دبستانِ شبلی کا ستارہ گمشدہ اخترؔ مسلمی

  ڈاکٹر وسیم فراہی

admin

فن شاعری کو سرخ روئی بخشنے والے شعراء میں اخترؔمسلمی کا نام سرِ فہرست ہے۔ اردو زبان و ادب پر ان کو بے پناہ ملکہ حاصل تھا، میرؔ و غالبؔ کی کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے اردو غزل کو انچھوئے استعارے، کنائے، علامات و تشبیہات سے روشناس کرایا۔

یہ نہ جانے کون گزرا ابھی جادئہ نظر سے…. وہ عجیب نقش پا ہےکہ تم آئینہ کہو گے

اخترؔ مسلمی کو جادئہ نظر کا خالق کہا جاتا ہے، ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں:

ہائے رے ان کی نگاہِ خشم گی ….. ںآرزوئوں کو پسینہ آگیا

مندرجہ بالا شعر میں آرزوئوں کو پسینہ آنا محل نظر ہے۔

ان کی زلفیں ہی نہ سلجھیں …. اور ہمداستانِ زندگی دہرا گئے

اس طرح کے اشعار وہی شاعر کہہ سکتا ہے جو فطرت کے خزانے سے شعر گوئی کا ملکہ لے کر آیا ہو اور زبان و بیان پر اس کو مکمل عبور حاصل ہو۔دبستانِ شبلی کا یہ عظیم شاعر گائوں کے فطری ماحول میں پروان چڑھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری میں تصنع اور آورد کا عنصر نہیں ملتا جو کچھ محسوس کیا یا مشاہدے میں آیا بڑی ایمانداری کے سا تھ شعری پیکر عطا کردیا۔ایک جانب علامہ اقبال سہیل کی صحبت ان کی تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھا رہی تھی تو دوسری جانب مادرِ علمی مدرسۃ الاصلاح کی تربیت اختر مسلمی کی شاعری کو مقصدیت عطا کر رہی تھی، یہیں سے ان کی شاعری اعلیٰ تہذیبی، اخلاقی اور سماجی اقدار کا نمونہ بنتی چلی گئی۔اختر مسلمی نے فن سے انحراف کیے بغیر زندگی کی حقیقتوں کو شعری پیکر میں اس طرح ڈھالا ہے کہ قاری اشعار میں اپنے دل کی دھڑکن محسوس کرتا ہے۔جناب عارف عباسی رقم طراز ہیں:

’’غزل کی فطری نزاکتوں اور لطافتوں کے ساتھ ساتھ صرف الفاظ و مضامین کی بلندی ، خارجی اور داخلی کیفیات کا صحیح اظہار ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ، مگر جناب اخترؔ مسلمی یہاں بھی اپنی انفرادیت کو نمایاں کئے ہوئے ہیں، حضرت علامہ سہیلؔ مرحوم نے خاک اعظم گڈھ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ع:

جو ذرّہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیّرِ اعظم ہوتا ہے

 جناب اخترؔ مسلمی کا معیارِ فکر اس مصرعہ کے ہر حرف کی تصدیق کر رہا ہے ۔‘‘اختر مسلمی کی شاعری آواز بازگشت نہیں، یا وہ گوئی سے انھوں نے پرہیز کیا ہے۔ سطحیت، پریشان خیالی اور آوارگی ان کی شاعری میں نام کو نہیں ملتی، حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی شاعری گہرے اور متنوع تجربات کا نچوڑ ہے۔ لب و لہجہ کا وقار ان کی شاعری کو ہم عصر شعراء سے ممتاز کرتا ہے، ان کے تخیل کی پرواز سطحیت کی آلودگی سے پاک ہے۔مری تخئیل کی رفعت کو نہ پہنچا کوئیاور میں نے اسے پستی میں اترنے نہ دیا اختر مسلمیاختر مسلمی نے شعر و سخن کی دنیا میں جس دور میں قدم رکھا وہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا، کمیونزم کی ترویج و اشاعت کا کام پوری شد و مد کے ساتھ جاری تھا۔ دینی اور اخلاقی قدروں کو پامال کیا جارہا تھا، اشتراکیت اور الحاد کے الم برداروں کا طوطی بول رہا تھا ۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی روشن خیالی کا معیار بن گئی تھی، غزلیہ شاعری تقریباً شجر ممنوعہ ہوکر رہ گئی تھی، ان نامصاعد حالات میں چند تعمیری شعرا و ادباء جو اس اشتراکی تحریک سے نبرد آزما رہے ان میں ایک نام اختر مسلمی کا بھی تھا۔اختر اس انقلاب کی اڑ جائیں دھجیاںدشواریٔ عوام جو آساں نہ کرسکے٭کرکے باطل کے خدائوں کی خدائی نابوددوستو آئو علاجِ غمِ دوراں کردیںاختر مسلمی غزل کے مزاج داں تھے، ان کے اشعار میں بلا کی غنائیت پائی جاتی ہے، غزلوں کا آہنگ، سلاست و روانی ان کی شاعری کو مزید پرکشش بنا دیتے ہیں۔مرے واسطے جہاں میں کوئی دل کشی نہیں ہےکہ ترے بغیر جینا کوئی زندگی نہیں ہے

تری ذات کے علاوہ مجھے اور چاہیے کیا…………. تو اگر ہے ساتھ میرے مجھے کچھ کمی نہیں ہے
کوئی واسطہ نہیں ہے جسے دردِ دیگراں سےوہ ہے آدمی کا پیکر مگر آدمی نہیں ہےاختر مسلمی تا حیات کسی تحریک یا جماعت سے وابستہ نہیں رہے، تاہم وہ ذہنی طور پر اسلامی فکر کے حامل تھے۔بقول محشر اعظمی:’’شاعری اگر کسی مخصوص تحریک کا آلہ کار بن جائے یا صرف شاعری ہی کی حدود میں رقص کرتی رہے تو یہ شاعری پر ایک بڑا ظلم ہے۔

اخترؔ مسلمی نے شاعری پر اس قسم کا ظلم جائز نہیں رکھا ہے۔ان کے کلام میں صبح کا حسین سماں ہے جہاں سے نور و ظلمت الگ ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت پر پڑا ہوا پردہ دھیرے دھیرے اٹھ رہا ہے۔‘‘تغزل کے اس بے تاج بادشاہ ’’اختر مسلمی‘‘ کی پوری زندگی خشیت الہٰی اور زہد تقویٰ سے عبارت ہے۔جناب ناطق اعظمی نے ان کے اس پہلو پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی ہے:’’اگر آپ کو کبھی اختر صاحب کے سا تھ چلنے کا اتفاق ہوگا اور آپ ایمان کے قائل ہوں گے تو یہ محسوس کیے بغیر نہ رہیں گے کہ:

ع: مومن چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے سا تھ

غزل گوئی اگر واقعی پارسائی کی ضد نہیں ہے تو بلاشبہ اخترؔ صاحب پارسا ہیں۔ صورتاً بھی اور سیرتاً بھی چمکتی ہوئی سفید ریش دراز ، پیشانی پر سجدوں کا نشان ، کوچۂ رقیب میں سر کے بل چلنے کی وجہ سے نہیں بلکہ معبود حقیقی کی بارگاہ میں پنج وقتہ جبیں رسائی کی علامت ہے ، انھیں جب کبھی بھی آپ دیکھیں گے تو ان کے چہرے کی کیفیت سے بھی محسوس ہوگا کہ کوئی زاہد شب زندہ دار حصارِ خانقاہ سے نکل کر ابھی ابھی چلا آرہا ہے۔

ان کے سراپا ان کی رفتار و گفتار سے یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ یہ تقدس مآب شخص گیسوئے غزل کے شانہ کشوں میں بھی ہے۔‘‘اختر مسلمی کو اپنے آس پاس کے ماحول کا پورا ادراک تھا بلکہ یہ کہا جائے کہ انسانی بے راہ روی، اقدار کی پامالی، اخلاق و شرافت سے عاری سماج اور تخریبی رجحان نے ان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا تو بے جا نہ ہوگا۔ بے سروسامانی کے اس عالم میں بھی یہ پر آشوب ماحول ان کی تعمیری سوچ پر قدغن لگانے کے بجائے ان کے اندر سماج کو بدل ڈالنے کا داعیہ پیدا کرتا ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار سے آپ ان کی ولولہ انگیزی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں:ہر شب تارِ خزاں صبح بہاراں کردیںخار بے جاں کو بھی رشک چمنستاں کردیں
چیخ چیخ اٹھتے ہیں جس درد کی بیتابی سے…. دلِ مظلوم کے اس درد کا درماں کردیں
ہر طرف بغض و عداوت کی گھٹا چھائی ہے…..دہر میں شمعِ محبت کو فروزاں کردیں
ہے اخوّت کا اثر جن کے دلوں سے مفقود……..ان درندہ صفت انسانوں کو انساں کردیں
ظلمتِ شب میں بھٹکتا ہے زمانہ اخترؔآئو ہر ذرّے کو خورشید درخشاں کردیںاختر مسلمی نے غیرت و خود داری کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا۔ ایک جنبش ’’ہاں‘‘ سے وہ شہرت اور دولت دونوں حاصل کرسکتے تھے مگر انھیں اپنے ضمیر کا سودا کرکے ذاتی مفاد اور حصولیابیوں کے لیے کسی کا حاشیہ بردار بننا گوارا نہیں تھاکیوں کہ آستانہ غیر پر ناصیہ فرسائی کو وہ انسانی عظمت کے منافی تصور کرتے تھے:مری خودی نے یہ عظمت مجھے عطا کی ہےمیں تشنہ لب ہوں سمندر تلاش کرتا ہے٭میں اور کروں سجدۂ اغیار، ارے توبہپیشانی فرشتوں نے مرے سامنے خم کی اختر مسلمیمومنؔ، میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، حالیؔ و اقبالؔ وغیرھم پر بہت کام ہوچکا ہے، ضرورت ہے کہ جاہ و مرتبہ، شہرت و دولت سے بے نیاز اخترؔ مسلمی جیسے گمشدہ ستاروں کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

نوٹ : مضمون نگار    ڈاکٹر وسیم فراہی دہلی میں مقیم ہیں موصوف اخترؔ مسلمی کے  نواسے ہیں 

    موبائل: 9990112942

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *