کیا بٹ کوا ئن کی چمک اب ماند پڑنے لگی ہے؟

ارشد غیاث الدین

Asia Times Desk

رواں سال 2018-19 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ملک کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کرپٹو کرنسی بٹ کوا ئن کے بارے میں کہا کہ ”حکومت کرپٹو کرنسی کو سکہ رائج الوقت (لیگل ٹینڈر) نہیںمانتی اور اسے رقم کی ادائیگی میں استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔“ اس وقت ہندوستان میں بٹ کوئن کے 24 ایکسچینجز ہیں ، جن میں اوسطاً 1500 سو بٹ کوئن ہاتھ بدلتے ہیں۔ 50لاکھ ممبران والے ان ایکسچینجز میں روزانہ تقریباً 100 کروڑ روپیوں کی تجارت روزانہ ہوا کرتی ہے۔ ملک کا مرکزی بینک آ ر بی آئی بٹ کوئن کے استعمال کے خلاف اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ وارنگ دے چکا ہے، مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بٹ کوئن کی شہرت اور کاروبار روزبہ روز بڑھتا رہا۔ اب وزیر خزانہ کے اتنے واضح بیان کے بعدبٹ کوئن مستقبل ملک میں کافی تاریک محسوس ہورہا ہے اور اس کے ذریعہ کاروبار کرناایک طرح سے غیر قانونی ہوگیا ہے۔

آخر یہ بٹ کوئن یا کرپٹو کرنسی کس چیز کا نام ہے؟ یہ کس قسم کا پیسہ ہے؟

 ہندوستان جیسی بڑی معیشت اس بٹ کوئن سے کیوں خوف زدہ ہے؟ اور اس کے کاروبار پر کیوںپابندی لگارہی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بٹ کوئن کی قیمت ا?ج سے سات آٹھ سال پہلے چند روپے تھی، مگر ا?ج اس کی قیمت کئی لاکھ روپے ہے۔ کہا جاتاہے کہ ایک صاحب نے اپنا کمپیوٹر ہارڈسک باہر

 پھینک دیا، جس میں سات ہزار پانچ سوبٹ کوئن تھے۔ اگر وہ اسے سنبھال کر رکھتے تو آج انھیں ان بٹ کوئن کے ساڑھے چار سو کروڑ روپے ملتے۔ بٹ کوئن در اصل ڈیجیٹل کرنسی کی ایک قسم ہے۔ دوسرے ڈیجیٹل سکے بھی بازار میں پائے جاتے ہیں۔ خود ہندوستان میں ریلائنس کمپنی اپنا جیو کوائن نکالنے کی خواہش مند ہے اور حکومت ہند بھی ”لکشمی کوئن“ کے نام سے اپنا ڈیجیٹل سکہ نکالنا چاہتی ہے۔ بٹ کوئن کے علاوہ تمام کرپٹو کرنسی کی قسموں کو کوائن آلٹ کہاجاتاہے۔ کرپٹو کرنسی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک غیر مرکزی پھیلے ہوئے کمپیوٹر نیٹ ورک پر چلتی ہے اور اس پر کسی بھی مرکزی بینک یا انتظامیہ کا اختیار یا کنٹرول نہیں ہوتا۔ بٹ کوئن کے ذریعہ ا?پ دنیا میں کسی بھی شخص کو انٹر نیٹ کے ذریعہ پیسے منتقل کرسکتے ہیں اور اس لین دین کو ا?پ کسی بھی بینک یا درمیانی ادارے کی مداخلت کے بغیر پورا کرسکتے ہیں۔ بٹ کوئن کے پیچھے جو ٹیکنالوجی کارفرما ہے اسے بلیک چین کہتے ہیں۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہیکنگ کے خطرے سے بالکل محفوظ ہے اور ہر لین دین کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہ تصور کیجیے کہ دنیا میں ایک بڑی عالم گیر سطح کی حساب کتاب رکھنے والی

 کتاب ہے۔ عرف عام میں لیجر کو ’بہی کھاتا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عالم گیربہی کھاتا بٹ کوئن کے ہر لین دین کا حساب اور ریکارڈ رکھتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس کے پاس کتنے بٹ کوئن ہیں۔ یہ عالم گیر لیجر ایک غیر مرکزی پھیلے ہوئے کمپیوٹر نیٹ ورک پر رہنے سے ہر بٹ کوئن کے سودے کو دیگر سینکڑوں اور ہزاروں کمپیوٹر بیک وقت ریکارڈ کرلیتے ہیں اور اس طرح اس سودے کا گم ہوجانے یا مٹ جانے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ اس طرح ہر بٹ کوئن سودا صدفیصد محفوظ اور مستند بن جاتاہے۔ بٹ کوئن اور بلیک چین ٹیکنالوجی 2009 میںمنظر عام پر آئی تھی ، جسے ایک دانشورنے ’ساتوشی ناکاموتو‘ کے تخلص سے انٹرنیٹ پر پیش کیا۔ ناکاموتو کی حقیقی شناخت آج بھی نہیں ہوسکی ہے، مگر انھوں نے اپنے کام کی باگ ڈور بٹ کوئن کے سائنس داں گیون انڈرسن کو سونپ دی۔

 بٹ کوئن حاصل کرنے کے طریقے

 آپ اسے بٹ کوئن ایکسچینجز سے خرید سکتے ہیںیا اپنے کمپیوٹر کے ذریعہ بنا بھی سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کی تخلیق کے عمل کو مائننگ کہا جاتاہے۔ پہلے یہ گھر کے کمپیوٹر سے ممکن ہوا کرتاتھا، مگر آج کل اسے صرف ایک خاص قسم کے تیز رفتار کمپیوٹر ہی بناسکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا بٹ کوئن کے خلاف یہ بھی الزام ہے کہ اس وقت بٹ کوئن بنانے میں دنیا کے کئی بڑے کمپیوٹر چوبیس گھنٹے لگے ہوئے ہیں جو بہت زیادہ مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں ، جس سے ماحولیات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ آپ بٹ کوئن کو محفوظ ڈیجیٹل والیٹ میں سنبھال کر رکھ سکتے ہیں اور وہاں سے اسے فروخت کرسکتے ہیں۔ والیٹ دو سطح پر کام کرتاہے: ایک پرسنل پاس ورڈ کی مدد سے اور دوسرے پبلک پاس ورڈ کی مدد سے۔ اگر آپ نے اپنا ذاتی پاس ورڈ کسی کو دیا یا شیئر کیا تو وہ شخص آپ کے بٹ کوئن چرا سکتاہے۔ البتہ آپ کا پبلک پاس ورڈ بینک کے اکاونٹ نمبر کی طرح ہوتا ہے، جسے آپ حسب ِ ضرورت لوگوں کو بتا سکتے ہیں۔ آج تک بٹ کوئن کے کسی لین دین کو ہیک نہیں کیا جاسکا، البتہ بٹ کوئن ایکسچینجز پر کئی مرتبہ حملے ہوچکے ہیں اور انھیں کئی بار لوٹا جاچکا ہے۔ جب تک آپ اپنے ڈیجیٹل والیٹ کا پاس ورڈ کسی اور کو نہیں بتاتے اس وقت تک آپ کے بٹ کوئن محفوظ ہیں اور انھیں کوئی نہیں چراسکتا۔بٹ کوئن سے تجارت کیسے کی جاتی ہے؟ اور معیشت میں اس کا کیا کردار ہے؟ یہ جاننا ضروری ہے۔ کسی بھی شءکی قیمت فراہمی اور مانگ کے اصول سے طے ہوتی ہے۔ لہٰذا بٹ کوئن کی بازار میں زبردست مانگ نے اس کی قیمت کو بہت بڑھا دیا ہے۔ بٹ کوئن کا سب سے زیادہ استعمال رقم کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے میںکیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ کسی بھی بینک کی نگرانی سے آپ بچ جاتے ہیں اور اس لین دین پر کوئی کمیشن بھی ادا کرنے کی ضرورت پیش نہیں ا?تی۔ بٹ کوئن کی حیثیت ایک قیمتی شءکی طرح ہوگئی ہے ، جسے لوگ خریدتے اور بیچتے ہیں اور منافع کماتے ہیں۔ موجودہ سکہ رائج الوقت کے عوض بٹ کوئن کے استعمال نے مرکزی بینکوں اور حکومتوں کی نینداڑا دی ہے۔ یہ ایک مکمل اور متوازی معیشت کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بلیک چین ٹیکنالوجی کے کچھ انوکھے اور جدید فائدے بھی ہیں

 امریکہ کے سب سے بڑے خلائی ادارے ناسا نے بلیک چین کے ذریعہ اپنے سیٹلائٹس کو خلا میں بکھرے ہوئے ملبے کے ٹکڑوں سے بچنے کے لیے استعمال کا اعلان کیا ہے۔ آٹی کمپنیوں کے لیے ڈاٹا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بلیک چین ٹیکنالوجی کا استعمال مفید ہوسکتا ہے۔ ہندوستا ن نے فی الحال بٹ کوئن کے لیے نو انٹری کا بورڈ لگایا ہے، مگر اس تیزی سے پنپتے ہوئے ٹیکنالوجی اور کاروبار کے نئے طریقے کو کب تک روکا جاسکتا ہے،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس وقت پیسوں کے کاروبار میں بٹ کوئن کا سیل رواں سونامی کی طرح پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ ایک بات تو ضرور ہے کہ بٹ کوئن کو کوئی بھی حکومت ہمیشہ کے لیے نظر انداز نہیں کرسکتی۔ بٹ کوئن کی چمک اس وقت یقینا ضرور کچھ ماند پڑی ہے ،مگر معیشت کی دنیا کا کھلتا پھول اتنی جلدی مرجھانے والا نہیں ہے۔

مضمون نگار جماعت اسلامی ہند کے میڈیا انچارج ہیں

بہ شکریہ روزنامہ انقلاب نئی دہلی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *