اےایم یو: تماشائےاہل ‘وطن’ دیکھتےہیں

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

جےاین یوکی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےبارےمیں یہ کہا جائےتوغلط نہیں ہوگاکہ اسے تنازعات میں گھرےرہنےکی عادت سی پڑگئی ہے۔ایک تنازعہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسرا شروع ہوجاتاہے۔ کبھی تنازعہ باہر سے منصوبہ بند طریقےسے کھڑا کیا جاتاتو کبھی کیمپس کےاندرکسی واقعہ کی وجہ سے یونیورسٹی کا ماحول خراب ہوجاتاہے۔معمولی معمولی بات کو رائی کا پہاڑ بناکر پیش کیا جاتا ہےجو یونیورسٹی انتظامیہ کےدردسر بن جاتا ہے ۔ کب کیمپس میں کیا ہوجائےاورکب یونیورسٹی کو کسی تنازعہ میں گھسیٹ لیا جائے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔اس وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں ۔اسٹوڈینٹس یونین ہال میں محمد علی جناح کی تصویر پر ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے۔ 80 سال سے ان کی تصویر لگی تھی کسی کو نہ اس کا خیال آیا اورنہ کوئی قباحت نظر آئی اب اچانک ایساکیا ہوگیا کہ تصویر ناقابل برداشت ہوگئی کہ ہنگامہ کرنےوالےتشدد پر آمادہ ہوگئے اوربیان بازی وسیاست شروع ہوگئی جبکہ ممبئی میں جناح ہاؤس کےعلاوہ انڈین نیشنل کانگریس کےدفتر، نہرومیوزیم اورشملہ انسٹی ٹیوٹ میں بھی جناح کی تصویر لگی ہے.

بتایا جاتاہےکہ مرکزی حکومت کی ناک کےنیچے شیاماپرساد مکھرجی کےساتھ جناح کاایک فوٹوپارلمنٹ کی دیوارپر بھی لگاہواہے،ان  پر ہنگامہ نہیں ہوتا۔  یہ  معاملہ اسی طرح ہے جیسے اس سے قبل نے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے مسلم یونیورسٹی کی لائبریری میں طالبات کےٹائم ٹیبل پرنوٹس بازی شروع کردی تھی اورجب بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات نےاپنےخلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طرح طرح کی بندشوں کا معاملہ اٹھایاجس پر پولیس نےلاٹھی چارج کیاتو حکومت نےان روایتی بندشوں پرجواب طلب نہیں کیا ۔ فرض کرلیا جائے جیساکہ جناح کی تصویر پر ہنگامہ کرنےوالےکہتےہیں کہ وہ ملک کی تقسیم کے ذمےدار تھے اس لئے ناپسندیدہ ہیں .

ان کی تصویر نہیں لگانا چاہئےتو لائبریریوں میں ان پر کتابوں یا جن کتابوں میں ان کا تذکرہ ہے،کو بھی ہٹادینا چاہئے ؟اگر وہ ملک کی تقسیم کی وجہ سے ناپسندیدہ تو دوسوسال تک حکومت کرنےوالے انگریز کون سےپسندیدہ تھے ، ان کی علامتیں اوران کےنام پر سڑک اورعمارتیں کیوں برقرارہیں ؟

اصول یکساں ہونا چاہئے ،مذہبی تعصب اورتنگ نظری کی بونہیں آنی چاہئے۔ کسی کی تصویر لگادینےسےنہ  کوئی حامی اوررول ماڈل  بن جاتا اورنہ  کوئی یہ بات کہہ رہا ہے توہنگامہ کیوں ؟جب یونیورسٹی کےایم آئی سی ممبر شعبہ رابطہ عامہ پروفیسر شافع قدوائی نےبھی کہدیاکہ نہ یونیورسٹی میں کوئی جناح کا حامی ہے اورنہ اسٹوڈینٹس یونین کےعلاوہ کہیں  ان کی تصویر لگی  ہے۔ وائس چانسلرطارق منصورنےبھی کہا ہےکہ تصویر 1938 سے لگی ہے، اتنےبرسوں میں کسی نےاعتراض نہیں کیا،سابق باجپئی سرکارنےبھی نہیں تو اب کیوں ؟کوئی نئی چیز نہیں ہورہی ہےاورنہ  کوئی بڑا ایشو ہے ،یہ صرف آرکائیو ہے ۔

اگربات کی جائے اسٹوڈنٹس یونین میں لگائی گئی تصویروں کی تو اسے روایت کہیں یا تاریخ اس کی قدر یونین کرتی اور سنبھال کررکھتی ہے۔ کسی کےکہنےیا اعتراض سےکوئی اپنی تاریخ نہیں بدلتا ۔ تاریخ کو اس وقت کےحالات کےپس منظر میں لیاجاتاہےنہ کہ بعد کےبدلتےحالات کےپس منظر میں ۔جس طرح یونیورسٹیاں مختلف میدانوں میں خدمات کےپیش نظر شخصیات کواعزازی ڈگری دیتی ہیں جن پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس یونین تاحیات اعزازی رکنیت دینےکی روایت دیتی رہی ہے۔پہلی رکنیت 1920 میں گاندھی جی کودی گئی تھی ۔

جناح کو تقسیم سے بہت پہلے1938 میں رکنیت دی گئی تھی ۔جواہرلال نہرو ، مولانا ابوالکلام آزاد ،راھاکرشنن ، سی وی رمن ،جےپرکاش نارائن ، ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکراورڈاکٹراےپی جےعبدالکلام جیسی سو سے زیادہ شخصیات کو  رکنیت دی جاچکی ہے۔ جن کو رکنیت دی گئی یادگارکےطورپراس کی تصویر یونین ہال میں لگائی گئی ، اس سے زیادہ حقیقت نہیں ہے۔جب رکنیت حاصل کرنےوالوں کو جناح کی رکنیت اورتصویر پر اعتراض نہیں ہواتو اب ہندویووا واہنی اوربی جےپی کو کیوں ہورہا ہے؟اول الذکر نےہنگامہ کرکےماحول بنایا اورپولیس نےیکطرفہ یونیورسٹی طلباء کےخلاف کارروائی کرکےایشوبنایا اوربی جےپی اس پر سیاست کرکےفصل کاٹ کاٹنےکی کوشش کررہی ہے۔پورامعاملہ منصوبہ بند لگتاہے۔غورطلب امر ہےکہ باجپئی سرکارمیں یہ معاملہ نہیں اٹھا اورمودی سرکارکےچار سال میں اس کا خیال کسی کو نہیں آیا اب اچانک طوفان کھڑا کردیاگیا ۔جےاین یو کی طرح تماشاکیاجارہا ہے ۔جنہوں نےتشدد برپاکیا ان کےبجائےیونیورسٹی کےطلباکو غنڈہ کہا جارہا ہے۔

طلبا اوراسٹوڈنٹس یونین کےذمےداران کہہ رہےہیں کہ نہ ہم جناح کےحامی اورنہ وہ ہمارےرول ماڈل ہیں ، ان کی تصویر صرف تاریخ کا حصہ ہے ۔اس سے زیادہ حقیقت ہوتی توملک کی تقسیم سےپہلے جب جناح نےدوقومی نظریہ پیش کیاتوہندوستانی مسلمان مسترد نہیں کرتے۔اس طرح کی تصویریں ملک وبیرون ملک  اداروں میں لگائی جاتی ہیں اگر اتنی تنگ نظری اورحقیر سوچ رہی تو بیرون ملک اداروں سے ہندوستانی شخصیات کی تصویریں ہٹانی پڑیں گی  ۔ برطانیہ  کہہ سکتا ہےکہ ہندوستانیوں نےہم کو وہاں سے نکالا اس لئے ہم ہندوستانی شخصیات کی تصویر یا اسٹییچواپنےیہاں نہیں لگنےدیں گے یا سڑک کانام نہیں رکھنےدیں گے ۔بی جےپی کےسینئر لیڈرایل کےآڈوانی کےساتھی سدھیندرکلرنی کا بھی کہنا ہےکہ ہنگامہ بے وجہ ہے،جناح نےتو 1908 میں لوکمانیہ بال گنگادھرتلک کا مقدمہ لڑاتھا جن پر انگریزوں نےدیش دروہ مقدمہ چلایا تھا اس پرکوئی اعتراض نہیں کررہا ہے۔

جناح کی تصویر پر بولنےوالے پارٹی کے لیڈراپنےسینئرلیڈرایل کےآڈوانی کےخلاف کیوں نہیں بولتےجنہوں نےپاکستان جاکر جناح کے مزارپرگلہائےعقیدت  پیش کیا اورانہیں سیکولر کہا تھا۔دراصل ہنگامےکےذریعہ کئی نشانے لگائےجارہے ہیں ، ایک تو ہنگامہ ایسے وقت کیا گیاجب سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کویونین تاحیات اعزازی رکنیت دینےجارہی تھی جن کےخلاف ماضی میں پارٹی کےلیڈربیان بازی کرچکے ہیں ، دوسرے اس وقت کرناٹک میں اسمبلی الیکشن ہورہا ہےوہاں ووٹوں کی تقسیم کے لئے بی جےپی کو ایشو چاہئے ،

تیسرے  کیرانہ میں لوک سبھا کے ضمنی الیکشن اور2019 کےپارلمانی الیکشن کے لئے ماحول بنانا اورفرقہ پرستی کاکارڈ کھیلنا ہےتاکہ مودی اوریوگی سرکار کی ناکامیاں موضوع بحث نہ بن سکیں ۔پہلے تین طلاق کےخلاف حکومت نےماحول بنایااورکیس لڑا،پھر غیر شرعی قانون بنایا اورراجیہ سبھا میں پاس کرانےمیں ناکامی کےبعد اب آرڈیننس جاری کرنےکی تیاری اسی طرح جامعہ اورعلی گڑھ کےاقلیتی کردار کےخلاف کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ۔گورکھپورمیں ڈاکٹرکفیل جیل سےباہر آئےاوریوگی سرکار سوالات کےدائرےمیں آئی توعلی گڑھ میں جناح کا مسئلہ چھیڑدیا ۔ پہلےیونیورسٹی کےاقلیتی کردارکی مخالفت اوراب ایک فوٹو پر ہنگامہ سےظاہر ہوگیا کہ فرقہ پرست تنظیمیں یونیورسٹی کو تباہ کرنا چاہتی ہیں اورمنصوبہ بند ایجنڈےکےتحت کام کررہی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *