوؤں کی خواہش، دھونس اور غنڈہ گردی کو ملک کا قانون بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت اس بڑے مسلہ کا قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی کاروائی شروع کر نے جا رہی ہے اور چیف جسٹس صاحب اعلانیہ یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ جذباتی دعووں اور عقیدت کی بنیاد پر نہیں کیا جا ئے گا بلکہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ ہوگا، ہندوؤں کی بھاونا اور عدالت سے باہر فیصلہ کی بات کرنے والوں کے ساتھ سلمان حسنی صاحب کا کھڑا ہو نا ہندستانی سماج کے قانون پسند لوگوں کو دھوکا اور دھکا دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ سلمان حسنی صاحب دین اور دستور دونوں اعتبار سے بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی مذمت اور سزا دونوں ضروری ہیں۔
اپنے مجرمانہ قدم پر ڈھٹائی کے ساتھ قائم رہنا اور توبہ تلافی کے بجائے پرسنل لا بورڈ اور اس کے دیگر ذمہ داروں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جانا ان کا ایک اور مزید جرم ہے۔ اللہ انہیں ان تمام جرائم س تائب ہونے کی توفیق دے، آمین۔
اب آئیے اس بات پر کہ بابری مسجد تنازعہ سے متعلق مسلم پرسنل لا بورڈ اور عام مسلمانوں کا ابھی تک کا موقف درست ہے یا اس طرح کی باتیں جو بار بارسامنے آتی ہیں اور تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے ہندوؤں سے سمجھوتے پر اصرار کرتی ہیں۔
١. بابری مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں، مسلمانوں نے ہندوؤں سے سیدھے لڑنے کے بجائے حکومت اور عدالت کا احترام کیا اور اپنی شکایت وہاں کی۔
٢. اس کے بعد مسجد میں تالا ڈالآ گیا، حکومت اور عدالت کا رویہ جانب دارانہ اور غیر منصفانہ تھا، لیکن مسلمانوں نے عدالت کو گالی نہیں دی، حکومت کے خلاف احتجاج نہیں کیا، عدالتی نظام کے اگلے مرحلہ کی پیروی کی اورصبر کے ساتھ انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کیا۔
٣, ہندوؤں نے بابری مسجد کا تالا کھلوانے اور وہاں پوجا کےلئے سڑکوں پر ہنگامے شروع کئے, لیکن مسلمانوں نے ہندوؤں پر حملے نہیں کئے اور نہ جواب میں کوئی تحریک چلائی۔
4۔ عدالت نے مسجد کا تالا کھولنے اور ہندوؤں کو پوجا کرنے کا حکم دیا، مسلمانوں نے احتجاج کیا لیکن ہندوؤں سے لڑائی نہیں چھیڑی۔
5. بابری مسجد میں رام للا کا مندر باقاعدہ قائم ہو گیا مسلمانوں کے سینے سلگتے رہے، عدالت اور حکومت قانون اور اخلاق کے بجائے ہندوؤں کے جذبات کی طرف داری کرتے رہے لیکن مسلمانوں نے لا قانونیت کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ ملک، سماج اور عدالتی نظام کا ضمیر جھنجھوڑ نے کی امید کے ساتھ بے کسی و بے بسی کی تصویر بنے آنے والے وقت کا انتظار کر تے رہے۔ نہ قیادت اور نہ ہی عوام نے حکومت اور سماج سے بغاوت کی۔ بابری مسجد کو عنوان بناکر ہندوؤں سے لڑنے کی کوئی تحریک شروع نہیں ہوئی۔ ہندو نواز حکومت اور ہندو نواز عدالت پر خود ہندو تو بے اعتمادی کا اظہار کرتے رہے، لیکن مسلمانوں نے اعتماد نہ ہو نے کے باوجود عدم اعتماد ظاہر نہیں کیا۔
6. ہندوؤں نے اپنی اجتماعی غنڈہ گردی اور ہندوتوا دی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو دن دھاڑے منہدم کر دیا، مسلمان سڑکوں پر آئے، ،سینوں پر گولیاں کھائیں، جانوں کے نذرانے پیش کئے، لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلمانوں کو بے قابو ہونے اور ہوش کھو دینے سے روکا۔ عدالت اپنا اعتبار کھو چکی تھی، حکومت اپنی دھوتی کھول کر ناچ رہی تھی اور اپنی ہندو شناخت مسلمانوں کو دکھا رہی تھی لیکن مسلمانوں اس کی شرم گاہ پر حملہ نہیں کیا، عدالت کے منہ پر نہیں تھوکا۔ کیوں؟ کیونکہ مسلمانوں کی اجتماعی قیادت (پرسنل لا بورڈ) اجتماعی مشورے سے مسلمانوں کی رہنمائی کررہی تھی اور آگے کا راستہ تلاش کرنے میں لگی تھی۔
اجتماعیت ا ور مشورہ اللہ کو نہ صرف محبوب ہے بلکہ مطلوب ہے۔ اس لئے اللہ نے اس میں بہت برکت رکھی ہے۔ اجتماعی فیصلہ میں خیر ہی خیر ہے۔ اجتماعی فیصلہ اگر ایمان داری اور خلوصِ سے ہو تو غلط ہونے پر بھی غلط نتیجے نہیں دیتا۔ بورڈ نے بابری مسجد کے سلسلے میں جو اجتماعی موقف ابھی تک اختیار کیا ہے، بورڈ کے اندر اور باہر بہت سے لوگوں کو اس سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس موقف کی وجہ سے بابری مسجد مقدمہ میں مسلمانوں کی قانونی، اخلاقی اور منطقی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔ فریق مخالف مسلمانوں کے مقابلہ پر اخلاق، قانون اور منطق کے اعتبار سے ذلیل ہو چکا ہے اور آستھا کے جھوٹے دعوے کے علاوہ کوئی چیز اس کے پاس ایسی نہیں بچی جسے وہ اپنے دعوے کی تا ئید میں پیش کر سکے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صبر کے صلہ میں، اجتماعیت کی برکت سے اور اپنی خاص حکمت سے اس مقدمہ کو ہندو بنام ہندستان (کثیر قومی سیکولر جمہوری نظام حکومت و عدالت) مقدمہ بنا دیا ہے۔ اب نظام حکومت و عدالت کو خود ہی اپنی آبرو کو بچانا ہے یا اپنی عصمت دری کرانے کے لئے خود ہی ہندوؤں کے آگے لیٹ جانا ہے۔
ہندو فریق مسلمانوں سے ہاری ہوئی اس جنگ کو جیتنے کے لئے مسلمانوں کے اتحاد کو توڈنے میں لگا ہے۔ پرسنل لا بورڈ اور اس سے وابستہ لوگ خود مسلمانوں کی نگاہ میں کیسے کچھ ہوں لیکن دشمن کے لئے بہت بڑی دیوار ہے۔ اس دیوار کو گرانے کے لئے اس میں سوراخ کرنے کی کوششیں یا جو ج ماجوج کی طرح ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔ اس بار ایک بڑی اینٹ دشمن نے چاٹ کر کھالی ہے۔ لیکن جو خدا یاجوج ماجوج سے دیوار ذوالقرنین کو محفوظ رکھے ہوئے ہے وہ بقینا اس دیوار کو بھی تب تک باقی رکھے گا جب تک اس کی ضرورت رہے گی۔ البتہ اس کی ہر اینٹ کو اپنی حیثیت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ کوئی اینٹ خود کو دیوار نہ سمجے ، ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ سلمان حسنی صاحب کی طرح اسے مسلمانوں کی نگاہ میں بے وقعت و بے عزت کر دیں گے۔
(باقی آئیندہ، انشا ء اللہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *