ہندوستان کی سب سے کم عمرلڑکی کی ایورسٹ پہاڑ کی چوٹی سرکرنے کی کہانی

admin

رواں سال 15 مئی کو ہریانہ کی 16سالہ شیوانگی پاٹھک  نامی  ایک نوعمر لڑکی نےنیپال کی طرف سے ایوریسٹ پہاڑ پر چڑھنے کے اس مشکل کام کا آغاز کیا لیکن اس دوران ریڈیو ٹرانسیور چھوٹ جانے کی وجہ سے کسی کو خبر نہیں تھی کی وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔

اس سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہوپارہا تھا اور لوگوں نے قیاس کرنا شروع کردیا تھا کہ شاید شیوانگی پاٹھک  دنیا کے  سب سے مشکل پہاڑی علاقوں میں اپنی جان کھوچکی ہے۔

دس گھنٹہ کے بعد پہاڑ سے ایک شاندار خبر آئی اور اس کےبعد اس کے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ شیوانگی پاٹھک  ہمالیہ کی چوٹی کو سرکرنےوالی سب سے کم عمر ہندوستانی لڑکی  بن چکی ہے۔

شیوانگی پاٹھک   کی والدہ آرتی پاٹھک نے بتایا کہ “ہم اس کی حفاظت کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ہمارے خاندان کے سارے لوگ گھنٹوں بغیر کھائے پیئے اس کی حفاظت کے لئے دعا کررہے تھے۔”

شیوانگی پاٹھک  کی ماں نے یہ خبر سن کر کہاکہ” یقینایہ ایک بڑی اور طویل آزمائش تھی اور اس کے بعد ہمیں خبر ملی کہ ہماری بیٹی نہ صرف خیریت سے ہے بلکہ  اس نے ہمالیہ کی چوٹی بھی سر کر لی ہے۔اس خبر کوسن کر ہونے والی خوشی کا ذکر الفاظ میں کرنا ناممکن ہے۔ہمیں اس پر فخر ہے کہ اس نے جس کام کا تہیہ کیا تھا اسے حاصل کرلیا۔”

اب پورے ملک میں ایک شخصیت کے طور پر جانے  جانے والی اس لڑکی کی اس عظیم کامیابی  کے سفرکاآٖغاز اس کی ماں اور اس کے درمیان ہنسی مذاق سے شروع ہوا۔

ماں آرتی پاٹھک نے کہا کہ”ایورسٹ کی چوٹی پر جانے والی ممتا سودھا نامی ایک لڑکی کو  سپرٹنڈنٹ آف پولیس بنائے جانے کی خبر پڑھنے کے بعد میں نے شیوانگی پاٹھک  سے مذاق میں کہا کہ کچھ اسی طرح بڑا کرو تب کچھ ایسی ہی اچھی نوکری ملے گی۔”

 اس کے بعد شیوانگی پاٹھک  نے  ارونیما سنہا نامی لڑکی کی ویڈیو دیکھی جس نے پورے ملک میں ایک پیر سے معذور لوگوں میں سب سے پہلے ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی۔اس سے متاثر ہوکر شیوانگی پاٹھک  نے نومبر 2016 کو ایورسٹ پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اس چیلنج کو حاصل کرنے کے لئے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک تیاری کی۔

اشتہار

اس کی ٹرینر نے اسے سب سے پہلے اس کے فیشنی بالوں پر تنقید کی ۔شیوانگی پاٹھک  نے بتایا کہ” انہوں  نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں گراؤنڈ میں فیشن کے لئے آئی ہوں ۔ میں موٹی تھی اور میرے لمبے بال تھے۔ “

شیوانگی پاٹھک  کو یہ سن کر تکلیف ہوئی اور اس نے سوچا کہ  شاید وہ کچھ زیادہ ہی بڑا خواب دیکھ رہی ہے۔

یہ چیلنج گرچہ بڑا  تھا لیکن مسلسل لگن اور سخت محنت نے اس کو حقیقت میں تبدیل کردیا ۔ اس نے اپنے بالوں کو چھوٹا کروالیا۔ جب اس نے ایورسٹ پر چڑھنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس کا وزن 65 کلو گرام تھا لیکن دو سال کے بعد اب اس کا وزن گھٹ کر 48 کلو گرام ہوگیا ۔

شیوانگی پاٹھک  نے کہا، “میں نے خود کو اس کھیل کے  مطابق ڈھالنا شروع کردیا ۔ اپنے بالوں کو کافی چھوٹا کرلیااور رنکو پاننو نامی ٹرینر کے زیر نگرانی اپنی تربیت شروع کردی ۔وہ میری استاذ ہیں جنہوں نے مجھ میں اس کام کو کرنے کا حوصلہ پیدا کیا، میں ان کی بہت مشکور ہوں”۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ میرے چھوٹے بال تھے   اور دوسری لڑکیوں نے میرے بارے میں یہ سوچنا شروع کردیا کہ میں لڑکا  ہوں۔

تربیت کا دورانیہ روزانہ چھ سے سات گھنٹے کا ہوتا تھا ۔ شیوانگی پاٹھک  نے اسکول چھوڑ دیا اور پورا وقت ایورسٹ پر چڑھنے کی تیاری میں لگادیا۔

ٹریننگ میں دس کلو میٹر دوڑنا ، وزن اٹھانا، رسی کودنا شامل  تھا ۔ اس کے ساتھ ہی 20 کلو گرام وزن اٹھا کر چلنے کی تربیت بھی اس نے حاصل کی۔

اس کی 27 سالہ ٹرینر کا کہنا ہے کہ وہ ٹخنوں پر وزن باندھ کر چلتی تھی اور جب تھک جاتی تھی تو اسے کلائیوں پر باندھ لیتی تھی۔

انہیں دنوں ایک بار وہ ساڑھے گیارہ بجے رات میں اچانک اٹھ گئی جیسے کہ اسے ابھی 200 مرتبہ رسی کودنی ہے۔

شیوانگی پاٹھک  نے بتایا کہ” میں نے اس روز اپنے ٹرینر سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں پانچ ہزار مرتبہ اسے کروں گی لیکن میں ایسا نہیں کرسکی ۔ اس لئے میں آدھی رات میں میں اٹھ گئی تاکہ اس کو پورا کرلوں”۔

اس کی استاذ نے اس کی لگن کی تعریف کی۔

یکم اپریل کو وہ نیپال پہنچ گئی اور 5اپریل کو وہ اس کیمپ میں پہنچی جہاں سے اسے اپنے مشن کا آغاز کرنا تھا ۔ اس  کے بعد وہاں کے موسم اور آب وہوا کے لحاظ سےخود کوعادی بنانے میں دو ہفتےمزید لگ گئے۔

بلآخر دس مئی کو اس نے اپنے “ایوریسٹ مشن” کا آغاز کیا۔

شیوانگی پاٹھک  نے بتایا کہ راستہ کی مشکلات سے نبردآزما ہونے کے لئے اسے ہمہ وقت خود کو ترغیب دینا پڑتا تھا  “راستہ چھوٹے بڑے پتھروں سے بھرا ہوا  اور نہایت ہی پھسلن والا تھا۔ کافی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چوٹی پر پہچنےسے ایک روز پہلےطوفان بھی آیا۔  “

” راستے کے برف بہت سخت تھےاس پر سے گذرتے وقت وہ ٹوٹتے تونہیں تھے لیکن اس پرسے ہم پھسل جاتے تھے۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ موسم کی وجہ سے میں بیمار پڑگئی لیکن اپنی منزل تک پہنچے بغیر میں پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔”

اس سفر میں شیوانگی پاٹھک  کی رہنمائی کے لئے ایک نیپالی رہنما “انگ تمبا شرپا ” بھی تھے۔

شیوانگی پاٹھک  نے بتایا کہ” میرے گائیڈ میرے سفر میں گویا خدا کی طرح تھے، انہوں نے میرے ساتھ ایک چھوٹی بہن کی طرح سلوک کیا اور مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں اپنے خاندان کے درمیان نہیں ہوں۔ہر پریشانی اور آسانی میں وہ میرے ساتھ کھڑے نظر آئے۔”

15 مئی کو صبح تقریبا ساڑھے آٹھ بجے وہ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئی ۔ شیوانگی پاٹھک  نے بتایا کہ” اس وقت ایک ہی شخصیت جو میرے ذہن میں تھی وہ میری ماں تھی۔  اس وقت دل یہی چاہ رہا تھا کہ ماں سے لپٹ پڑوں ۔ میں بہت خوش تھی کہ میں نے اپنی ماں کا سر فخر سے اونچا کردیا۔”

ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر قومی ترنگے کو اٹھانا شیوانگی پاٹھک  کے لئے ایک عظیم احساس تھا۔ اس نے کہا کہ “یہ میرے لیےایک فخر کا موقع تھا ۔ یہ کامیابی ہریانہ اور ملک کی بہت ساری لڑکیوں کے حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی۔ “

شیوانگی پاٹھک  کا ماننا ہے کہ ” لڑکیاں بہت کچھ کرسکتی ہیں، وہ ہر جگہ جاسکتی ہیں۔ انہیں صرف اپنی ذہن سازی کی ضرورت ہے اور یقین کے ساتھ ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن ہونا ہے۔ “

اس نے لڑکیوں کے والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ لڑکیوں کو ان کے مقاصد کے حصول میں  حوصلہ افزائی اور حمایت کریں اور کبھی بھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ لڑکوں سے کمتر ہیں۔

اشتہار

شیوانگی پاٹھک  نے  کہاکہ “میرے والدین میرے سب سے بڑے حامی تھے اور یہ میں یہ جانتی ہوں کہ ایک لڑکی کے لئے اس کے والدین کا اس کے ہر فیصلہ پر ساتھ دینا  کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ “

شیوانگی پاٹھک  کا اگلا ہدف اٹھارہ سال کی ہونے  سے پہلے بقیہ بر اعظموں کی بلندیوں کو چھونا ہے۔  اس نے کہا کہ اٹھارہ سال سے پہلے سات چوٹیوں تک پہنچنا ہے۔

اس کی کوچ پوننے کا کہنا ہے کہ اب یہ ہدف شیوانگی پاٹھک  کے لئے بہت ہی آسان ہوگا۔ کیوں کہ وہ دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر چڑھ چکی ہے دوسرے چھ بر اعظموں کی چوٹیوں پر چڑھنے کے لئے اسے زیادہ دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔

پننو نے کہا کہ”شیوانگی پاٹھک  ایک لگن والی لڑکی ہے ، اس نے بہت ساری قربانیاں دیں۔ اس نے سفرکی مشکلات جھیلیں، اپنی پسند کا کھانا چھوڑا ، اپنا وزن کم کیا اور خود کو جسمانی طور پر فٹ کیا  لیکن کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ مجھے اس پر اعتماد ہے کہ وہ اس ہدف کو بھی حاصل کرسکتی ہے ۔”

(یہ مضمون آئی این ایس اور فرینک  اسلام فاؤنڈیشن کےاشتراک سےچلائےگئےایک خصوصی سلسلہ کاحصہ ہے   )

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *