ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس کی پانچویں مجلسِ عاملہ کا انتخاب : عامر ادریسی صدر اور صہیب سیلیا پانچویں بار جنرل سیکریٹری بنے

پندرہ ممبران اور دو خصوصی مدعوئین پر مشتمل میں منصوبہ سازوں، تجارتی افراد، سماجی رہنما اور قانونی مشیر وں کی نمائندگی

Asia Times Desk

ممبئی،  5 نومبر:  ایسو  سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس کی پانچویں مجلسِ عاملہ کا انتخاب گذشتہ دنوں عمل میں آیا۔ منتخب شدہ افراد اپنے شعبوں میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل اور شعبہ ہائے زندگی جیسے تجارتی، سماجی اور تعلیمی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

نئی مجلسِ عاملہ کے ممبران نے آفس بیررس کا انتخاب کیا اور بالاتفاقِ رائے  عامر ادریسی صاحب کومسلسل پانچویں معیاد کے لیے تنظیم کا صدر اور جناب صہیب سیلیا صاحب کو جنرل سیکریٹری کے طور پر منتخب کیا۔

اس تعلق سے اظہار خیال کرتے  ہوئے جناب عامر ادریسی نے کہا کہ ‘‘یہ میرے لیے باعث فخر و انبساط کا موقع ہے کہ مجلس عاملہ کے ممبران نے میری صلاحیتوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اورمسلسل پانچویں مرتبہ مجھے تنظیم کی صدارت تفویض کی گئی۔ اتنی مضبوط اور با اثر ٹیم کے ساتھ کام کرنے اور ان کے تجربات کی روشنی میں اے ایم پی کی سرگرمیوں کو پھیلانے بالخصوص مسلمانوں کی معاشی ترقی کے منصوبوں کو بروئے کار لانے میں ہمارے لیے کارآمد ہوں گی۔ میں اے ایم پی جیسی ہم آہنگ تنظیموں کے ذریعے اس کی سرگرمیوں کو ملک بھر میں پھیلانا چاہتا ہوں ساتھ ہی میری یہ خواہش ہے کہ نوجوان جو لیڈر شپ کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں وہ آگے آئیں اور اے ایم پی کے کام کو اعلیٰ ترین مقام تک پہنچایں۔ ’’

پہلی مرتبہ جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر جناب صہیب سیلیا نے کہا کہ ‘‘بڑی ذمہ داری کے ساتھ احتساب میں اضافہ ہوتا ہے ۔ میرا نقطہ نظر بہت واضح ہے کہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کو مسلسل کاوشوں سے بڑھاوں اوراس کے نظام عمل میں شفافیت اور احتساب کو اولیت دوں ۔

اب بھی ہمیں ملک، قوم اور ملت کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ اتنے با صلاحیت افراد کے ساتھ کام کرکے مجھے یقین ہے کہ ہم اے ایم پی کے مقاصد کو نہ صرف حاصل کرسکیں گی بلکہ قوم و ملت اور انسانیت کی امیدوں پر کھرا اتریں گے۔

اے ایم پی کی مجلس عاملہ، تنظیم کے منصوبوں کی عمل آوری کی اعلیٰ ترین باڈی ہے۔ پندرہ ممبران اور دو خصوصی مدعوئین پر مشتمل یہ ٹیم اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ کے منصوبہ سازوں، تجارتی افراد، سماجی رہنما اور قانونی مشیروں کی نمائندگی ہوسکے۔ یہ نئی ٹیم باصلاحیت اور اعلیٰ ذہنی مطابقت کے حامل افراد پر مشتمل ہے۔

اس مجلس عاملہ میں اہم ترین اور ذہین افراد مثلاً انجیل انویسٹر اور ایک بین الاقوامی کمپنی کے سی ای او عبداللہ حسن ٹھاکر،  میسور سے سابق وائس چانسلر پدمشری جلیس ترین، جامع ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر صبیحہ حسین، اے ایم یو سے پروفیسر فائزہ عباسی، سبکدوش آئی اے ایس آفیسر عمر فاروق کھٹانی، بھارت کی اہم تنظیموں کے نائب صدور اور مختلف سماجی اور تعلیمی شخصیات شامل ہیں- مجلس عاملہ میں مختلف ریاستوں اور شہروں کے نمائندے شامل ہیں جنھوں نے اے ایم پی کی سرگرمیوں کو اپنے علاقے میں بڑھاوا دینے اور نوجوانوں کو اے ایم پی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

موجودہ مجلس عاملہ کے دو برس کے لیے نومبر ۲۰۱۸ سے اکتوبر ۲۰۲۰ ؁ تک کے لیے منتخب کی گئی ہے۔ جس کی فہرست درج ذیل ہے۔

 واضح ہو کہ اے ایم پی تمام مسلم پیشہ ور افراد کے لئے ایک پلیٹ فارم ہے جو سماجی، سیاسی اور اقتصادی پیمانے پر مسلمانوں کو مزید بااختیار بنانے کے لئے نہ صرف مسلم کمیونٹی کی مجموعی ترقی کے لئے اپنے علم، عقل، تجربے اور مہارت کو اشتراک کرنے کے لئے بلکہ قوم کی ترقی کے لیے رضاکاروں کو اپنی ذہانت اور تجربات کو شئیر کرنے کا پلٹ فارم مہیا کرتی ہے۔

اے ایم پی ایک رجسٹرڈ غیر منافع بخش تنظیم ہے جو بھارت کے مختلف شہروں میں تیزی سے پھیل رہی ہے. اور اس کے اراکین نے نہ صرف بھارت کے اندر واقع ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہیں۔

اے ایم پی بھارت بھر میں 16 ریاستوں میں سے 80 سے زائد شہروں میں اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ . اے ایم پی ملک کے طول و عرض میں معاشرے کے فائدے کے لئے مختلف تعلیمی، سماجی اور فلاح و بہبود کی سرگرمیاں انجام دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *