افغانستان اور عام انتخابات

محمد شمیم اختر

admin

جنگ سے تباہ شد ہ افغانستان میںاس برس اکتوبر میں انتخابات منعقد کئے جانے والے ہیں۔ ان انتخابات کا انعقاد ایسے وقت کیا جارہا ہے جب سیاسی اور جنگی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس شورش زدہ ملک کے ۶۰ فیصد سے بھی کم حصے میں افغانستان کے حفاظتی دستوں کا کنٹرول ہے اور باقی علاقوں میںطالبان کا قبضہ ہے یا پھر طالبان یا حفاظتی دستے ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات پہلے ہی منعقد کئے جانے والے تھے لیکن حالات کے پیش نظر اسے موخر کیا گیا اور پھر اکتوبر میں اس کے انعقاد کی تاریخیں مقر ر کی گئیں۔ اب اس میں صرف پانچ مہینے باقی ر ہ گئے ہیں لیکن صورتحال کچھ ایسی ہوتی جارہی ہے کہ ماہرین انتخابات کے تئیں زیاد ہ پر امید نظر نہیں آرہے ہیں۔ اس کی اہم وجہ گزشتہ چند مہینوں میں کابل سمیت مختلف علاقوں میں تباہ کن دھماکوں اورحملوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔

طالبان نے تو اب موسم بہار میں کئے جانے والے حملے بھی شروع کر دیئے ہیںجو افغان حکومت اور ساتھ میں افغانستان میں کام کررہی اتحادی افواج کے لئے تشویش کا باعث ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ طالبان اب خصوصی طور پر افغانستان کی کمزور جمہوریت کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ طالبان اب وزارت کی عمارتوں، انتخابی کمیشن کے عہدیداروں، آزاد مقامی اور مغربی ممالک کے میڈیا کے لئے کام کرنے والے صحافیوں پر بار بارحملے کررہا ہے اورافغانستان کی کمزور جمہوریت کو مزید کمزور بنا رہا ہے ۔

افغانستا ن میں صحافیوں پر تاز ہ حملے گزشتہ مہینے کی ۳۰ تاریخ کو ہوئے جس میں ۱۰ صحافی مارے گئے ۔ دارالحکومت کابل کے شاہ درک علاقے میں ۳۰ اپریل کو دو دھماکے ہوئے ۔ پہلا دھماکہ تقریبا ۸ بجے صبح پیش آیا ۔ سارے صحافی اس دھماکے کی رپورٹنگ کے لئے شاہ درک پہونچے ہی تھے کہ دوسرادھماکہ ہو گیا ۔ دونوں دھماکوں میں خود کش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو اڑا لیا ۔دوسرے دھماکے میں خود کش حملہ آورٹی وی کیمرہ مین کی شکل میں وہاں پہنچا تھا ۔اس دھماکے میں اے ایف پی، ریڈیو فری یوروپ، مقامی ٹیلی ویژن چینل طلوع، ون ٹی وی کے نامہ نگاراور مشعل ٹی وی کے کیمر ہ مین نے اپنی جان گنوائی۔ ریڈیو فری یوروپ کے کیمرہ مین سباون کاکر اپنے زخموں کی تاب نہ لاسکے اور اسپتال میں انہوں نے دم توڑا ۔
تقریبا ایک ہفتہ قبل کابل اور صوبہ غزنی دونوںہی جگہوں پر طالبان نے ووٹر رجسٹریشن مراکز پر حملے کئے جس میں تقریبا ۶۳ افراد کی جانیں گئیں۔ اس سے پہلے دارالحکومت کابل میں ہی کئی ووٹر رجسٹریشن مراکز پر حملے ہو چکے ہیں اور طالبان نے معصوم افراد کی جانیں لے لی ہیں۔

افغانستان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے میں طالبا ن کو اب ایک اور شورش پسند تنظیم کا ساتھ مل چکا ہے ۔ طالبان کے ساتھ ساتھ اب داعش نے بھی شدت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے ۔ کابل میں مئی کے پہلے ہفتے میں تین حملے ہوئے اور تینوںہی حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ اس میں پہلا حملہ دشت برچی علاقے میں پولس اسٹیشن کے نزدیک پیش آیا جبکہ دو دھماکے کابل کے مرکزی علاقے شہر نو میں پیش آئے ۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ہی مشرقی افغانستان میں ظہر کی نماز کے بعد ایک حملہ ہوا جس میں ۱۴ افراد ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی لیکن ایسا اندازہ ہے کہ اس میں طالبان کے ساتھ ساتھ د اعش کا بھی ہاتھ رہا ہوگا ۔ اپریل کے آخری ہفتے میں ہی کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا ۔اس دھماکے نے درجنوں معصوموں کی جانیں لے لیں۔ بعد میں داعش نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ۔

ایسا نہیں ہے کہ افغانستان میں بحالی امن کی کوششیں نہیں کی جارہی ہیں۔ فروری ہی میں صدر اشرف غنی نے اپنے ملک میں امن کی بحالی کے لئے طالبان کے سامنے فوری جنگ بندی اور بلا مشروط بات چیت کی تجویز پیش کی لیکن اس کے ردعمل میں انہیں بات چیت کے لئے میز پر آنے کا جواب تو نہیں ملا البتہ طالبان اور داعش کی جانب سے انجام دیئے جانے والے تشدد کے واقعات کا تحفہ ضرور ملا ۔ گزشتہ برس اگست میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’ فتح کے لئے جنگ‘ حکمت عملی کا آغاز کیا جس کے تحت انہوں نے تین ہزار اضافی فوجی جوان افغانستان میں تعینا ت کیا اورر دہشت گردی سے مقابلے میں مزید شدت لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے ناٹو اتحادیوں سے بھی امداد میں اضافے کی گزارش کی ۔ لیکن ان کی یہ حکمت عملی بھی کام نہ آئی ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کے لئے امریکہ کے پاس کوئی جامع اور مکمل حکمت عملی نہیں ہے لہذا خطرہ یہ ہے کہ افغانستان کہیںامریکی افواج کے لئے تربیت کا ایک میدان اور ہتھیاروں کی تجربہ گاہ نہ بن کر رہ جائے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ اب یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ایوان بالا کے ریپبلک پارٹی کے رکن رینڈ پال کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کئی بار ان سے کہا ہے کہ امریکہ کو ’فتح کے لئے جنگ ‘ کی حکمت عملی کو فراموش کر دینا چاہئے اور اس شورش زدہ ملک سے باہر نکل جانا چاہئے۔
لیکن ماہرین کہتے ہیں ٹرمپ کچھ بھی کہ لیں امریکہ اب افغانستان سے جلدی باہر نہیں آسکتا ۔ واشنگٹن میں اب لوگ اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ افغانستان میں جنگ کو نہ تو جیتا جا سکتا ہے اور بحالی امن کی بات چیت کے لئے طالبان اور دیگر شورش پسندوںکے تیار نہ ہونے کی وجہ سے نہ ہی اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور بحالی امن کی ایک کوشش ۱۱ مئی کو انڈونیشیا میں بھی کی گئی جب انڈنیشیا نے افغانستان، پاکستان اور اپنے ملک کے علما کی ایک سہ سطحی کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ اس میں تینوں ممالک کے مذہبی دانشوروں نے شرکت کی ۔اس کانفرنس میں تمام شرکا نے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے لئے پانچ موضوعات : اسلام میں امن اور دوستی ، پرتشدد انتہا پسندی اور اعتدال، علما کا رول، ملک کا کردار اور اس کے بعدکی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امن کے لئے بوگور علما قرارداد نے افغانستان اور دنیائے اسلام میں امن کی بحالی میں مدد کے لئے مشترکہ طور پر کوشش کا عزم کیا ۔ تمام شرکا نے شورش میں ملوث تمام فریقوں سے امن مذاکرات میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی ۔

ہندوستان کا بھی ہمیشہ سے ہی اپنے ہمسایہ ممالک میں امن و چین کی بحالی کا موقف رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے ہمیشہ ہی افغانستان کی ہر طرح سے مدد کی ہے ۔اب امید یہ کی جانی چاہئے کہ افغانستان، پاکستان او ر انڈونیشیا کے علما کرام کی اپیل اور صدر اشرف غنی کے امن مذاکرات کی گزارش افغانستان جیسے شورش زدہ ملک میں بحالی امن کی کوششوں میں تمام فریقوں کو ایک میز پر لانے میں موثر ہو اور اکتوبر میں کامیابی سے عام انتخابات منعقد ہو جائیں اور ہمارے ہمسایہ ملک میں امن و استحکام کا بول بالا ہو۔ لیکن یہ بھی طے ہے کے اس کے لئے پاکستان کو تمام تخریبی کاموں سے توبہ کرکے افغانستان میں بحالی امن کے لئے کھلے دل سے کام کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *