علامّہ نیاز فتح پوری نے  دُشنام کا جواب ہمیشہ دلیل سے دِیا

زاہدہ حنا, کراچی

Asia Times Desk

 ایک ایسے زمانے میں جب معاملات اور مسائل کو عقلی نقطۂ نگاہ سے دیکھنے والے لبرل فاشسٹ کہے جارہے ہیں‘ علامہ نیاز فتح پوری کی یاد آتی ہے۔ وہ 1884ء میںپیدا ہوئے اور 1966ء میں اس جہان سے گزرے۔ 82برس کی عمر تو بہت لوگ پاتے ہیں لیکن نیاز  صاحب نے جو کام کیے ‘ جتنی اعلیٰ اور معیاری کتابیں تحریر کیں۔ان علمائے سو کے خلاف جو  انگریزی تعلیم کو ’’حرام’’ اور ’’کفر‘‘ کہتے تھے‘ علمی اور حقیقی انداز میں جس نوعیت کی لڑائی لڑی‘ وہ ان ہی کا خاصہ تھی۔ وہ ’’کافر‘‘ ’’مرتد‘‘ اور ’’زندیق‘‘ کہے گئے لیکن اپنے مؤقف سے کبھی نہیں پھرے اور دشنام کا جواب ہمیشہ دلیل سے دیا۔ خوش نصیب تھے کہ انہوں نے انگریز کا زمانہ پایا جب سیاسی افکار اور تحریک آزادی کے فروغ کے لیے کام کرنے والے عتاب میں رہتے تھے لیکن علمی اور مذہبی بحثوں پر کفر کے مسلسل فتوئوں کے باوجو دعلامہ نیاز فتح پوری ایسے لوگوں کی زندگیاں محفوظ تھیں۔


علامہ نیاز  اس وقت اس لیے بھی یاد آئے کہ ہرسال کی طرح  دسمبر  میں ’’نیاز اور نگار یادگاری لیکچر‘‘ کا انعقادہوتارہا۔ ہمارے عہد کے معتبر نقاد اور استاد ڈاکٹر فرمان فتح پوری جو علامہ نیاز کے سچے نیاز مند  تھے‘ انہوں نےبرسہا برس سے یادگاری لیکچر کے سلسلے کو جاری رکھنے کے ساتھ ہی نیاز صاحب کی اصل یادگار ’نگار‘ کو بھی زندہ رکھا۔


ہماری نئی نسل کے لیے علامہ نیاز فتح پوری اور ’’نگار‘‘  جانا پہچانا نام لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں سے آگاہ ہوئے بغیر ہماری نئی نسل اپنے شاندار ادبی اور تہذیبی ورثے سے واقف نہیں ہوسکتی۔نیاز صاحب برصغیر کی ایک اہم شخصیت اور اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ ’’نگار‘‘ اسی تحریک کی کڑی تھا جس کی ابتدا ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور ’’مخزن‘‘ سے ہوئی تھی اور جس کی  ایک شاندار توسیع’’نگار‘‘  تھا۔ کچھ لوگ ادیب ہوتے ہیں اور اپنی ادبی خدمات کے سبب یاد رکھے جاتے ہیں جبکہ کچھ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ’’ادیب گر‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ علامہ نیاز فتح پوری صرف ادیب نہیں، ادیب گر بھی تھے۔
انہوں نے نہ جانے کتنے نئے ادیبوں کی رہنمائی کی اور  20ء کی دہائی سے 60ء کی دہائی تک لوگوں کے ذہنوں پر حکمرانی کی۔ جہل کی تاریکی سے خرد کی روشنی تک ان کی رہنمائی کی۔


’’نگار‘‘ ایک رسالہ نہیں، ادارہ تھا۔ اس زمانے میں وہ گھر مہذب اور تعلیم یافتہ تصور نہیں کیا جاتا تھاجس میں ’’نگار‘‘ نہ آتا ہو۔  اِس  زمانے  میں بھی آپ کو سندھ، پنجاب، بلوچستان اور پشتون علاقے میں ایسے علم دوست گھرانے مل جائیں گے جہاں ’’نگار‘‘ کے پرانے شمارے محفوظ ہیں۔
اس رِسالے میں ادب، فلسفہ، مذہب اور سائنس غرض ہر شعبے سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے اور لوگوں کو ان معاملات و مسائل پر نئے انداز سے غور و فکر کے لیے مجبور کرتے تھے۔ اس کی فائلوں کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو اس میں ہمیں 20ء ، 30ء اور 40ء کی دہائیوں میں وہ موضوعات نظر آتے ہیں جو آج کے’’جدید ترین معاملات‘‘ ہیں۔ کس قدر دلچسپ بات ہے کہ نیاز صاحب ہمیں فروری 1922ء میں ’’اشتراکیت‘‘ کے موضوع پر خامہ فرسائی کرتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ انقلابِ روس کو برپا ہوئے اس وقت پانچ برس بھی پورے نہیں ہوئے تھے۔

اسی طرح وہ ’’سرطان‘‘ پر دسمبر 1925ء میں قلم اٹھاتے ہیں اور ’’انسولین‘‘ کے بارے میں اپنے پڑھنے والوں کو جنوری 1926ء میں آگاہ کرتے ہیں۔ فرانسیسی  ستارہ شناس ناسٹرا ڈیمس جس کے نام سے  ہمارے یہاں لوگ  ایک فلم کی وجہ سے متعارف ہوئے ، اس کے بارے میں نیاز صاحب نے اپریل 1942ء میں ’’ناسٹرا ڈیمس کی عجیب و غریب پیش گوئیاں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اسی طرح وہ ہمیں  نفسیات، ہپناٹزم، مقناطیسی نیند، مسمیر۱زم اور جنسیات پر لکھتے ہوئے ملتے ہیں۔ کہیں وہ ہمارے سامنے ایک افسانہ نگار کے روپ میں آتے ہیں تو کبھی نہایت فلسفیانہ مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہیں، کہیں وہ مذہبی اعتقادات کے بارے میں مدلل بحثیں کرتے ہیں اور کبھی تاریخ اور افسانے کو ایک دوسرے میں آمیز کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اپریل 1924ء میں ’’اہلِ مریخ سے گفتگو کا امکان‘‘۔ جنوری 1924ء میں ’’جنگ کا نقشہ ایک صدی بعد‘‘ اور 1935ء میں ’’چاند کا سفر‘‘ ان کے وہ مضامین ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں، ان کے تجسس اور سائنسی رُجحان رکھنے والے ذہن کا پتہ دیتے ہیں۔


’’نگار‘‘ کے سالناموں اور خاص نمبروں پر نظر ڈالیے، نادر موضوعات اور بے مثال شخصیات کی ایک بارات ہے جو ’’نگار‘‘ کے صفحوں پر اُتری ہوئی ہے۔ اختر الایمان کی نظم کا ایک مصرع ہے کہ ’’خون پی پی کے پلا کرتی ہے انگور کی بیل‘‘۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انگور کی بیل کس طرح سینچی جاتی ہے لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ نیاز صاحب نے ’’نگار‘‘ کو اپنا خونِ جگر پلایا، تب ہی تو آج بھی اس کی سرسبز بیل ہماری دانشورانہ روایات پر چھائی ہوئی ہے اور اس کی خوشبو سے ادب دوست اور ترقی پسند  افراد کا ذہن معطر ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ نیاز صاحب کی نثر کا ڈنکا بجتا تھا۔ ان کے افسانے اور افسانچے ان کے ناولٹ اور انشائیے، مذہب اور سائنس کے بارے میں ان کی بحثیں، ٹیگور کی ’’گیتانجلی‘‘ کا ترجمہ، ان کی متنازع فیہ کتاب ’’من و یزداں‘‘ اور ان کا مرتب کردہ ’نگار‘‘ کا ’’خدا نمبر‘‘ اور ’’اصحابِ کہف نمبر‘‘، وہ مطبوعات تھیں جن کی برصغیر کے علمی اور ادبی حلقوں میں دھوم تھی۔ ان تحریروں میں اٹھائے جانے والے سوالات پر برسوں علمی بحثیں چلیں جن میں اس عہد کے مایہ ناز ادیبوں نے حصہ لیا۔ یہی وہ علمی بحثیں تھیں جن کی بنا پر وہ کافر‘ زندیق اور مرتد کہے گئے۔


’’نگار‘‘ کے اِجرا کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ نیاز کا ذوق ابتدا ہی سے شعر وادب کا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ل۔ احمد اور سجا د حیدر یلدرم کی ’’انشائے لطیف‘‘ کی دھوم تھی۔ ترکی زبان سے متعدد چیزیں اُردو میں ترجمہ ہورہی تھیں اور ترکی ادب کے اردو پر اثرات مرتب ہورہے تھے۔ اسی زمانے میں چند ادیب اور شاعر دوستوں کا اجتماع ہوا۔ گفتگو اس موضوع پر ہوتی رہی کہ ایک علمی اور ادبی پرچہ نکلنا چاہیے جس کی سارے برصغیر میں دھاک بیٹھ جائے۔


کسی ایسے پرچے کی ادارت نیاز صاحب کی آرزو تھی لیکن گرہ میں دام کہاں تھے کہ یہ شوق پورا کیا جاتا۔ نیاز صاحب نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر بیس دوست، بیس بیس روپے اِکٹھے کرلیں اور چار سو روپے کی رقم جمع ہوجائے تو ایسا پرچہ نکالا جاسکتا ہے۔ چار سو روپے کے ذکر پر حیران نہ ہوں کہ یہ زمانہ 1921ء کا تھا جب 20 روپے کا چندہ صاحبانِ حیثیت ہی دے سکتے تھے اور چار سو روپے ایک بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔
لیجیے صاحب، چند دنوں میں اتنی رقم تو اکٹھا نہ ہوسکی لیکن پھر بھی خاصے روپے جمع ہوگئے۔ یہ طے تھا کہ اس پرچے کی ادارت نیاز صاحب کریں گے چنانچہ ان سے کہا گیا کہ اب پرچے کا نام بھی تجویز کریں۔ ان دنوں نیاز صاحب ایک ترک شاعرہ ’’نگار بنت عثمان‘‘ کے تراجم پڑھتے تھے اور سر دُھنتے تھے۔ انہوں نے اسی شیفتگی کے سبب پرچے کا نام ’’نگار‘‘ تجویز کیا تو دوستوں نے اس پر صاد کیا۔ ان تیاریوں کے بعد نیاز صاحب تو آگرے سے بھوپال چلے گئے اور وہیں سے پہلا پرچہ مرتب کرکے دوستوں کے پاس آگرے بھجوادِیا۔ کچھ عرصے تک پرچہ بھوپال میں مرتب ہوتا اور آگرہ میں چھپتا رہا۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دن  نہ چل سکا۔ چنانچہ آخرکار پر چہ بھوپال  ہی سے  شائع ہونے لگا۔ کچھ برسوں بعد نیاز صاحب لکھنؤ منتقل ہوئے تو ’’نگار‘‘ بھی لکھنؤ میں آباد ہوگیا۔ نیاز صاحب نے کراچی کا رخ کیا تو ’’نگار‘‘ نے بھی ان کے ساتھ ترکِ وطن کیا۔  اپنے عہد کا اہم رسالہ ’’ساقی‘‘ شاہد احمد دہلوی کے بعد ’’مرحوم‘‘ ہوگیا وہی حال ’’نگار‘‘ کا بھی ہوتا لیکن یہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی ہمت  تھی کہ جو سالہا سال تک ’’نگار‘‘ کا نام زندہ رکھے ہوئے  تھے۔


علامہ نیاز خیالات کی سخت جانی پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے کبھی اس کی پروا نہ کی کہ ان کے خیالات و افکار پر کس کی طرف سے حرف گیری ہورہی ہے۔ کون انھیں کافر قرار دے رہا ہے، کس نے انہیں ملحد کہاہے، کس کے خیال میں وہ گردن زدنی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ اچھے اور نئے خیالات کو کتنا ہی دھتکارا جائے، آخرکار وہ جیت جاتے ہیں۔ انہوں نے جن خیالات کو دلیل و دیانت کی کسوٹی پر، پرکھ کر کھرا جانا انہیں لفظوں کا جامہ پہنا کر کاغذ کے سپرد کرتے رہے۔ ان کے اندر اس احساس کا چراغ ہمیشہ روشن رہا کہ آج نہیں تو کل یہ خیالات،  سماج میں راہ  پائیں گے۔ کوئی دن تو ایسا آئے گا کہ سماج میں مختلف معاملات پر سوال اٹھانے والے، بحث و تمحیص کرنے اور قدیم اعتقادات کو نئے زاویوں سے دیکھنے والے محترم ٹھہریں گے۔ہمارے یہاں وہ دن کب آئے گا؟ ہم نہیں جانتے  لیکن اس دن کی آمد کے لیے ہمیں نئے نیاز ونگار کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ ممبئی اردونیوز 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *