جہد مسلسل سے عبارت ہے عمیق جامعی کا اب تک کا سیاسی سفر

اتر پردیش کے سیاسی افق پر نئی نسل کے سیاست دانوں میں نمایاں چہرہ

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/ ابو انس ) عمیق جامعی ، اتر پردیش کے سیاسی افق پر نئی نسل کے سیاست دانوں میں نمایاں چہرہ بن کر ابھرے ہیں وہ ایک مضبوط سیکولر، سوشلسٹ  سیاسی جدوجہد کی پہچان بن چکے ہیں ۔ انہوں نے سڑک سے لیکر الیکٹرانک میڈیا کے اسٹوڈیو تک ہر مقام پر اپنی جہد مسلسل سے  فاشسٹ قوتوں سے فکری اور عملی جنگ جاری رکھا ہے ۔  ان کا طویل عرصہ بایاں بازو کے ریگزاروں میں گزرا جہاں انہوں نے سخت تربیت پائی  ہے ۔ لیکن لیفٹ کی تما م ترخوبیوں اور  سخت محنت کے باوجود ملک میں بڑھتے فاشزم کے خلاف کوئی خاطرخواہ نتائج نہ نکل پانے سے بے چین عمیق جامعی کو فاششسٹ قوتوں کو شکست دینے کے لیے ایک مضبوط سیاسی مقام کی ہمیشہ تلاش رہی ، انہوں نے  2017 کے  اسمبلی انتخابات کے فورا بعد سے اتر پردیش کی سیاست میں سرگرمی شروع کی ۔  ان کے عزم اور استقلال  پر جب  نظر پڑی  سابق وزیر اعلیٰ اکھیلش یادو کی تو ان کی نگا ہ انتخاب عمیق پر ٹھہر گئی ٰاکھیلیش نے عمیق جامعی کو پارٹی کا ترجمان بنا نے کا اعلان کر دیا ۔

سابق گورنر عزیز قریشی کے ساتھ

آبائی تعلق اور تعلیم

عمیق جامعی کا آبائی وطن اتر پردیش کے ضلع جونپورکا ایک چھوٹا سا قصبہ ‘جیگہا’ ہے ، ان کی پیدائش ‘جیگہا’ کے ایک باوقار متوسط گھرانے میں حاجی شمشیر خان کے یہاں ہوئی ،  ‘جیگہا’ کا یہ خاندان بہت پہلے سے ہی تعلیم و انصاف اور بھائی چارہ کے لیے اپنے ارد گرد معروف تھا ۔ عمیق جامعی نے ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ کے شبلی کالیج سے حاصل کی ، بعد ازاں  انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا رخ کیا ،اور یہیں وہ طالب علمی کے زمانے میں بایاں بازو کی سیاسی تحریک سے وابستہ ہوگئے ، حالاںکہ وہ پیشے سے ڈاکیو مینٹری میکر ہیں ، انہوں نے  ہندوستان کے صدر جمہوریہ  ڈاکٹر ذاکر حسین کی بایوگرافی پر ” دی سینٹ ” اور دودرشن کے لیے ” سوفی ازم ان انڈیا ” کے  13 ایپی سوڈ کیے  ہیں ۔

کئی سیاسی  تحریکوں میں رہے سرگرم 

دہلی کے بٹلہ ہاوس میں  جب 19 ستمبر  2008 کو فرضی انکاونٹر کا  معاملہ پیش آیا ، عمیق میدان میں کود پڑے اور پولیس سے ٹکر لی ، اور پھر حق و انصاف کی لڑائی کا یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ 2012 اور 2014 کے درمیان قومی سطح پر فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کی مہم چلائی ، ہریانہ کے اٹالی بلبھ گڑھ میں جب 2016 میں شدید فساد پھوٹ پڑے تھے  اس وقت انہوں نے بلبھ گڑھ کے مسلمانوں کی ہمت دلانے کا کام کیا ، دہشت گردی کے نام پر فرضی مقدمات میں ماخوذ کیے گئے مسلم نوجوانوں کو چھڑانے کے لیے آواز اٹھانے کا کام کیا ، ایک وقت ایسا بھی آیا جب جامعی نے وقف جائدادوں کو بچانے کے لیے مہم شروع کی ،روہت ویمولا کی موت کا معاملہ ہو یا جے این یو کی تحریک جامعی ہر جگہ پیش پیش رہے ۔

ٹی وی مبا حثے میں

نفرت کے سوداگروں کی آنکھوں میں چبھنے لگے  تھے عیق جامعی  

 اس  سرگرمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد انصاف کے حصول کی سرگرم مہم سے عمیق جامعی نفرت کے سوداگروں کی آنکھوں میں چبھنے لگے تھے ، بے پناہ حوصلہ مند اس نوجوان سیاست داں پر دہلی کے پٹیالہ ہائی کورٹ میں  جے این یو معاملے کی سماعت کے دوران شدید حملہ ہوا بی جے پی ایم ایل اے  او پی شرما نے ان پر جان لیوا حملہ کر دیا ،  لیکن ایک پل کے لیے بھی وہ نہیں رکے ، لڑائی جاری رکھی اور گجرات کے نوجوان لیڈر جگنیش میوانی کے ساتھ  آئے،  پاٹیدار آندولن میں ہاردک پٹیل سے قریب آئے ۔ جب انہیں لگا کہ سڑک پر بلند کی جانے والی آوازوں کو دبانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے تو انہوں نے بیک وقت میڈیا کے اسٹوڈیو کا رخ کیا اور یہاں کے مباحثوں میں شریک ہونے لگے ۔

سادگی کامریڈ اے بی بردھن سے سیکھی  تھی

 زندگی کو سادہ بنائے رکھنے میں یقین رکھنے والے جامعی اپنے کمٹمینٹ کے لیے مشہور ہیں ، انہو ں نے یہ سادگی کامریڈ اے بی بردھن سے سیکھی تھی ، جو سادہ زندگی کے اعلیٰ نمونہ پیش کر کے  اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ۔ اتل کمار انجان سے انہیں   بہت کچھ  جانننے سمجھنے کا موقع ملا ، سابق  ایم پی محمد ادیب سے ہندوستان میں مسلم سیاست کے رموز نکات سیکھا ، سابق گورنر عزیز قریشی کی سرپرستی نے انہیں آج یہ بلندی عطا کی ۔ عمیق  2008 تا 2016  بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے ۔

حافظ عبدالقیوم کی کتاب کے رسم اجرا میں

‘شاہجہانی دلی’ کو خیرآباد کہا اور ‘اودھ ‘کے لیے رخت سفر باندھا

یوں تو جامعی کافی عرصے تک دہلی میں سرگرم رہے لیکن 2017 میں اترپردیش بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد  اتر پردیش کا رخ کیا ، انہیں لگا کہ اب یہاں اتر پردیش میں دلتوں ، کمزوروں ، اقلیتوں کے حقوق کو خطرات  بڑھ گئے ہیں  یہ لڑائی دہلی رہ کر نہیں لڑی جا سکتی یہ خیال آتے ہی ‘شاہجہانی دلی’ کو خیرآباد کہا اور ‘اودھ ‘کے لیے رخت سفر باندھا یہاں پہونچ کر ناانصافی کے خلاف جدوجہد شروع کی لڑائی مضبوط کرنے کے لیے ہم خیال افراد اور جماعتوں کا ساتھ لیا ، طلبا نوجوانوں کو ساتھ لیکر “اشفاق اللہ خان یوتھ بریگیڈ ” تشکیل دیا ۔ اتر پردیش میں پے درپے ہونے والے ماب لنچنگ  کے واقعات ،  دلت بستیوں جلانے کے خلاف اسمبلی گھیرنے کا اعلان کیا یہاں انہیں دیگر 22 لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا اس طرح وہ یوگی حکومت کے پہلے سیاسی قیدی بنائے گئے ۔

شیعہ سنی کو ساتھ ساتھ نماز ادا کرنے کی مہم ” شولڈر ٹو شولڈر ” کا اول روز سے ہی ساتھ دیا

مسلمانوں کے درمیان مسلکی منافرت سے ہونے والے تنازعات بھی انہیں بے چین کرتے رہتے ہیں انہوں نے شیعہ سنی دونوں کو ساتھ ساتھ نماز ادا کرنے کی مہم ” شولڈر ٹو شولڈر ” کا اول روز سے ہی ساتھ دیا ۔ اب وہ سماج وادی پارٹی میں اہم رول میں ہیں پارٹی کے ترجمان بنائے گئے ہیں پارٹی ابھی اپوزیشن میں ہے ۔ فی الحال تو ان کا بڑا رول اتر پردیش کو ہندوتوا وادی قوتوں کے جبر سے آزاد کرانے کا ہوگا ۔ 2019 میں  اتر پردیش کو بی جے پی کے قبضے سے چھڑانا ان کی اولین ترجیح ہوگی .

کچھ سوالات جن کا انہیں  جواب تلاش کرنا ہوگا 

لیکن یہاں انہیں یہ بھی یاد رہے اور وہ اس بات کے لیے بھی خود کو تیار رکھیں کہ نمیش مشرا کمشن کی سفارشات ، خالد مجاہد  کے مقدمات ، مظفر نگر فسادات ، 18 فیصد مسلم ریزرویشن کا وعدہ  یہ کچھ ایسے معاملات ہیں جس کے بارے میں انہیں سوالات کا سا منا کرنا ہوگا ، انہیں یہ بھی خیال رہنا چاہئے کہ وہ یہاں رہ کر اپنی شبیہ خالص مسلم لیڈر تک ہی محدود نہ کر لیں  بلکہ ایک عوامی لیڈر کے طور پر سامنے  آئیں ایک ایسا لیڈر جو قومی ایشوز کو سامنے رکھتا ہے ۔ کیونکہ   بد قسمتی سے  ابھی تک کانگریس سمیت سبھی سیکولر سیاسی جماعتوں میں  مسلم ووٹوں کے مینجر کے طور پرپارٹی کے مسلم چہروں کو دیکھا جاتا رہا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ عمیق جامعی قومی سیاست کا  چہرہ بن سکیں گے ۔

کا نگریس کے ایک  راجیہ سبھا ممبر نے بہت پہلے آف دی ریکارڈ کہا تھا

 ایک موقع پر  کا نگریس کے ایک  راجیہ سبھا ممبر نے بہت پہلے آف دی ریکارڈ کہا تھا  جناب ہم کسی بھی پارٹی میں ہوں ہمیں تو وہی کہنا اور کرنا ہے  جو پارٹی کا موقف ہے چاہے اس پر میری رائے کچھ بھی ہو مجھے تو پارٹی کی ہدایات پرعمل کرنا لازم ہے اس لیے میں کانگریس کا لیڈر ہوں بھلا بتائیں میں خود کو مسلمانوں کا لیڈر کیسے  کہوں۔ یہ کہتے ہوئے ان کا گلا بھر آیا تھا ۔ امید کی جاتی ہے کہ عمیق جامعی اس مفروضے کو  اپنے عمل سے  کا العدم قرار دینے مین کا میاب ہو نگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *