پہلے سبق سکھانے کی دھمکی اور اب ملاقات کی خواہش

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جب سےعالمی منظر نامے پر نمودار ہوئے ہیں اپنے غیر متوازن بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ متنازعہ بیانات ہی ان کی پہچان ہیں ان کی پوری انتخابی مہم اسی رخ پر ہوئی ، اپنے پیش رو براک اوباما سے وہ کافی متنفر رہے ۔ الیکشن جیتنے کے لیے انہوں نے ہر ہتھکنڈہ اپنا یا ۔ میکسکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کا معاملہ ہو ،شمالی کوریا کو سبق سکھانے کی دھمکی ہو یا پھر ایران کے خلاف بیان بازی انہوں نے مخالفت میں نہ صرف اخلاقیات کی ساری حدیں پار کر دیں بلکہ فوری طور کا روائی بھی شروع کردی ۔ اقتدار میں انے کے بعد  میکسکو کی سرحدیں سیل کرنے کا عمل شروع کیا ،

مئی 2018 میں  ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیا، لیکن شاید اب انہیں یہ  احساس ہوچلا ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے الیکشن میں بیان بازی اور چیز ہے اور اقتدار حاصل کر لینے کے بعد کی صورت حال میں کام کرنا دو الگ الگ مرحلے ہیں ۔ شاید اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے سب سے پہلے  شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کا اعلان کر دیا اس خبر نے دنیا کو متحیر کر دیا ملاقات کے لیے زمین کی تیاری شروع ہوئی دونوں سربراہان نے سنگاپور میں ملنے پر اتفاق کیا دنیا بھر کی نگاہیں اس ملاقات پرتھیں ، مشترکہ بیانات جاری ہوئے اور دنیا نے راحت کی سانس لی کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین جاری لفظی جنگ جو عنقریب اسلحوں کی جنگ میں تبدیل ہونے ہی والی تھی اب موخر ہوگئی ہے ۔ حالانکہ بعد کے دنوں میں دونوں جانب سے ایسے بیانات بھی آئے ہیں جو دونوں کو اکسانے والے تھے ،

لیکن ابھی تک تو حالات قابو میں ہیں ۔شمالی کوریا سے ملاقات کے بعد اب  ٹرمپ نے ایک اور حیرت انگیز خواہش کا اظہار کیا ہے انہوں نے بلا شرط اب ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ 31 جولائی کو دیے گئے اپنے حالیہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ” میں ملاقات کرنے میں یقین رکھتا ہوں ،اس کے لیے کسی کے ساتھ بھی بات چیت کے لیے تیار ہوں ،اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو ہم ملیں گے خاص طور سے ان ایشوز پر جن کی وجہ سے جنگ کا خطرہ بنا ہوا ہے “۔ ان کا یہ بیان وہائٹ ہاوس میں  اٹلی کے وزیراعظم کے ساتھ جاری مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں آیا ہے ۔ جبکہ ابھی چند روزقبل ہی امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی جس کے بعد ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل سلیمانی نے کہا تھا کہ اگرامریکہ جنگ شروع کرے تواس جنگ کو ایران ختم کرے گا۔

 لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایک بار پھر وہ خود کو قابو میں نہیں رکھ سکے ایک طرف انہوں نے گفت و شیند کی بات کی اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ اوباما حکومت میں ہوئے جوہری معاہدے کو بے معنیٰ قرار دے دیا ۔  اس موقع پر امریکی صدر کے حالیہ بیان پر ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حامد ابوتلیبی کا ایک بیان آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ  “ٹرمپ پہلے ایران جیسے عظیم ملک کا احترام کرنا سیکھیں پھر ہم سے ملنے کی بات کریں “۔  ٹرمپ کے بیان سے ایک روز قبل یونی 30 جولائی کوایران کے دفترخارجہ کے ترجمان  ‘بہرام قاسمی’ نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے کہا کہ ” موجودہ امریکہ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے.قاسمی نے کہا کہ امریکہ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے اقدامات پر اطمینان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امریکی حکمران ایرانی قوم کے خلاف دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لہذا ایسی صورتحال میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قوم کے مذاکرات نہیں ہوں گے”۔

اس سے قبل  22 جولائی کو  دونوں صدور کے مابین ٹوئیٹر پر تلخی بڑھ گئی تھی ۔ ایرانی صدر  حسن روحانی نے ٹوئیٹ  کیا کہ ” ہم خوف زدہ نہیں ہیں ،ہم صدیوں سے یہاں ہیں  ہم  نے  اپنے یہاں بھی اور دنیا  میں کئی شہنشاہیتوں کو بنتے اور بگڑتے  دیکھا ہے ۔ ہماری  اس شہنشاہیت کی عمر اتنی  لمبی  تھی جتنی  کچھ ممالک کی عمر بھی نہیں ہے ۔ شیر کی پونچھ سے مت کھلیو آپ کو پچھتانا پڑے گا ” روحانی کے اس ٹوئیٹ کے جواب میں اگلے روز  ٹرمپ نے  بھی دھمکی دی ” لکھا دوبارہ امریکہ کو مت دھمکانا  ورنہ آپ کو ایسا انجام بھگتنا پڑے گا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملے گی ” ۔  ظاہر سی بات ہے  ایسے سخت  موقف والے ٹرمپ اگر آج یہ کہتے ہیں کہ  میں ایران سے بلا شرط بات چیت کے لیے تیار ہوں تو اسے  حیرت  انگیز  ہی کہیں گے ۔

ایران سے امریکہ کا جوہری معاہدہ کیا تھا اور ٹرمپ نے اسے کیوں توڑا ؟ جبکہ امریکہ کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ وہاں حکومتیں تو تبدیل ہوتی ہیں لیکن پالیسی نہیں اوراس کی خارجہ پالیسی تو بالکل نہیں صرف اتنا ہوتا ہے کہ کا کام کرنے کا پالیسیوں کے نفاذ کا طریقہ الگ ہوتا ہے ۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ ٹرمپ نے اوباما کے ذریعہ کیے گئے جوہری معاہد ے کو نہ صرف توڑا بلکہ اسے بکواس قرار دے ڈالا۔  ایران نے یہ معاہدہ چین، فرانس ،جرمنی، روس، برطانیہ اور امریکہ سے کیا تھا سبھی نے اس سمجھوتے پر دستخط کیے تھے ۔ اس میں ایران نے اپنے ملک پر سے تجارتی پابندیاں ہٹانے کے عوض اپنے جوہری پروگرام روکنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اسرائیل کی خفیہ ایجینسی موساد جو دنیا بھر میں بے چینی پیدا  کرنے کے لیے بدنام ہے کے ذریعے پیش کیے گئے دستاویزات کی بنیاد پر ٹرمپ نے ایران پر پابندی کی یہ کار روائی انجام دے ڈالی ۔

یہ خیال درست ہے کہ امریکی صدر کے تازہ بیان سے ابھی کچھ اخذکرنا جلد بازی ہوگی۔ ایرانی قیادت کے متذکرہ بالا بیانات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایران کی قیادت کے تیور بھی کافی سخت ہیں ان کے ذریعے دیے گئے جوابی بیانات کا لب و لہجہ بھی کرخت دار ہے ، جوکامیاب ڈپلومیسی کی راہ میں آڑے آرہا ہے ۔ ڈپلومیسی اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایران ایسے حالات میں ٹرمپ کے بیان کا فوری طور پر خیر مقدم کرے  تاکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت پیغام پیش ہو ۔ لیکن یہاں مشکل یہ بھی ہے کہ ٹرمپ اپنے کسی بیان پر زیادہ دیر تک قائم نہیں ر پاتے وہ کب اس بیان سے انکار کردیں اور اپنے ہی کیے گئے وعدے کو توڑ دیں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ پھر بھی ٹرمپ کے اس بیان سے ان کا اعتراف تو سامنے آیا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ،مذاکرات کی میز پر بڑے بڑے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں ، دونوں ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ مذاکرات کی راہ پر آگے بڑھیں یہی سے بہتر حل نکلنے کی امید پیدا ہوگی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *