سیریا کے مظلوم بھائیوں کی حمایت میں

محمد اسعد فلاحی

Asia Times Desk

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پوری امت مسلمہ اس وقت آزمائشوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بالخصوص شام میں تباہی و بربادی کا منظر نامہ جو کہ سوشل میڈیا پر فوٹوز ویڈیوز کی شکل میں دیکھنے کو مل رہا ہے، انھیں دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، دل پریشان ہے، جسم پر ایک بیچینی کی سے کیفیت طاری ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ تمام اسلامی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور شام کے مظلوموں کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے اگر اس کے ایک حصہ کوتکلیف پہنچتی ہے تو اس کے تمام اعضاء بے چین ہو اُٹھتے ہیں۔(احمد)

یہ حدیث مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے قربت کا احساس دلارہی ہیں اور بتارہی ہیں کہ ایک مسلم کے درد میں تمام مسلمان شریک ہوتے ہیں اور وہ اس کے درد کو محسوس کرتے ہیں، خواہ وہ مسلم دنیا کے کسی گوشے میں ہو کیونکہ وہ ایک ہی جسم کے حصے ہیں چاہے وہ کسی بھی وطن سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی زبان کے بولنے والے ہوں یا کسی بھی نسل سے ان کا تعلق ہو۔

درج بالا حدیث پوری دنیا میں رہنے اور بسنے والے مسلمانوں کو دعوت غور و فکر دیتی ہیں۔ تمام مسلمانوں کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا واقعی شام کے دل دہلانے والے مناظر پر وہ تکلیف اور بے چینی محسوس کر رہے ہیں؟ کیا وہ سیریا کے مظلوم بھائیوں کی تکالیف اور آہوں پر اپنے دلوں میں تکلیف محسوس کر رہے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے ایمان کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سے جب یہ سوال پوچھے گا کہ تم نے اپنے مظلوم شامی بھائیوں کے لیے کیا کیا تھا؟ تو اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟ اس لیے ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی ہمدردری جتائے۔ ان کے لیے دعائیں کرے، ان کے حق میں مختلف طریقوں سے آواز اٹھائے، ظالموں کو متنبہ کرے۔ غرض جو بھی اس کے دائرۂ کار میں آتا ہو وہ کر گزرے، ورنہ کل خدا کے یہاں جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔

ملک شام میں پچھلے کئی سالوں سے موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ خبر ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں بوڑے بچے جوان، خواتین شہید ہو چکے ہیں۔ شام میںہر جگہ ظلم ہی ظلم ہے۔ کھانے کی قلت ہے، بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔ لیکن کوئی ان کے پوچھنے والا نہیں ہے۔ اور اس بھیانک صورت حال پر اقوام ِ متحدہ بھی اور دنیا میں امن کا ایوارڈ پانے والوں بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاسبان حرم جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی امامت کا دم بھرتے ہیں وہ بھی بالکل خاموش ہیں۔

آج سیریا ایمبیسی پر انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے کچھ لوگ جمع ہوئے اور انھوں نے سیریا میں ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی. اللہ تعالٰی ہم تمام لوگوں کو انسانیت کے حق میں آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

خدا وند قدوس سے دعا ہے کہ پورے عالم میں مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *