یہی وہ اوصاف تھے جن کے سبب اردو زبان کو ایک واضح امتیازحاصل ہوا

برصغیر کے مسلمانوں کی اپنی سماجی زندگی کا ایک خاص نہج تھا اور زندگی کے کچھ رسوم و رواج اور کچھ تقاضے تھے۔ اس لئے مسلمانوں نے اپنی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی عکاسی اور ترجمانی کا اہل بنانے کے لیے اردو زبان کو عربی و فارسی کے کثیر الفاظ، اصطلاحات، محاورات، تلمیحات اور اسالیبِ بیان کو بھی منتخب کیا۔ مختلف اصناف جیسے غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی وغیرہ کا اضافہ کیا گیا۔ شعری تنقید کا انداز مستعار لیا گیا۔

Asia Times Desk

 نئی دہلی / نوئیڈا : ( ایشیا ٹائمز کے اسپیشل کرسپانڈنٹ زبـــــــــــیر خان سعیدی کی خاص رپورٹ ) موجودہ وقت میں اردو زبان کی بقا جو کہ ایک چیلنج سا بن گیا ہے جبکہ ہمارے آباؤ و اجداد کے زمانے میں یہ قطعی کوئی مسئلہ نہیں تھا، مختلف تنظیمیں اور ادارے اپنے اپنے انداز میں اردو کی بقا اور فروغ کی کاوشیں کر رہے ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں اس فروغ میں ایک خلا رہ ہی جاتا ہے جس کا اظہار گاہے بگاہے اردو محبین کی طرف سے کیا بھی جاتا رہا ہے

 مجھے نوئیڈا سیکٹر 70 جو بسئی گاؤں کے نزدیک ہے، وہاں ایک برتھ ڈے پارٹی میں جانے کا اتفاق ہوا، اب آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اچانک اردو کی بقا کا تذکرہ کرتے کرتے میں نے برتھ ڈے پارٹی کا ذکر کیوں چھیڑ دیا تو بتاتا چلوں کہ صاحب معاملہ جناب صادق خان صاحب نے اپنے بچے کی برتھ ڈے پارٹی میں ایک اہم روایت کا آغاز کیا تھا جس کا گہرا رشتہ اردو اور اردو کی بقا سے ہے

صادق خان صاحب نے رقص و سرور کی محفل منعقد کرنے کے بجائے ایک مشاعرہ منعقد کرایا تھا جس میں پانچ یا چھ معتبر شعراء کو اپنا کلام پیش کرنے کا موقع ملا
سامعین میں خاصی تعداد غیر مسلم برادران وطن کی بھی تھی، سب نے نہ صرف انہماک سے شعراء کو سماعت کیا بلکہ کچھ خواتین شرکاء نے محفل کی کافی پذیرائی بھی کی

ایسے وقت میں جب کہ اردو والے بھی اردو کے بقا کی حتی المقدور کوشش سے گریز کرتے نظر آتے ہیں میں جناب صادق صاحب نے اس اقدام کی پذیرائی کرتا ہوں اور اس جرأت رندانہ کے لئے انہیں سلام پیش کرتا ہوں

موقع مناسب ہے اس لئے اب کچھ اردو زبان کی بات بھی کر لیتے ہیں

قارئین! 
بر صغیر میں جب اردو کو بہ حیثیت زبان منتخب کیا گیا تو اس میں عربی و فارسی کے الفاظ کا ایک بڑا حصہ بھی شامل ہو گیا، جو فی الواقع اردو زبان کا بڑا حسن ہے، محبوب کو ہتھیارا کہنے کے بجائے قاتل کہنے کا حسن عربی زبان کی شمولیت کے سبب ہی ممکن ہوا ہے

Image may contain: 3 people, people standing, beard and indoor

برصغیر کے مسلمانوں کی اپنی سماجی زندگی کا ایک خاص نہج تھا اور زندگی کے کچھ رسوم و رواج اور کچھ تقاضے تھے۔ اس لئے مسلمانوں نے اپنی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی عکاسی اور ترجمانی کا اہل بنانے کے لیے اردو زبان کو عربی و فارسی کے کثیر الفاظ، اصطلاحات، محاورات، تلمیحات اور اسالیبِ بیان کو بھی منتخب کیا۔ مختلف اصناف جیسے غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی وغیرہ کا اضافہ کیا گیا۔ شعری تنقید کا انداز مستعار لیا گیا۔

یہی وہ اوصاف تھے جن کے سبب ایک واضح امتیاز اس زبان کو حاصل ہوا 

اور فی زمانہ خالص عوام کے لئے انہیں سب اصناف سے آراستہ محفل کو جسے مشاعرے کا نام دیا جاتا ہے وہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے
یہ بات مسلم ہے کہ زبان انسان کے لئے ﷲ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک بے حد تحفہ بے، جس کا بدل کوئی شے بھی نہیں ہوسکتی

Posted by Zubair Khan on Tuesday, 11 December 2018

انسانی زندگی میں اس کا کردار واضح اور بیّن ہے

زبان ہی نے انسان کو معرفتِ خداوند کریم سے آشنا کیا۔ پھر زبان کی کوکھ سے شعر و ادب، فلسفہ، سائنس کی ایجادات اور باہمی تعارف و پہچان نے جنم لیا۔ انداز زیست اور تعلقات باہمی کا سبق بھی ہمیں زبان ہی نے دیا اور یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ انسان حیوانِ ناطق ہے بلکہ اس حقیقت سے انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ انسان کی بقا کا سبب زبان میں ہی مخفی ہے۔
زبان انسانوں سے زندہ ہے اور انسان زبان سے زندہ ہیں۔ ذکر الٰہی جو اطمینان قلب و نظر ہے وہ بھی زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

انسان اور زبان کا آپس میں رشتہ کیسے بنا، انسان اور زبان کس طرح ایک دوسرے سے آشنا ہوئے۔ کیا انسانی زبان کا ماخذ ایک ہے۔ جب اصل ایک مان لی جائے تو زبانوں کا تنوع کیسے وقوع پذیر ہوا۔ ان میں اجنبیت اور تفاوت کا سبب کیا ہے؟ زبانوں کے خاندان اور ان کی پہچان کہ کوئی زبان کس خاندان کی پروردہ ہے۔ بولیاں، ٹھولیاں اور لہجے کیونکر وجود میں آئے۔ لہجے اور بولی کی ضرورت زبان کے ہوتے ہوئے کیوں کر پیش آئی۔ یہ سب وہ سوالات ہیں جن پر ایک طویل گفتگو ممکن ہے

اس وقت یہ جان لیں کہ زبان کی ترقی قوموں کی ترقی کا سبب ہے۔ زبان ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے ہم نہاں خانہ دل کے لطیف اور خفیف جذبات کا اظہار کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔ اگر زبان کا ذخیرۂ الفاظ وسیع تر ہو گا تو اس زبان میں جذبات کا ابلاغ آسان ہو گا۔ زبان کے دامن کی الفاظ کو پناہ ملتی ہے اور اس طرح دوسری زبانوں کے الفاظ اس کے اندر وسعت پذیری کا سبب بنتے ہیں۔ جس سے اس کا دامن افہام و تفہیم میں وسعت پذیر اور ہمہ گیر ہوتاہے اور اس زبان میں علم و ادب کا سرمایہ فروغ گیر اور نمو پذیر ہوتا ہے اور اس ادبائے ادب کو تخمِ علم و ادب اور نخلِ ادب کے پروان چڑھانے کے وقیع مواقع ملتے ہیں۔

آخـــــر میں اردو والوں سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ اردو کی بقا کے لئے کی جانے والی ہر کاوش کو ضرور اور خوب سراہا جائے
وما علینا الا البلاغ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *