اے پی سی آر دہلی یونٹ کی جانب سے ٹریننگ ورک شاپ کا انعقاد

admin

نئی دہلی :  سماج میں بنیادی حقوق سے واقف کرانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔آج پورے ملک میں نفرت کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے ۔قانون کے رکھوالے خود لوگوں کو بلا وجہ معاملات میں پھنسانے کا کام کررہے ہیں جس سے عوام عام طور پر اور ملک کی اقلیت خاص طور پر سرکاری استحصال کا شکار ہو رہے ہیں،بنیادی حقوق کی ناواقفیت اس ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ایسی صورت حال میں قانونی امداد پہنچانے والی ملک گیر تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR)نے ملک گیر سطح پر ایک بیداری مہم چلا رہی ہے ۔’ اے پی سی آر کی دہلی یونٹ کی جانب سے ابوالفضل انکلیو مرکز جماعت اسلامی ہند میں حقوق انسانی سے متعلق ایک ٹریننگ ورک شاپ کا انعقاد کیاعمل میں آیا ۔

سپریم کورٹ کے سنےئر ایڈوکیٹ روندرا گاڑیا نے بنیادی حقوق اور سماج پر اس کے اثرات ،بنیادی حقوق کیا ہیں ،اور کس طرح اس کی مدد سے سرکاری استحصال سے بچاجا سکتا ہے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق کی اپیل اس وقت صرف اونچی عدالتوں میں ہی کی جاسکتی ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی سنوائی نچلی عدالتوں میں بھی ہو،لیکن اس کے لئے ایک ملک گیر تحریک چلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ بنیادی حقوق کو پامال کرنے والوں اور ان ایجنسیوں کو سزا دی جاسکے ۔آج کی تاریخ میں یہ ممکن نہیں ہورہا ہے ۔
مشہور سماجی کارکن اور وکیل روی نائر نے ڈاکومنٹس کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا اور مثالوں سے بتایا کہ پروف ڈاکومنٹس نہ ہونے اور صرف پولیس پر بھروسے کرنے کی وجہ سے ہی اکثر کیس متاثرہ کے خلاف چلا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اخلاق کے گھر والے پر ہی مقدمہ چل جاتا ہے اور مجرم بچ نکلتا ہے۔

صحافی و RTIایکٹی وسٹ افروز عالم نے پاور پوائنٹس پرزینٹیشن کے ذریعے RTIکی اہمیت ،ضرورت اور اس کے ذریعہ جانکاری حاصل کرنے کے طریقے بتائے ۔
تیس ہزاری کورٹ کے سنےئر ایڈوکیٹ جے ایچ جعفری نے ملزم کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ کس طرح کے معاملوں میں پولیس بغیر وارنٹ کے ملزم کو گرفتار کرسکتی ہے اور اس حالت میں ملزم کو کیا کرنا چاہئے ۔
FIRکیسے درج کرایا جائے ،پولیس FIRدرج نہ کریں تو کیا کیا جائے ۔اس کے ضروری اجزا کیا ہیں اور کن باتوں پر خاص طور پر دھیان دینا چاہئے اس پر ایڈوکیٹ ایس ایم ہاشمی نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔
ایڈوکیٹ شاہد انور نے کہا کہ رنگا ناتھ کمیشن کی رپورٹ اب تک پیش کی گئی ہے جبکہ اس پر کافی گفتگو ہوئی ہے ۔اس کے علاوہ مساوی مواقع کمیشن اب تک قائم نہیں ہو پائی ہے ۔
ہائی کورٹ کے وکیل جاوید نے متاثرہ کے حقوق پر گفتگو کی ۔
آخر میں پروفیسر افضل وانی نے کہا کہ قانون ایسا ہو جس سے معاشرے میں امن قائم ہو سکے ،قانون طاقتور لوگوں کیلئے ہتھیار کی شکل اختیار نہ کرے لیکن افسوس کہ آج قانون طاقتور لوگوں کا ہتھیار بنتا جارہا ہے ۔جس سے سماج میں مزید استحصال بڑھ گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون آپ کے اندر ہے آپ قانون کے مطابق اپنے آپ کو معاشرہ میں پیش کر سکتے ہیں ۔ہر انسان پیدائشی طور پر وکیل ہوتا ہے اس کے اندر قوت دفاع موجود ہے اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند دہلی وہریانہ ماسٹر عبدالوحید نے اسلام میں حقوق انسانی سے متعلق موضوع پر کہا کہ معاشرے میں پھیلی برائیاں نا انصافی کی وجہ سے ہیں ہمیں ایسی لعنت کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اور دوسروں کے حقوق کا ادراک ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *