“میڈیا چیلنجز اور ان کا حل”* کے موضوع پر القرآن اکیڈمی میں محاضرہ کا اہتمام 

Asia Times Desk

کیرانہ : (ایشیا ٹائمز )  القرآن اکیڈمی کیرانہ میں ایک محاضراتی نشست کا اہتمام کیا گیا. نشست کا عنوان تھا “میڈیا چیلنجز اور ان کا حل” اس نشست میں مفتی اطھر شمسی ڈائرکٹر القرآن اکیڈمی کیرانہ نے اپنا محاضرہ پیش کیا. محاضرہ کے بعد سوال جواب سیشن بھی ہوا. محاضرہ میں مفتی اطھر شمسی نے بتایا کہ میڈیا ایک غیر رسمی تعلیمی ادارہ ہے. جس کا مقصد عوام کو وہ تعلیم فراہم کرنا ہے جو رسمی ادارے مثلاً اسکول، کالجز نہیں کر سکتے یعنی بین الاقوامی حالات، ملک کی سیاست، تجارتی احوال کھیل کود، خارجہ پالیسی، دفاعی چیلنجز وغیرہ کے تیزی سے بدلتے پہلو . موصوف نے کہا کہ تعلیم کا مقصد قوم کو اس لائق بنانا ہوتا ہے کہ جب اس کے سامنے رائے قائم کرنے، اور فیصلہ کرنے کے متعدد متبادل یا نظریات رکھے جائیں تو وہ درست ترین کا انتخاب کر لے. مفتی اطھر شمسی نے بتایا کہ تعلیم کا مقصد کسیے خاص بیانیہ یا نظریہ کی تبلیغ کرنا ہر گز نہیں ہوتا. اور اگر کوئی ادارہ ایسا کر رہا ہے تو وہ تعلیم کے بجائے تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے.
 مفتی موصوف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں میڈیا اب ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت سے ختم ہوکر خاص نظریات، جنگجویانہ نفسیات، نفرت اور عدم برداشت کا مبلغ بن گیا ہے. اب ہمیں میڈیا سے علم کے بجائے انتہا پسندانہ نظریات اور متشددانہ مزاج ملنے لگا ہے. انھوں نے کہا کہ میڈیا اب یہاں جمہوریت کا محافظ نہیں بلکہ روح جمہوریت کا قاتل ہو چکا ہے. جس ادارہ کی ذمہ داری ملک میں جمہوری مزاج پیدا کرنے کی تھی وہی ادارہ اب اس جمہوری مزاج کو دیش دروہ تصور کرنے لگا ہے. میڈیا کے بیانیہ پر سوال اٹھانا ملک سے غداری کے ہم معنی ہو چکا ہے. اس میڈیائ ماحول میں نیشنلزم اور ہندوتو ہم معنی ہو چکے ہیں. انھوں نے کہا کہ کہ میڈیا کے پیدا کیے ہوے ماحول کے نتیجہ میں اگر آزادانہ سوچ ایک شجر ممنوعہ بن جائے تو یہ ہمارے ملک کی جمہوریت اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. موصوف نے کہا کہ میڈیا ایک ایسا تعلیمی ادارہ بن چکا ہے جہاں آزادی فکر کا قتل کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے ملک کا ہرا شہری اس ادارہ کا طالب علم ہے.
انھوں نے کہا کہ میڈیا کا کام یہ ہے کہ کہ وہ عوام کی جانب سے حکومت سے سوال کرے اور جواب لے کر انھیں عوام کو رپورٹ کرے. مفتی موصوف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا میڈیا اس کام کو نہیں کر رہا ہے اور وہ وہی کام انجام دے رہا ہے جو پاکستان کے میڈیا نے کیا.
 موصوف نے کہا کہ پاکستان کی تباہی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا اپنی حکومت سے سوال کرنے کے بجائے خود حکومت کا ترجمان بن گیا. انھوں نے تاریخ پاکستان کے حوالہ سے بتایا کہ پاکستان کی میڈیا کا بدترین جرم یہ ہے کہ انھوں نے آزادی فکر کو محدود کیا یہاں تک کہ خود محمد علی جناح کو بھی قیام پاکستان کے فوراً بعد یہ آزادی حاصل نہ رہی.
القرآن اکیڈمی کے طلبہ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیا کا دوسرا جرم یہ ہے کہ انھوں نے اقلیتوں اور الگ رائے رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا. میڈیا کی عدم برداشت اور جانبداری کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ملک عدم برداشت کا کارخانہ بن کر تباہ ہوگیا.
 موصوف نے سخت رنج و ألم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک بھی اسی راہ کا مسافر ہو چلا ہے. اور اگر میڈیا میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کو نہ روکا گیا تو اندیشہ پے کہ سپر پاور بننے کا ہمارا خواب ٹوٹ جائے گا. انھوں نے پریس کی آزادی کو ملک کی ترقی کی ایک گرتی ہوئی قدر لازم قرار دیا.انھوں نے کہا کہ صحافت کبھی ایک مشن تھی پھر یہ پروفیشن ہوئ اور صحافت اب ایک دھندہ بنتی جا رہی ہے.
ڈائریکٹر القرآن اکیڈمی نے اس صورتحال کی وجہ بتاتے ہوے کہا کہ دراصل میڈیا کی تمام اکانومی حکومتی اکانومی کا ایک حصہ بن گئی ہے.
مفتی اطھر شمسی نے اس مسئلہ کے حل کی نشاندہی کرتے ہوئے چند اقدامات کی ضرورت بتائ. انھوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعہ پھیلائ جا رہی نفرت کا حل یہ ہے کہ اب ہم میڈیا کے ذریعہ محبت اور آزادی فکر کو فروغ دیں. اس کام کے لئے جہاں میڈیا کے غیر جانبدار طبقہ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہیں اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ میڈیا کے متعصب اور شدت پسند عناصر کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کی جائے. اس کے لئے ان کے ساتھ محبت اور اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا جانا چاہیے.
 انھوں نے توجہ دلائی کہ ہم اگر اپنے ٹی وی چینل قائم نہیں کر سکتے ہیں تو یوٹیوب چینلوں کے ذریعہ ہمارے باشعور افراد اور ادارے وہ کام کریں جو میڈیا کو کرنا تھا . انھوں نے بتایا کہ ملک کے عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ سچائی کو سننے کے لئے بے تاب ہے. یہی وجہ ہے کہ غیر متعصبانہ ویڈیوز لاکھوں کی تعداد میں دیکھی جاتی ہیں. ضرورت ہے کہ اس موقع کو بھرپور استعمال کیا جائے
 ڈائریکٹر القرآن اکیڈمی نے زور دیا کہ یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم اس کام کو نہایت درجہ غیر متعصب انداز میں فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر کریں. سوشل میڈیا پر اس طرح کی مہم پر کسی صورت مسلم پرستی کا ٹھپہ نہیں لگنا چاہیے. ورنہ اس مہم کا وہی حشر ہوگا جو اس سے پہلے اردو چینلوں کا ہو چکا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *