نو سال کی عمر سے غریب بچوں کو پڑھا رہے ہیں بابر علی

بھاؤنا اکیلا

Asia Times Desk

مرشدآباد (مغربی بنگال) یہ کہانی مغربی بنگال کے 9سالہ بابر علی کی ہے جس نے اسکول سے واپسی کے وقت اپنی ہی عمر کے بچوں کو کوڑا چنتے دیکھا اور پھر اس نے ان کے لیے کچھ ایسا کرنے کی ٹھانی جس سے کہ وہ بھی اسکول جاسکیں۔ مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے بابر علی نے محسوس کیا کہ یہ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جاپارہے ہیں۔

کولکاتہ سے 200کلومیٹر کی دوری پر واقع ضلع مرشدآباد کے بلڈانگا گاؤں کا یہ بچہ ایک سرکاری اسکول میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا اوراس نے تہیہ کیا کہ وہ اپنے گھر کے پیچھے کے حصے میں ان بچوں کو پڑھائے گا۔اس کے پاس ایک خواب تھا کہ ریاست میں غریب اور کام کرنے والے بچوں کو بھی بہتر تعلیم ملے ، یہ مہم جو شخص سالوں سے بڑی خاموشی سے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مصروف ہے۔

بابر علی جن کی عمر اب 25 سال کی ہوچکی ہے نے پرانے دن یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں یہ بات برداشت نہیں تھی کہ وہ تو اسکول جائیں لیکن ان کے دوست کوڑاچنیں لہذا انہوں نے ایسے لڑکوں کو اپنے گھر کے پیچھے کے حصہ میں کھلے آسمان کے نیچے پڑھانا شروع کیا تاکہ کم از کم وہ لکھنا پڑھنا سیکھ سکیں۔

گھر کا یہ حصہ سال 2002میں بابر کا اسکول آنند سکشا نکیتن یعنی خوش گوار تعلیم کے مرکز میں تبدیل ہوگیا اور اس طرح شاید وہ دنیا کے سب سے کم عمر صدر مدرس بھی بن گئے۔
بابر ان ایام کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں” میرے اسکول کی شروعات صرف آٹھ بچوں سے ہوئی تھی اور ان میں میری پانچ سالہ بہن آمنہ خاتون بھی شامل تھی۔ہم ہر دوپہر ایک امردود کے پیڑ کے نیچے تین گھنٹے تک پڑھتے پڑھاتے تھے تاکہ جو بچے کوڑا چننے یا بیڑی بنانے کاکا م کرتے ہیں ان کا کام بھی متاثر نہ ہو۔ “

اسی (80) لاکھ آبادی والیمرشدآباد ضلع میں ایسے بچوں اور جوانوں کی تعداد کافی ہے جو یومیہ مزدوری پر کھیتوں میں کام کرتے ہیں یا بیڑی بناتے ہیں۔ یہ ضلع ملک بھر میں سب سے زیادہ بیڑی بنانے والے اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ گرچہ بابر خود اس وقت اسکول میں تھے لیکن اسکول سے چاک کے بچے ہوئے ٹکڑے جمع کرکے وہ ان بچوں کو مفت میں بنگالی زبان میں پڑھنا اور لکھنا سکھاتیاور پھر انہیں بنیادی ریاضی، سائنس اور جغرافیہ کی بھی تعلیم دیتے۔

بابر نے بتایا ” پہلے تو میرے اساتذہ نے خیال کیا کہ میں دیواروں پر کچھ بنانے کے لیے چاک چوری کرتا ہوں لیکن بعد میں جب انہیں پتہ چلا کہ میں اپنے گھر میں بچوں کو پڑھاتاہوں تو مجھے ہر ہفتہ ایک ڈبہ چاک مفت میں دینے لگے۔”

علاقے میں تعلیمی فضا کو ہموار کرنے جیسیکار خیر میں بابر کی ماں بنورہ بی بی اور والد محمد نصیرالدین کا بھی تعاون رہا۔ بنورہ بی بی ایک آنگن واڑی کارکن ہیں اور نصیرالدین جوٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور دونوں نے درمیان ہی میں اپنی اسکولی تعلیم منقطع کردی تھی۔

بابر نے بتایا “جن بچوں کو میں پڑھاتا ہوں انہیں ان کے گھروالوں کی طرف سے بہت کم مدد مل پاتی ہے لہذامیں اپنے گھر والوں اور اپنے اساتذہ کی مدد سے یہ اسکول چلاتا ہوں اور ان بچوں کیلیے ڈریس، کتابوں اور دوسری ضروری چیزوں کا انتظام کرتا ہوں۔”

بابر نے بتایا کہ شروع میں والدین کو ان کے بچوں کو اس اسکول میں بھیجنے کے لیے تیار کرنا مشکل تھا لیکن رفتہ رفتہ لوگوں کا بھروسہ ان پر بڑھاکیوں کہ والدین کو یہ بات محسوس ہونے لگی کہ اس اسکول کی پڑھائی میں بچے کافی دلچسپی لیتے ہیں۔

بابر کے اسکول کے اساتذہ، ضلع کے اہلکار اور علاقے کے آئی اے ایس افسران کی طرف سے کچھ اعانت ملنے سے یہ اسکول چلتا رہااور سال 2005 میں گھر کے پاس ہی ایک عمارت میں منتقل ہوگیا اور مغربی بنگال اسکول ایجوکیشن محکمہ سے اسے ایک پرائیوٹ اسکول کے طور پر منظوری بھی مل گئی۔

بابر نے زور دے کرکہا کہ ان کے اسکول آنند سکشا نکیتن میں مجموعی طور پر سارے مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ طلبہ پر ایک مثبت اثر ہو اور بعد میں کوئی بھی پیشہ اختیار کرسکیں۔

2002 سے لے کر اب تک تقریبا 16سال کی مدت میں بابر 5ہزار سے زائد بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرچکے ہیں۔اس اسکول میں پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور کچھ طلبہ بعد میں واپس آئے اور اب یہاں استاذ ہیں۔

بابر جوکہ اب انگریزی ادب میں کلیانی یونیورسٹی سے ایم کرچکے ہیں نے بتایا کہ ان کے اسکول کی 6سابق طالبات گریجویش کرکے واپس اب اسکول میں پڑھارہی ہیں۔
بابر اس وقت اسی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کر رہے ہیں اور وہ ایک پرعزم صدرمدرس کے طور پر اس ضلع میں جہاں عورتوں کی شرح خواندگی محض 55فیصد ہے میں بہتری لانا چا ہ رہے ہیں۔

بابر نے بتایا کہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا چاہ رہے ہیں اور ان کی کم عمری میں شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن ایسا ایک مسلسل جدوجہد کے بعد ہی ممکن ہوپایا ہے۔ والدین اب تعلیم کی اہمیت کا اداراک کررہے ہیں کیوں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بچے ان کی مدد کرتے ہیں اور کم از کم کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں اور اپنا دستخط کرسکتے ہیں۔”

یہاں اب پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے اور یہ اسکول 500 طلبہ وطالبات، 10 اساتذہ اور ایک غیر تدریسی عملہ پر مشتمل ہے۔

بابر کے مطابق موجودہ عمارت میں صرف 350-400 طلبہ ہی پڑھ سکتے ہیں اور اب مزید کلاس روم اور دیگر چیزوں کی ضرورت ہے۔ بابر اس اسکول کو دسویں جماعت تک کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کو پڑھائی کے لیے دوسرے گاؤں نہ جانا پڑے۔

بابر ایک حوصلہ افزائی کرنے والے مقرر بھی ہیں اور اس وقت ہندو فلسفی سوامی ویویکانند سے متاثر ہوکر ملک کے مختلف مقامات پر لوگوں سے خطاب کرتے ہیں۔ بابر ملک کیمختلف مقامات پر غریب لوگوں کے لیے اس طرح کے دیگر اسکول کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وہ اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں”سب کے لیے تعلیم میری زندگی کا مشن ہے اور اس مشن کی تکمیل کے لیے بہت سارے افراد اور اداروں کو ساتھ آنا ہوگا۔”

بابر کی یہ متاثر کن کہانی اب کرناٹک کے گیارہویں درجہ کی انگریزی کی زبان کی کتاب اور سی بی ایس سی کی دسویں جماعت کی کمیونی کیٹیو انگلش کی کتا ب کا حصہ بھی ہے۔

بابر کا ماننا ہے ” حکومت اکیلے کسی نظام کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ لہذاہم سب کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا اور بنا کسی تفریق کے ملک کے تمام بچوں کے بہتر تعلیم کے لیے کام کرنا ہوگا۔ “

(یہ مضمون آئی اے این ایس اور فرینک اسلام فاؤنڈیش کے اشتراک سے چلائے گئے ایک خصوصی سلسلہ کا حصہ ہے۔ )

Mr. Frank Islam Interview with Prem Das Rai SAM

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *