محب وطن حاجی احمد علی انصاری کی قربانیوں کوفراموش نہیں کیا جا سکتا

ڈاکٹر زینت کوثر

Asia Times Desk

حاجی احمد علی انصاری کے اندر حب الوطنی کا جذبہ کمسنی میں ہی پیدا ہو گیا تھا اور انھوں نے ملک کی آزادی کے لیے ہر ممکن کوشش کی. 24 نومبر کو ان کی یومِ وفات تھی۔ اس موقع پر پیش ہے ایک تحقیقی مضمون۔

مرد مجاہد حاجی احمد علی انصاری وہ محب وطن ہیں جنہوں نے ہندوستان کی آزادی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ انکی پیدائش اتر پردیش کے غازی پور ضلع کے اوسیا موضع تھانہ دلدارنگر میں ہوئی تھی۔ یہ واقعہ 21 اپریل 1917 کا ہے۔ انکا گھرانہ ایک متو

سط گھرانہ تھا۔ انکے والد کا نام جان محمد تھا اور انکے پردادا رحیم بخش اور کریم بخش تھے۔ ان لوگوں کا خاندانی پیشہ تجارت اور زراعت تھا۔ ان کے آباء و اجداد کا خاندان بڑی عزت اور وقار والا مانا جاتا تھا۔ وہ لوگ فوج میں کمبل، چادر، دری اور دوسری ضروری اشیائ سپلائی کیا کرتے تھے۔

ان لوگوں کے آباد و اجداد پہلے ہندو تھے بعد میں یہ لوگ اسلام لائے اور اس طرح مسلمان ہو گئے۔ دادھیال کی طرف سے وہ لوگ ٹھاکر تھے اور نانیہال کی طرف سے ان لوگوں کا سلسلہ برہمنوں سے ملتا تھا۔ شروع سے یہ خاندان مُنیا میں آ بسا لیکن وہاں کے پٹھانوں کے ساتھ انکے تعلقات کبھی اچھے نہیں بن پائے اور آئے دن ان سے اختلاف ہوتے رہے۔ لہٰذا تنگ آکر ان کا آدھا خاندان برما میں جا بسا۔ باقی لوگ سید پور محمد آباد کے لوگوں سے ملتے جلتے گئے۔ وہاں کے مسلمان ان لوگوں کے بلند اخلاق سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں پناہ دیا۔ غرض رسیاں خان کے پناہ دینے پر یہ خاندان انکے علاقے میں جا بسا اور اسے ہی اپنا مسکن بنا لیا۔ پولس اور فوج میں ان لوگوں کی بڑی دلچسپی تھی لہٰذا اپنے تجارت کو انہوں نے وہاں فروغ دیا۔ اوسیا کے زیادہ تر لوگ پولس اور فوج میں کام کرتے تھے۔

رفتہ رفتہ وہاں انگریزوں کے ساتھ ان کی فوج کے تعلقات قائم ہو گئے۔حاجی احمد علی انصاری نے جس وقت اپنی آنکھیں کھولیں پورا ہندوستان انگریزی حکومت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ وقت ایسا تھا جب انگریزی حکومت کے ظلم و تشدد سے ملک کے لوگ آہ و فغاں کر رہے تھے۔ آئے دن نئے نئے واردات کی خبر لوگوں کو ملتی اور انکے چرچے عام ہو جاتے۔ احمد علی انصاری کے چھوٹے سے ذہن میں یہ باتیں ہتھوڑے کی طرح پڑیں اور وہ انگریزوں کے خلاف سوچنے کو مجبور ہو گئے۔ انکے چھوٹے سے دماغ میں بیک وقت کئی سوال آ کھڑے ہوئے۔ یہ ملک ہمارا ہے، پھر یہ لوگ کون ہیں جو یہاں آکر اس پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں؟ یہاں کے باشندوں پر یہ لوگ ظلم و ستم کیوں ڈھا رہے ہیں؟

یہ ایسے سوالات تھے جو ان کے ننھے سے دل و دماغ پر کوڑے برسا رہے تھے۔ ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی کہ ایسی دانش مندانہ باتیں انہیں سمجھ میں آئیں۔ لہٰذا یہ خود پریشان ہو کر خاموش رہ جاتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بچوں کے تعلیمی ادارے ایسے نہیں تھے جہاں بچوں کی پڑھائی لکھائی اور انکی نشو و نما پر حکومت کا دھیان جاتا۔ دلی کے ترکی اور افغان مسلمانوں کے دور حکومت میں بچوں کو تعلیم مکتب اور مسجدوں میں دی جاتی تھی جہاں قرآن و حدیث کے علاوہ فارسی کی تعلیم بھی ملتی اور ان کے نصاب میں ہلکے پھلکے حساب (Math) اور دوائوں اور امراض کی جانکاری بھی دی جاتی تھی۔ تعلیم کا یہی سلسلہ مغلوں کے زمانے میں بھی رہا۔ احمد علی انصاری کو بھی یہی تعلیم ملی تھی۔ انہیں حب الوطنی کا جذبہ وراثت میں ملا تھا۔ انکے والد جان محمد گھر پر بیوی بچوں کے سامنے انگریزی حکومت کی غلامی کا تذکرہ کرتے اور یہ سوچ کر پریشان رہتے کہ ہندوستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ ملک کیسے آزاد ہوگا؟ یہ ایسے سوالات تھے جو احمد علی انصاری کے دل و دماغ پر بجلی کی طرح کوند جاتے۔ وہ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ ملک کی آزادی کے مسئلے پر گفتگو کرتے۔

ابھی ان بچوں کے دودھ کے دانت ٹوٹنے بھی نہیں پائے تھے کہ انکے اندر انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکنے لگی تھی۔ ملک کی آزادی کی اتنی بڑی فکر لیکر وہ بچوں کے چمپئن بن کر انگریزی حکومت کے خاتمے کی پلاننگ کرتے رہتے۔ انکے دوستوں کی چھوٹی سی فوج کے اندر آزادی حاصل کرنے کا جوش دیکھنے والوں کے لیے قابل رشک تھا۔یہ وہ وقت تھا جب مہاتما گاندھی اپنے نرم دل اور سبھاش چندر بوس گرم دل کے ذریعہ انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکالنے کا پر زور منصوبہ بناتے رہے۔ جگہ جگہ میٹنگ کی جاتی جس میں مقرر اپنی جوشیلی تقریر کے ذریعہ عوام کی روح میں جان پھونک دیتے اور لوگوں میں آزادی کا جوش ٹھاٹھیں مارنے لگتا۔ ملک کے نوجوانوں کے بازو پھڑکنے لگتے۔ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے یہی چرچا ہوتی کہ آنے والی کون سی تاریخ کو ملک کے دانشور اپنی باتوں سے ملک میں ایک ہنگامی کیفیت پیدا کر دینگے۔ احمد علی انصاری اب زندگی کے جس موڑ پر پہنچ گئے کہ بچپنا چھوٹ گیا تھا اور نوجوانی کی سنہری کرن انکے وجود کی نئی امیدوں کے ساتھ زندگی کی نئی دہلیز پر قدم رکھنے کی دعوت دے رہی تھی۔ ادھر ان کے والدین کی یہ خواہش کہ اپنے نو نہال کے سر پر سہرا بندھا دیکھیں، یہ بھی انکے دل میں ارمانوں کا خوبصورت باغ دکھا رہے تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب احمد علی انصاری کا رشتہ بہار کے کیمور ضلع کے زمیندار گھرانے میںپیناؤ گاؤں کی رہنے والی ایک نیک اور با سلیقہ دوشیزہ کے ساتھ طے پا گیا۔

دونوں گھروں میں شادیانے بجنے لگے اور اس خوش گوار ماحول میں حاجی احمد علی انصاری رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ حاجی احمد علی انصاری بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ انکا یقین تھا کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ لہذا وہ اپنی صحت کی طرف سے بھی غافل نہیں رہے، یہ انکی زندگی کا معمول رہا کہ فجر کی نماز کے بعد ورزش کرتے۔ اس میں بھی کوتاہی نہیں ہوئی۔ لہذا اسکا اثر یہ ہوا کہ انکا جسم گٹھیلا اور سڈول بھی ہو گیا۔ ان کا قد بھی چھ فٹ سے اوپر ہی تھا۔ ان کی شخصیت جاذب نظر تھی۔وہ زمانہ تھا جب گھر گھر میں انگریزوں کے ظلم کی داستان کے قصے دہرائے جاتے۔ عورتیں بھی جب کسی موقع پر آپس میں ملتی تو ایک دوسرے سے سر گوشی کے انداز میں تشویش ظاہر کرتیں کہ کیسے ان انگریزوں سے نجات ملے گی۔ ان دنوں حاجی احمد علی انصاری اپنے دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر منصوبے بناتے اور کہتے کہ ہم انگریزی حکومت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرینگے۔

ہم ان کے اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ظلم و جبر کی ساری دیوار گرادیں گے، بھلے ہی ہم چھوٹے ہیں مگر آنے والا وقت ہمارا ہوگا۔ 1857 کی بغاوت میں بھلے ہی انگریز غالب رہے مگر اسکے نتیجے میں ایسی آندھی اٹھی کہ عدم تحفظ کے احساس میں لوگوں کو زندگی گذارنے پر مجبور کر دیا۔ ملک پر مر مٹنے والوں کو انگریزوں نے پکڑ پکڑ کر یاتو جیل میں ڈالا یا پھر پھانسی پر لٹکا دیا۔ ایسے میں احمد علی انصاری کے حساس ذہن نے اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار احساسات نے انہیں آبائی پیشہ تجارت کو خیر آباد کہنے کے لیے مجبور کر دیا اور وہ جنگ آزادی کے شعلوں میں کود پڑے۔ احمد علی انصاری کوئی 16-17 سال کے ہوں گے کہ ان کے بلند ارادوں کو دیکھتے ہوئے فرنگیوں کی مخبری کا کام سونپاگیا۔ کسی بھی فرنگی کو ان پر شک و شبہ نہیں ہوا گر چہ یہ کام خطروں والا تھا۔ انگریزی سپاہیوں کو کئی بار ان پر شک ہوا لیکن ان کی کمسنی کو دیکھتے ہوئے یقین نہیں آیا۔ اس درمیان مجاہد آزادی سے ان کے رابطے بڑھتے گئے۔

فرنگیوں کے لاکھ تنبیہ کے باوجود ان کے حوصلوں میں کمی نہیں آئی نہ ہی جوش میں، بلکہ ان کی ہمت بڑھ گئی اور ملک کے لیے کچھ کر گذرنے کا جذبہ طوفان بن کر ان کے سر بولنے لگا۔ ہندوستان کی تاریخ ایسے ایسے ویر سپوتوں سے بھری ہوئی ہے جنہوںنے دنیا کی عیش و عشرت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے وطن ہندوستان کو انگریزوں کے ظلم و ستم اور غلامی سے آزادی دلانے کے لیے اپنا سکھ چین تیاگ کر سیدھی سادی زندگی اور کھانے پینے کی ساری لذت چھوڑ کر سادگی کو اپنایا اور ملک کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ کون ہندوستانی ہے جو ایسے وطن پرستوں کو فراموش کر پائے گا۔ ان کی قربانیاں ہماری وراثت ہیں جو ہمارے اندر ایک جوش اور جذبہ پیدا کرتی ہیں اور ہمارا سر ایسے وطن پرستوں کی قربانیوں کے سامنے جھک جاتا ہے۔

کیونکہ آج ہمیں جو آزاد زندگی ملی ہے وہ انہیں محب وطن کی وجہ سیہے۔ ایسی شخصیتوں میں گاندھی جی، سبھاش چندر بوس، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار بلبھ بھائی پٹیل جیسی ہستیاں شامل ہیں جنھوں نے اپنی جدوجہد سے ہمیں آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل بنایا۔ بھلا کون ہوگا جو گاندھی جی کی نرم مجازی، سبھاش چندر بوس کی گرم مجازی، مولانا ابولکلام آزاد کی جوشیلی تقریروں کو فراموش کر پائے گا۔ کیا سردار بلبھ بھائی پٹیل کی دانش مندانہ باتوں کے اثرات سے کوئی اچھوتا رہ پایا؟ ہرگز نہیں۔ ان سارے مجاہدین آزادی کی ایک ایک بات کا گہرا اثر ہندوستان کے نوجوانوں پر پڑا اور ان لوگوں کی تقریریں سن سن کر ان کا دل اور دماغ ملک کی خاطر مر مٹنے کو تیار ہو گیا۔ ان میں ایک حاجی احمد علی انصاری بھی تھے جنہوں نے ایک یوتھ برگیڈئیر ہی بنا لیا تھا جو ہمیشہ فرنگیوں کو نقصان پہنچانے کی فراق میں لگا رہتا تھا۔ انہیں سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج سے بھی ایک لگاؤ ہو گیا.

اور حاجی احمد علی انصاری اس سے جڑ گئے۔ اب آزادی حاصل کرنے کا ایسا جنون ان پر چڑھا کہ اپنے گھر کا بھی ہوش نہیں رہا۔ ادھر سبھاش چندر بوس اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے۔ ادھر ان کے انگریز دشمن اپنے سپاہیوں کے ساتھ نیتا جی کو تلاش کرنے چل رہے تھے۔ اس کی بھنک جیسے ہی حاجی علی احمد انصاری کو لگی انہوں نے اسکا ذکر اپنے دوستوں سے کیا اور طے پایا کہ نیتا جی پر اس وقت خطرات منڈلا رہے ہیں لہٰذا انہیں بچانے کے لیے کسی محفوظ مقام پر پہنچا دینا بہتر ہوگا۔ اس بات کی بھنک انگریز سپاہیوں کو لگ گئی اور انہوں نے نیتا جی کو پکڑ کر کلکتہ میں نظر بند کر دیا۔

سبھاش چندر بوس کی گرفتاری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ نیتا جی کے چاہنے والوں میں ایک بے چینی سی پھیل گئی اور سبھی غم میں ڈوب گئے۔ ایسے وقت میں انکے بھتیجے سشر کمار نے چند لوگوں کے ساتھ، جن میں حاجی علی احمد انصاری بھی شامل تھے، نیتا جی سبھاش چندر بوس کو بڑی حفاظت سے جیل سے باہر نکال لیا۔ نیتا جی بار بار بھیس بدلتے ہوئے ایک پٹھان کا روپ لے کر اور ضیا الدین نام رکھ کر پیشاور اور پھر کابل ہوتے ہوئے افغانستان پہنچے اور پھر وہاں سے جرمنی چلے گئے۔ 1943 میں وہ جرمنی چھوڑ کر جاپان جا پہنچے اور وہاں سے سنگا پور ہوتے ہوئے برما چلے گئے۔ انہوں نے بھارت واسیوں کو للکارا ’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا‘۔

یہ للکار اتنی زبردست تھی کہ برما کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر پورے ہندوستان میں گونج اٹھی۔ اس آواز نے لوگوں میں ایک نیا جوش بھر دیا۔ اب کیا تھا لوگ اس بات کے لیے کوشاں ہوئے کہ کس طرح فرنگیوں کا خاتمہ کر دیا جائے اور اسکے لیے ہر قربانی دینے کو لوگ تیار ہو گئے۔ اسمیں حاجی احمد علی انصاری جیسے مجاہدین آزادی آگے آگے رہے۔ اسی زمانے میں قابل افسوس واقعہ یہ ہوا کہ 8 اگست 1945 کو ٹوکیو جاتے وقت ہوائی جہاز حادثے میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت واقع ہو گئی۔ حاجی احمد علی انصاری دل برداشتہ ہو کر ہندوستان لوٹ آئے۔ آخر کار ہندوستان کے لوگوں کی کوشش رنگ لائی اور 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہو گیا۔ مگر آزادی کا سنہرا خواب خواب ہی رہ گیا۔ ملک دو حصو میں بٹ گیا۔ ہندوستان اور پاکستان۔ ملک کے بٹوارے نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ من میں ایک خوف اور بے اطمینانی گھر کر گئی۔ دل و دماغ سے ایک آواز نکلی کہ کیا ایسی ہی آزادی کا خواب ہمارے نیتاؤں نے دیکھا تھا؟ وطن والوں کے لہو میں سنی ہوئی آزادی ہندوستان کو ملی۔

احمد علی انصاری اب کلکتہ پولس میں بھرتی ہوئے اور کچھ ہی عرصہ میں کافی ترقی پائی۔ وقت گزرتا گیا۔ احمد علی انصاری کے کام سے، ان کے نام سے شہرت ملی اور انہیں شرقی پاکستان میں انسپکٹر آف پولس کے عہدے پر بحال کر لیا گیا۔ لیکن انکا دل وہاں نہیں لگا۔ لہٰذا وہاں کی نوکری چھوڑ کر واپس یہ اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ مگر اس وقت تک انکے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ گھر کا کاروبار بھی ختم ہو چکا تھا۔ لہٰذا ایسے وقت میں انہوں نے بڑی ہمت سے کام لیا اور دوبارہ کلکتہ پولس کی نوکری جوائن کر لی۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی زندگی کی گاڑی پھر سے پٹری پر آگئی۔ انہوں نے نوکری کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی دلچسپی دکھائی اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں خوشی کا احساس کیا۔ غریبوں اور مسکینوں کی امداد کرنا انہوں نے اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔ حاجی احمد علی انصاری ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ملک کی آزادی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔

وہ آزاد ہندوستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے۔ احمد علی ایک سیدھے سادے انسان تھے۔ غرور اور تکبر سے وہ کوسوں دور تھے۔ ریا اور دکھاوے سے انہیں نفرت تھی۔ حاجی احمد علی انصاری انسانیت پر ست تھے۔ لوگوں کی بھلائی کرنے میں انہیں دلی سکون نصیب ہوتا تھا۔ گرچہ وہ بہت اعلیٰ تعلیم حاصل کیے ہوئے نہیں تھے، مگر اپنے بچوں کو انہوں نے اعلیٰ تعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اﷲ نے انہیں پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ بیٹوں کو انہوں نے انہیںاعلیٰ تعلیم سے سرفراز کیا۔ ان کے بڑے صاحب زادے محمد وکیل انصاری انڈین ائیر فورس میں رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دلدار نگر میں مقیم ہوئے اور اپنے والد کی طرح لوگوں کی خدمت میں اپنے شب و روز گذارتے رہے۔ دوسرے صاحبزادے پروفیسر بنے۔ وہ مرکزی حکومت کے اطلاعاتی کمیشن میں رہے۔

ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر مسئلے کے حل کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے جڑے رہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو وہ فروغ دینا چاہتے تھے۔ لہٰذا اس طرف بھی ان کا رول اہم رہا۔ وہ غریبوں کی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ حاجی احمد علی کے تیسرے صاحبزادے حاجی بادشاہ انصاری نے اوسیا گاؤں کو ہی اپنا آشیانہ بنایا۔ وہ مذہبی اور رفاہ عامہ کے کاموں اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ حاجی احمد علی کی چوتھی اولاد ایم۔ڈبلو۔ انصاری ہوئے جو اس وقت آئی۔پی۔ایس۔ ہیں اور چھتیس گڑھ میں ڈی۔جی۔پی کے عہدہ پر فائز ہیں۔ سب سے چھوٹے فرزند حاجی نواب اختر دہلی میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کاروبار کو ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ غریبوں کے کام آتا ہے اور فاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں ان کی دل چسپی ہے۔ وہ مذہبی ذہن کے انسان ہیں۔

اس طرح بھی لڑکوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر اطراف میں حاجی احمد علی صاحب کا نام روشن کیا ہے۔ احمد علی انصاری کی یہ دلی خواہش تھی کہ حج بیت اﷲ کو ہو آئیں۔ کیونکہ خدا کے گھر کی زیارت اور وہاں عبادت کرنے کی تمنا تھی۔ لہٰذا انہوں نے 1989 میں اپنی یہ دیرینہ خواہش پوری کی اور حج کے ارکان پورا کر اپنی زندگی کے ایک عظیم مقصد کو پورا کر لیا۔ اس طرح دین اور دنیا کو اپنوںسے سنوارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے جو کوششیں کیں وہ کسی دھرم یا فرقہ کے لیے نہیں تھی بلکہ ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کو انگریزی حکومت کے ظلم و تشدد اور غلامی سے آزادی دلانے کے لیے تھی۔24 نومبر 2005 کا وہ دن کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جب شام کی چائے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کے لیے گھر پر ہی لیٹے تھے کہ اسی بیچ انکا انتقال ہو گیا۔

انہیں اوسیا گاؤں کے پشتینی قبرستان میں دفن کیا گیا (انّا للہ و انا الیہ راجعون) حاجی احمد علی انصاری دنیا سے چلے گئے مگر انکے کارنامے، انکے بلند اخلاق اور قوم و ملت کے لیے کیے گئے بھلائی کے کاموں نے انہیں ہندوستان کی تاریخ میں ایک بلند مقام پر لا کھڑا کیا جس پر چل کر ملک کے نوجوانوں کو نئی روشنی ملتی رہے گی۔ آج اہل وطن کا یہ اولین فرض ہے کہ ہم ہندوستان کی ہزاروں سال پرانی گنگا-جمنی تہذیب کو کبھی ختم نہ ہونے دیں۔ دور حاضر میں ملک کو فرقوں میں بانٹنے کی لگاتار کوششیں جاری ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی ذات پات کے نام پر لوگ ہماری پرانی وراثت کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کسی قیمت پر ملک کو تقسیم نہ ہونے دیں۔

یقینا ہم فرقہ پرست طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور پورے ملک کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔ اس طرح ہم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں گے۔ بچوں کے نصاب میں ایسے مرد مجاہد کے کارنامے پڑھائے جائیں تاکہ بچوں کے ننھے سے دل و دماغ میں ان وطن پرستوں کی چھاپ پڑ جائے اور ملک پر مر مٹنے کے جذبے سے سرشار کر دیں۔ جبھی ہمارا ملک مضبوط رہے گا۔ لہٰذا حاجی احمد علی انصاری کے نقش قدم پر چل کر سماج کے لیے بھلائی کے کام کرتے رہیں اور ملک کے اتحاد کو قائم رکھیں۔ ہم ہندوستانیوں کے لیے یہی سچی خراج عقیدت ہوگی جو حاجی احمد علی انصاری کو ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید بنا دیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *