نئی ایف ڈی آئی پالیسی , ایک ناگزیر ضرورت

ارشد غیاث الدین

Asia Times Desk

گلوبلائزیشن کی آمد کے بعد کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دے اور کوشش کرے کہ اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخیرے میں اضافے کی کوشش کرے۔ اس ضرورت کی کئی وجوہ ہیں

معیشت میں تیز رفتاری لانے کے لیے ملکی سرمایہ کاری ناکافی ہوتی ہے، جب کہ غیر ملکی سرمایہ اس خلا کو پُر کرنے میں معاون ہوتاہے۔

ہر ملک کی کچھ درآمد ی ضروریات ہوتی ہیں،جس کو ادا کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے سے پورا کیا جاسکتاہے۔

ایف ڈی آئی کے ذریعہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے ساتھ اعلیٰ معیار کی ٹکنالوجی ، فنی مہارت اور انتظامیہ کے نئے طور طریقے لاتی ہیں۔

پچھلے کچھ دنوں میں حکومت ہند کی نئی ایف ڈی آئی  پالیسی سرخیوں میں رہی۔ کابینہ نے اپنے اجلاس میں یہ طے کیا کہ اب سنگل برانڈ ریٹیل میں صد فیصد ایف ڈی آئی  کی اجازت ہوگی۔ البتہ ان غیر ملکی کمپنیوں کو تیس فیصد مال ہندوستان سے خریدنا ہوگا۔

کیا نئی ایف ڈی آئی  پالیسی ملک کے صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگی؟کیا اس پالیسی کا چھوٹے کاروباریوں پر منفی اثر پڑے گا؟ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پالیسی سے سنگل برانڈ ریٹیل ٹریڈنگ میں غیر ملکی کمپنیاں  49 فیصد  کی حصہ دار بن سکتی ہیں اور سرکاری اجازت کے ساتھ صدفیصد حصہ داری حاصل کرسکتی ہیں۔

سنگل برانڈ ریٹیل اس تجارت کو کہتے ہیں جس میں اشیاء براہ راست صارف کو بیچی جاتی ہیں۔ اس مال کوکسی دوسری صنعت یا کاروبار میں فروخت نہیں کیا جاسکتا۔صارف کو بیچنا صرف ایک ہی برانڈ کے نام سے ہوگا۔مثلاً جوتوں کا برانڈ NIKE یا مشہور فرنیچر برانڈ IKEA ۔

ملٹی برانڈ ریٹیل اس تجارت کو کہتے ہیں جس میں اشیاء سیدھے صارف کو بیچی جاتی ہیں،مگر ان کے پاس کئی کمپنیوں کا مال ہوتا ہے۔ جیسے امریک کی مشہور کمپنی سوپر مارکیٹ والمارٹ

نئی ایف ڈی آئی  پالیسی سے ملک کے بازار میں درج ذیل تبدیلیاں آسکتی ہیں

منڈی میںصارفین کے لیے مختلف انواع واقسام کی اشیاء دستیاب ہوں گی۔

ملک کے لوکل برانڈ کو بازار میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے قیمتوں  میں کمی بھی آئے گی،جس سے صارفین کو فائدہ ہوگا۔

اعلیٰ ٹکنالوجی اور انتظامیہ کے نئے انداز سے مقامی کمپنیوں کوبھی اپنا معیار بلند کرنا پڑے گا، جس سے مجموعی طور پر اشیاء کی کوالٹی اچھی ہوجائے گی۔

سنگل برانڈ ریٹیل میں غیر ملکی کمپنی کو 30فیصد سامان ہندوستانی کمپنیوں سے خریدنا ہوگا،جس سے ملک کی معیشت کو فروغ ملے گا اور ملازمت کے مواقع بڑھیں گے۔

بین الاقوامی تجارتی دنیا میں ایک ’معیار ‘رائج ہے، جسے تجارت کرنے کی آسانیاں کہتے ہیں۔ اس سال ہندوستان نے اس معیار میں30 درجوں کی ترقی حاصل کی ہے۔ جب کہ 2017 میں اس معیار میں اول درجہ نیوزی لینڈ کوحاصل رہاتھا اور درجہ بندی میں ہندوستان کا نمبر 100 تھا۔ اس نئی ایف ڈی آئی  پالیسی سے امید ہے کہ اگلے سال ہندوستان کو اس معیار میں اور بھی بہتری حاصل ہوگی۔

اسے بھی دیکھیں 

یہاں ایک سوال یہ ذہن میں پیدا ہوتاہے کہ غیر ملکی کمپنیاں آخر ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اتنی بے قرار کیوں ہیں؟ظاہر ہے کہ تجارتی لحاظ سے چین کے بعد ہندوستان دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اپنے ممالک کی معیشت میں مندی پائی جاتی ہے اور انھیں اپنے مال کو فروخت کرنے کے لیے نئے بازار تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ پھراس کی کیاگارنٹی ہے کہ ایف ڈی آئی  سے مقامی کمپنیوں اورچھوٹے کاروباریوں کی تجارت پر منفی اثر نہیں پڑے گا؟ ۔اس پر دو انداز سے غور کیا جاسکتا ہے:

ایک تو یہ کہ تجارت کی دنیا میں پوری آزادی ہونی چاہیے  ، جس کا سیدھا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو صنعت یا تجارت مضبوط ہوگی اوراعلیٰ ٹکنالوجی اور معیاری انتظامیہ کے اصول کو اختیار کرے گی، اسی کا بازاری میں بول بالا رہے گا اور کمزور صنعتیں اور تجارتیں رفتہ رفتہ خود بخودختم ہوتی چلی جائیں گی۔یہ عمل ڈارون کی تھیوری سروائول آف فیٹیسٹ  سے مطابقت رکھتا ہے۔

دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہر ملک کو بیرونی ممالک سے ان اشیاء کو برآمد کرنا چاہیے جو وہ اپنے ملک میں نہیں بنا سکتا، یا اس کی فنی مہارت اس کے پاس نہ ہو۔ مثلاً آٹو انجن،  کمپیوٹر چپ وغیرہ کوئی ملک جو اشیاء بآسانی اپنے یہاں بنا سکتا ہے ،انھیں برآمد کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے نئی ایف ڈی آئی پالیسی کے تحت ریٹیل میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد سے مقامی تجارت کمزور پڑ ے گی  اور ان کے مارکیٹ شیئر زبھی کم ہوتے جائیں گے۔

موجودہ بی جے پی حکومت جب اقتدار میں نہیں تھی تو اس نے اس بل کی جم کر مخالفت کی تھی، مگر اب حکومت میں آنے کے بعد غیرملکی کمپنیوں کے دباؤ کی وجہ سے اسی ایف ڈی آئی  پالیسی کو اختیار کررہی ہے، جس سے اس کو اصولی اختلاف تھا۔

ہمارے وزیر اعظم اپنی سربراہی میں اس سال سو سے زائد لوگوں پر مشتمل ایک وفدکے ساتھ  داوس میں ورلڈاکونومک فورم میں شرکت کرنے والے ہیں۔ وہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ سے متوقع ہے۔ داوس میں ایف ڈی آئی کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان کو بین الاقوامی برادری سے کافی ستائش کی امید ہے۔

غرض کہ گلوبلائزیشن، پرائٹائزیشن اور لبرلائزیشن ایک مسلم حقیقت بن چکی ہیں۔ ہندوستان اس وقت دنیاکی تیسری بڑی معیشت ہے۔ اسے اپنی معیشت کو مزیدبڑھانے اور مضبوط کرنے کے لیے اپنا سکہ بیرونی تجارتی بازاروںمیں منواناہوگا۔ لیکن جب کوئی ملک یہ چاہتا ہے کہ وہ ایکسپورٹ مارکیٹ میں ترقی کرے اور بیرونی منڈی میں زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئرز حاصل کرے تو اسے جوابی عمل کے طور پر اپنی معیشت اور بازار کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کھولنا ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں اپنے آپ کو مضبوط کریں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے لوہا لینے کے لیے تیار ہوجائیں۔ فلپ کارٹ اور اسنیپ ڈیل  جیسی ہندوستانی کمپنیوں نے امیزان اور ای بے  کو مارکیٹ میں کافی اچھی ٹکر دی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی ایف ڈی آئی  پالیسی کو روبہ عمل لانے سے مقامی تجارتیں اور صنعتیں کیا یہ ثابت کر پائیں گی کہ ’’ہم کسی

سے کم نہیں‘‘۔

مضمون نگار جماعت اسلامی ہند کے میڈیا انچارج ہیں

bismillah@gmail.com

بہ شکریہ : روزنامہ انقلاب اردو

نوٹ : یہ مضمون  نگار کے اپنے خیالات اس سے ایشیا ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *