مسجد اقصیٰ سے ایک انٹرویو

تحریر: عبدالحمیدالبلالی

Asia Times Desk

ترجمہ: مفتی محمد ارشدفاروقی

مسجد اقصیٰ کی زیارت کی توفیق اللہ نے بچپن میں عطا فرمائی، والد گرامی قدر کے ساتھ حاضری ہوئی، میں نے اس میں نماز ادا کی اور وہاں کی ساری چیزیں بھی دیکھیں اور اس سے جو تاریخ وابستہ ہے اس کا بھی احساس ہوا، سالوں بعد اس سے میری ہوئی گفتگو کی سرگذشت پیش ہے:

راقم : اے نشانِ عظمت! مسجد اقصیٰ آپ کی تعمیر کب ہوئی؟

مسجد اقصیٰ : روئے زمین پر تعمیر ہونے والی میں دوسری مسجد ہوں، پہلی مسجد، مسجد حرام ہے، میری تعمیر نبیوںنے کی اور وہ برابر میری نگرانی کرتے رہے۔

راقم : سب سے پہلے کس نبی نے تعمیر کی؟

مسجد اقصیٰ : سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام نے مسجد حرام کی تعمیر کے چالیس سال بعد میری تعمیر کی۔

راقم : آپ کا نام مسجد اقصیٰ کیوں ہے؟

مسجد اقصیٰ : اس لئے کہ میں اپنی رفیق مسجد حرام سے دور ہوں۔

راقم : کیا آپ کے اور بھی نام ہیں؟

مسجد اقصیٰ : جی! میرے اور بھی نام ہیں، جیسے ’’بیت المقدس‘‘ مطلب طہارت بخش جس میں گناہوں سے پاکی ہوتی ہے، ’’قبلۂ اوّل‘‘ اس لئے کہ مسلمانوں کا اولین قبلہ ہونے کا شرف مجھے حاصل ہے۔ ’’حرم ثالث‘‘ (ثالث الحرمین، حرم مکی، حرم مدنی کے بعد تیسرا حرم۔ ’’مسری النبی ؐ‘‘ (سفر معراج کی پہلی منزل) بھی میرا نام ہے۔ اور ’’ایلیا‘‘ یعنی اللہ کا گھر بھی مجھے کہتے ہیں۔

راقم : طوفانِ نوح کے بعد آپ کی تعمیر کس نے کی؟

مسجد اقصیٰ : اللہ کے نبی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بنایا، پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کے صاحبزادگان اسحاق و یعقوب تعمیر کرتے رہے اور سید سلیمان علیہ السلام وعلیٰ نبینا نے ایک ہزار سال قبل مسیح ازسر نو بنایا۔

راقم : کیا دشمنانِ اسلام کی طرف سے کبھی حملے کا شکار ہوئیں؟

مسجد اقصیٰ : جی! سب سے پہلا حملہ مجھ پر سیدنا سلیمان علیہ السلام و علی نبینا کی وفات کے بعد ہوا اور شاہ اسوریین نے میری اینٹ سے اینٹ بجادی، پھر مجھ پر فرعون کا قبضہ ہوگیا، اس کے بعد بنوخت نصر نے فرعون سے میری بازیابی کرائی، یہودیوں کو قید کیا اور ان کو عراق کے بابل تک کھدیر دیا۔

راقم : کیا پھر تعمیر ہوئی؟

مسجد اقصیٰ : جی! ۵۳۸ء قبل مسیح فارس کے بادشاہ نے بابل کے علاقے کو اپنے قلم رو میں شامل کرلیا اور یہودیوں کو قدس لوٹنے کی اجازت دیدی، پھرانہوں نے دوبارہ تعمیر کی۔

راقم : آپ کی زندگی میں سب سے اچھا دن کون سا آیا؟

مسجد اقصیٰ : میں سب سے اچھے دن کو کبھی نہیں بھول سکتی، وہ مبارک دن اس وقت آیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام مکہ سے معراج کے سفر میں یہاں رکے، آپصلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت قدموں نے مجھے سعادت بخشی، پھر یہاں سے سفر آسمان اور اس کے آگے بلندیوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے۔ میرے محراب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے انبیاء کی امامت فرمائی، تو بتائیے زمین کا کون سا ٹکڑا میری اس سعادت عظمیٰ میں میرا شریک ہے۔

راقم : اس عظیم سعادت کے بعد کیا پھر کوئی مصیبت آن پڑی؟

مسجد اقصیٰ : ہاں اس کے بعد بھی حالات بگڑے، رومی عیسائیوں نے پہلی مرتبہ مجھ پر قبضہ کرلیا اور اس وقت میری خوشی کی انتہا نہ رہی، جب سیدنا عمر فاروق نے مجھے آزاد کرایا، اس کے بعد عیسائیوں نے دوبارہ مجھے ہتھیا لیا اور فساد برپا کرتے رہے۔ مسلمانوں کی خون ریزی کرتے رہے، پھر مرد جواں قائد اعظم صلاح الدین ایوبی اٹھا اور مجھے ان کے پنجوں سے نکال کر فتح حاصل کی، پھر مجھے تیسرا صدمہ جانکاہ پہنچا، جب یہودیوں نے فلسطین کو ہڑپ لیا، میری قدسیت و طہارت کو پامال کیا، مجھے نذرِ آتش کیا، میرے احاطہ میں نمازیوں کو نماز سے روک دیا، اعتکاف کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، اب زمانی مکانی تقسیم کی باتیں کر رہے ہیں، میرے صحن کو سیاسی مقام دینا چاہتے ہیں، میرے سینے پر ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں، میری دیواروں کو سرنگیں کھود کر نقصان پہنچا رہے ہیں، میں لہو لہان ہوں، سسک رہی ہوں، میری روح تڑپ رہی ہے اور اللہ سے فریادی ہوں، نہ جانے ۵۷ مسلم ممالک کی طاقت و دولت کس کام کی؟ کیا ان کے عالی شان محلات ان کو بچالیں گے؟

راقم : آپ کی سب سے بڑی خوشی کب ہوگی؟

مسجد اقصیٰ : جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وعلیٰ نبینا کی تشریف آوری کے بعد ان کے جھنڈے تلے مسلمانانِ عالم متحد ہو کر شام ہوتے ہوئے آئیں گے، یہودیوں سے جنگ کریںگے، ان کے لیڈر دجال کو قتل کریںگے تو توحید و وحدانیت سے میری زمین گونج اٹھے گی اور یہودیوں کی نجاست سے میرا وجود پاک ہوجائے گا۔ میرا پیغام ہر مسلمان کے نام ایک ہی ہے کہ اسرائیل کے قبضے سے مجھے آزاد کرانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *