تاریخ کے صفحات سے: معروف ماہر تعلیم افضل حسین مرحوم سے کوکب صدیقی امریکہ کا خصوصی انٹر ویو  

کوکب صدیقی امریکہ

admin

سوال: ہندوستان کے بے شمار مسائل میں سے آپ کی رائے میں کون سا سب سے اہم ہے؟

جواب: فقر وفاقہ، مرض و جہالت، اونچ نیچ، کرپشن، خداناشناسی اور آخرت سے غفلت وغیرہ سنگین مسائل ہیں، جن سے ملک و ملت دونوں دوچار ہیں۔

سوال: ہندوستان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مسلمان اقلیت کے مستقبل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: مسلمان اقلیت کا مستقبل روشن بھی ہے اور تاریک بھی ۔ (آزادی کے بعد) تیس سال میں پہلی بار انھوں نے اپنی جو اہمیت منوائی ہے، اگر وہ اسے برقرار رکھ سکے اور مل جل کر سچے مسلمان کی طرح صحت مند اور صالح سماج کی تعمیر اور ملک وملت کی ہمہ جہتی تعمیر و ترقی میں مؤثر رول ادا کرسکے تو ہندوستان میں ان کا مستقبل شاندار ہے۔ اگر اس ضمن میں غفلت برتی گئی تو مستقبل معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا مقام و منصب پہچاننے اور اس دین کی قولی و عملی شہادت دینے کی ہم سب مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے، جس کی امتِ مسلمہ امین ہے۔

سوال: جماعتِ اسلامی ہند کا تنظیمی ڈھانچہ کس نوعیت کا ہے اور کیا جماعت کانظم اس قابل ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو یکجا کرسکے؟

جواب: جماعتِ اسلامی ہند کا تنظیمی ڈھانچہ جمہوری ہے۔ امیرِ جماعت، شوریٰ اور نمائندگان چار سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جملہ ارکانِ جماعت، نمائندگان کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں جو امیرِ جماعت اور شوریٰ کا انتخاب کرتے ہیں۔ فیصلے کثرتِ رائے سے ہوتے ہیں۔ امرائے حلقہ جات اور مقامی امراء کا تقرر حلقے اور مقامی ارکان کی رایوں کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے۔ حلقے کی شوریٰ بھی ہوتی ہے اور مقامی جماعت اگر بڑی ہو تو مقامی شوریٰ بھی ہوتی ہے، یہ بھی ارکانِ حلقہ یا ارکانِ مقامی کی منتخب کردہ ہوتی ہے۔ امیر حلقہ یا امیر مقامی ان کے مشورے سے کام کرتے ہیں، فیصلے کثرتِ آراء سے ہوتے ہیں۔ اسلام ایک مسلمان سے کم سے کم جو مطالبہ کرتا ہے، جماعت کی رکنیت کے لیے وہی معیار رکھا گیا ہے۔ جماعت کے دینی و ملّی اور خدمتِ خلق کے کاموں میں تعاون حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں (مردوں اور خواتین) کو متفق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ متفق بننے کے لیے ایک فارم پُر کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ملکی و سماجی مسائل کے حل، بھلائیوں کے فروغ، برائیوں کے ازالے اور خدمتِ خلق کے پروگرام میں زیادہ سے زیادہ غیر مسلموں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

معاون کا فارم بھرنے والوں کو جماعت کا معاون سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چار سالہ میقات میں چالیس ہزار سے زیادہ مرد اور پانچ ہزار سے زائد خواتین متفق بن چکی ہیں۔ ویسے لاکھوں مسلمان تعاون کرتے اور ہمارے کاموں کو اچھی نظر سے دیکھتے اور قدر کرتے ہیں۔ غیر مسلم بھائی بھی بڑی تعداد میں ہم سے متعارف ہیں۔ ہمارے کاموں کو پسند کرتے ہیں۔ وسیع روابط ہیں اور ایک ہزار کے قریب معاون بن چکے ہیں۔

ہمارا پروگرام ایسا ہے کہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کی توفیق بخشی تو مسلمانوں ہی کی نہیں، بلکہ غیر مسلموں کی بھی بڑی تعداد کو پاکیزہ مقاصد کے لیے یکجا کیا جاسکتا ہے۔

سوال: جماعتِ اسلامی ہند غربت اور افلاس کے مسئلے کو کس طرح حل کرنا چاہتی ہے؟

جواب: فقر و فاقہ اور افلاس و پس ماندگی کو دور کرنے اور یتیموں،بیواؤں اور معذوروں کی امداد کے سلسلے میں جماعت ایک طرف مقامی وسائل و ذرائع سے فنڈ فراہم کرنے کی کوشش کرتی اور اس سے امداد کرتی ہے، وہیں دوسری طرف گھریلو چھوٹی صنعتوں کے قیام، روزگار کی فراہمی وغیرہ کے ضمن میں بلاسودی قرض کی اسکیموں سے بھی ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جگہ جگہ سوسائٹیوں اور امدادِ باہمی کی انجمنوں کے قیام پر بھی زور دیتی ہے۔ مصیبت زدوں اور مظلوموں کی ریلیف اور بازآبادکاری کے سلسلے میں بھی حسبِ ضرورت فنڈ فراہم کرتی ہے۔ چورانوے (۹۴) بلاسودی سوسائٹیاں اور خدمتِ خلق کے چھیاسی (۸۶) ادارے کام کررہے ہیں۔ طبی سہولتیں بہم پہنچانے کا بھی اہتمام ہے۔ تین میٹرنٹی (زچہ بچہ) ہسپتالوں کے علاوہ چوبیس (۲۴) دوسرے چھوٹے بڑے طبّی امداد کے مراکز ہیں۔ خدمتِ خلق کے مختلف کاموں کو انجام دینے کے سلسلے میں جائز حدوں میں حکومت کی ترقیاتی وامدادی اسکیموں، سرکاری و نیم سرکاری یا آزاد سماجی اداروں اور انجمنوں اور پنچایتوں، کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے مراکز، سوشل ویلفیئر سنٹروں، امدادِ باہمی کی اسکیموں، پس ماندہ ذاتوں کے لیے قائم امدادی مراکز اور دوسرے رفاہی اداروں سے تعاون کرنے اور ان سے تعاون و امداد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی اسکیم یا ادارہ سے استفادہ میں ان کا کوئی ضابطہ مانع ہو اور جائز حدود میں استفادہ ممکن نہ ہو تو ان ضوابط میں ضروری ترمیم کرانے کی کوشش بھی پروگرام میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ معاشی استحصال اور سماجی و معاشی ظلم و تعدی کو دور کرنے اور آجر و مستاجر (مالک اور مزدور) کے تعلقات کو درست کرنے اور بہتر بنانے کی تدابیر اختیار کرنے کے ضمن میں بھی اہلِ ملک سے تعاون کرنے اور ان کاتعاون لینے کو بھی پروگرام کاجز بنایا گیاہے۔

سوال: اگر اسلام مساوات و اخوت کا علمبردار ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے نچلے طبقے اور شودر ذات کے لوگ مسلمان نہیں ہوجاتے؟ اس کے برعکس غرباء میں سے ہزاروں لوگ عیسائیت قبول کرچکے ہیں؟

جواب: اسلام مساوات و اخوت کا علمبردار ہے، اس کا ساری دنیا کو اعتراف ہے۔ اسلام کے لیے جس درجے میں بھی جدوجہد کی گئی ہے اس کے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ معاشی اعتبار سے مفلوک الحال ہونے کی وجہ سے مشنریوں کی طرح پس ماندہ ذاتوں اور شودروں کی خاطر خواہ امداد نہیں کی جاسکتی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی طرح منظم جدوجہد بھی نہیں کی گئی، یہ ہمارا قصور ہے نہ کہ اسلام کا۔ اب کسی درجہ میں توجہ ہوئی ہے۔

سوال: کیا اسلام ایک عالمگیر تحریک ہے؟ اوراگر ہے تو کیا وجہ ہے کہ اسلامی تنظیموں کا تعلق کسی بھی تحریکِ آزادی سے نہیں ہے۔ اور مظلوم عوام کا ساتھ کہیں بھی نہیں دیا جارہا ہے؟

جواب: اسلام ایک عالمگیر تحریک ہے جو انسانوں کو اللہ کا بندہ بناتی ہے اور باقی سب کی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کرتی ہے۔ہر اسلامی تنظیم کو مظلوم عوام کو ظالموں کے پنجے سے چھڑانے اور غیراللہ کی غلامی سے آزاد کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ تو ان کے پروگرام کا اہم اور بنیادی نکتہ ہونا چاہیے۔ البتہ آزادی اور مظلوم عوام کی مدد کے نام سے جتنی سیاسی تحریکیں چل رہی ہیں اور خوش کن نعروں سے عوام کو گمراہ کرتی ہیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ بسا اوقات اسی احتیاط کی وجہ سے بعض اسلامی تنظیموں کے خلاف پروپیگنڈہ کردیا جاتا ہے کہ انھیں تحریکِ آزادی سے دلچسپی نہیں ہے اور نہ وہ مظلوموں سے ہمدردی رکھتی ہیں۔

سوال: سعودی عرب کے بارے میں جماعتِ اسلامی اکثر خوش فہمی کا شکار نظر آتی ہے۔ سعودی حکومت کے تمام ہی بڑے لوگ اپنے اسراف اور دیگر برائیوں کے لیے مشہور ہیں۔ ان لوگوں کے امریکی سامراج سے گہرے تعلقات ہیں۔ جماعت جس قدر سعودی حکومت کے قریب آئے گی اسی قدر دنیا کے مظلوم عوام سے دور ہوتی چلی جائے گی کیونکہ سعودی حکومت ہر مخالف کو کمیونسٹ تصور کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ سے گزارش ہے کہ جماعت اور سعودی حکومت کے تعلقات کی وضاحت کردیں؟

جواب: ہمارا ملک بہت وسیع ہے۔ کثیر آبادی کی وجہ سے طرح طرح کے سنگین مسائل ہیں۔ ہمارے سامنے وسیع پروگرام اور بہت سے کام ہیں، ہم اپنی قوتیں اور وسائل و ذرائع اپنے ملک ہی میں لگاتے ہیں۔ اپنے ہی پیر پر کھڑے ہوکر یہ کام انجام دیتے ہیں، نہ ہم کسی اور کی طرف دیکھتے اور نہ کسی کے معاملے میں دخل دیتے ہیں۔

البتہ ایسے عالمی مسائل جن پر اظہارِخیال کرنا اخلاق وانسانیت کا تقاضا ہے، جماعت اسلامی ہند حسبِ ضرورت بے لاگ منصفانہ اظہارِ خیال کرتی ہے۔ اسلامی اخوت کا شعور عام کرنے اور اسلام کی دعوت کا کام دنیا میں جہاں بھی ہورہا ہو، اس سے ربط رکھنے کی بھی کوشش کرتی ہے۔

سوال: تحریکِ اسلامی میں خواتین کے لیے کیا رول ہے؟

جواب: ہماری نصف آبادی صنفِ نازک پر مشتمل ہے، ان میں اصلاح و تربیت کا اور خدمتِ خلق کا کام بہتر طور سے ہماری خواتین ہی انجام دے سکتی ہیں۔ وہ ان کی نفسیات سے بھی خوف واقف ہیں اور ان کی ضروریات سے بھی اور وہی ان سے گھل مل کر ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے میں مفید ہوسکتی ہیں۔ اس طرح گھروں کی فضا سازگار اور اسلامی معاشرہ اور نئی نسل کو اس پیغام کا بہتر امین بنانے اور آئندہ نسلوں کو دیانت داری کے ساتھ اس امانت کو لے جانے کے لیے تیار کرنے میں بھی ہماری خواتین کا رول سب سے زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ کوئی اسلامی تحریک خواتین کا پورا تعاون حاصل کیے بغیر اپنے فرائض کما حقہ انجام نہیں دے سکتی۔ ہمارے یہاں آزادیِ نسواں، تجدد اور حقوقِ نسواں کے تحفظ کے نام سے مسلم پرسنل لا میں مداخلت، یکساں سول کوڈ کے لیے فضا سازگار کرنے کی بھی کوششیں ہورہی ہیں۔ اور جنریشن گیپ پیدا کرکے ملّی تشخص کو بھی ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایسی صورت میں تو خواتین کو اور زیادہ سرگرم ہونے اور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مؤثر رول ادا کرسکیں۔

سوال: امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟

جواب: امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے میری طرف سے پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے جزوی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر درج ذیل امور کے لیے متحدہ جدوجہد کریں

الف) تربیت: اپنی اور اپنے اہل و عیال اور دوسرے مسلمان بھائیوں، بہنوں کی اصلاح و تربیت کریں تاکہ ان کے عقائد، اخلاق و معاملات نیز ان کی انفرادی و اجتماعی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوجائیں اور وہ داعیِ حق بن کر اس دین کی قولی وعملی شہادت دے سکیں، جس کے وہ بحیثیتِ ملت امین ہیں۔

ب) دعوت: غیر مسلم بھائیوں کو اسلام سے متعارف کرانا اور ان تک احسن طریقے سے اسلام کی دعوت پہنچانا۔

ج) نئی نسل کی دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام: اس کے لیے گھروں اور پاس پڑوس کی فضا کو سازگار بنانا، تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اور مسلمان طلبہ کی معرفت غیر مسلم طلبہ تک دین پہنچانے کی کوشش۔

د) مواساۃ و مرحمت: خدمتِ خلق کے کام بلالحاظِ مذہب و ملت اور ملک و وطن، مظلوموں، معذوروں اور مصیبت زدوں کے لیے جو کچھ کیا جاسکتا ہو، اسے کرنے کی فکر۔

ہ) اسلام کی بنیاد پر مسلمانوں میں نظم و اتحاد اور یہاں بسنے والے تمام مسلمانوں کو خواہ ان کا سابقہ ملک و وطن کوئی بھی رہا ہو، ملا کر ایک یونیورسل برادری بنانے کی کوشش کرنا، تاکہ مل جل کر سب کام ہوسکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نقاطِ اتفاق تلاش کیے جائیں اور اختلافی امور و مسائل سے صرفِ نظر کیا جائے

بہ شکریہ افضل حسین ڈاٹ کام 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *