یو پی ایس سی میں مداخلت کی کوشش شروع

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

گزشتہ ماہ یو پی ایس سی کے نتائج آنے کے بعد سے  کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد جاری ہے میڈیا میں مستقل کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز شائع ہو رہے ہیں ،سوشل میڈیا پر کامیاب امیدواروں کی لگن اور محنت کے ہر سو چرچے ہیں ۔ کامیاب امیدوار یو پی ایس سی کی شفافیت کی تعریف کرتے دیکھے جا سکتے ہیں .

خاص طور سے وہ لوگ جو معاشی اور سماجی طور پر بہت ہی کمزور گھروں سے آئے ہیں ان کی زبان پر بس ایک ہی بات سسنے کو ملی کہ ہمیں یہ کامیابی سخت محنت اور یو پی ایس کی شفافیت پرمبنی نظام کی وجہ سے ہے ، اور اس میں کسی طرح کی بدعنوانی کی گنجائش نہیں ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ابھی تک کسی بھی طرح کی حکومتی مداخلت سے پاک یو پی ایس سی کے سیلکشن کو  بھی متاثر کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ پی ایم او کی جانب سے یہ سوشہ چھوڑا گیا ہے ۔

وزیر اعظم کے دفتر نے خواہش ظاہر کی ہے کہ  سبھی کامیاب امید واروں کو کیڈر اور سروس کا الاٹمنٹ ان کی تین ماہ کی فاونڈیشن ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ٹریننگ میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد الاٹ کیا جائے۔ پی ایم او نے متعلقہ محکمے سے کہا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیں ، فاونڈیشن کورس کی مدت تین ماہ کی ہوتی ہے ۔ ابھی تک یو پی ایس سی سبھی کامیاب امیدواروں کو ان کی رینک کے مطابق کیڈراور سروس الاٹ کرتا رہا ہے ، اب پی ایم اور یہ جانچنا چاہتا ہے کہ کیوں نا سبھی کی ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد کیڈر اور سروس الاٹ کی جائے  ؟

حالانکہ پی ایم او نے اپنی اس مداخلت کو فیڈ بیک حاصل کرنے کی کار روائی نام دیا ہے ۔  اس میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ٹریننگ کی کار کردگی کو بھی شامل کرنے کی بات کہی گئی اور ٹریننگ کے تین ماہ کی کار کردگی یہ طے کرے گی کہ کس رینک کے امیدوار کو کون سا کیڈر اور سروس الاٹ کی جائے۔  یعنی جن امیدواروں کوان کی رینک کے مطابق  آئی اے ایس ، آئی پی ایس ،  آئی ایف ایس ،آئی آر ایس ملنا چاہئے اب انہیں مزید تین ماہ انتظار کرنا پڑسکتا ہے ۔ یہ خبر یقینا یو پی ایس سی میں کامیاب امیدواروں کو مایوس کرنے والی ہے  وہ لوگ جو اپنی رینک  کی بنیاد پر آئی اے ایس  آئی پی ایس بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں انہیں اس خبر سے  تکلیف پہونچی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ آخر پی ایم او کو کیوں ایسا لگا کہ یو پی ایس سی کے سلیکشن میں مداخلت کی جائے ؟ قارئین کو یاد ہوگا کہ مرکزی حکومت کسی نہ کسی طریقے سے پورے نظام کو اپنی فکر و فلسفے کے سانچے میں ڈھالنا چاہتی ہے اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کا مسئلہ اٹھا تھا کولیجیم سسٹم کو ختم کرنے کی جی توڑ کوشش کی گئی لیکن سخت اعتراض کے بعد پیچھے ہٹنا پڑا تھا ۔

اب ملک کی انتطامیہ میں دخل اندازی کی یہ نئی شکل پر غور و خوض شروع ہوا ہے ۔ سبھی  جانتے ہیں کہ یو پی ایس سی کے امتحان میں ایک شخص تین مراحل سے ہو کر گزرتا ہے  ۔ ایک امیدوار کی علمی صلاحیتوں کو جانچنے پرکھنے  کا عمل پہلے دو امتحان میں مکمل کیا جاتا ہے اور آخر میں شخصییت کو پرکھنے کے لیے انٹر ویو کے ذریعے  جانچنے کا کام انجام دیا جاتا ہے اس میں امیدوارکی علمی صلاحیت ، ذہانت ، حاضر جوابی ، اور اس کی دلچسپیوں کا بغور مطالعہ کیا جا تا ہے مختلف قسم کے سوالات سے میں الجھا کر اس سے نکلنے کی تدبیر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے ، پھر کہیں کامیاب قرار دیا جاتا ہے ۔

ذرا سوچئے کہ ایک طویل مرحلے سے گزرنے کے بعد اب کیاباقی رہ گیا جس کی بنیاد پر ان کے کیڈر الاٹمنٹ کو متاثر کیا جائے؟ ان تو اس ایک سال کی ٹرینگ میں کام کرنے کے طریق کار کو جاننا رہ گیا ہے جنھوں نے اتنے مشکل مراحل طے کر لیے ہیں ان کے لیے ٹریننگ کا یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے مکمل  ہو جائے گا اوریہ پہلے سے ہوتا رہا ہے ۔  وزیر اعظم کے دفتر سے شروع کی گئی یہ کوشش دیانت داری پر مبنی معلوم نہیں پڑتی ۔  اس سے یو پی ایس سی کا وقار مجروح ہوگا ۔ تین ماہ کی ٹریننگ کی کار کردگی کو بنیاد بناکر کامیاب امیدواروں کے رینک کو نظر انداز کرنے اور ان کے کیڈر الاٹمنٹ میں مداخلت کا راستہ کھلے گا ۔

روز اول سے ہی کرپشن کی راہیں ہموار ہوں گیں ، کیڈر کے الاٹمنٹ میں راست طور پر حکومت کی پسند اور نا پسند کا بھی دخل بڑھے گا ۔ پی ایم او نے ٹریننگ کی کار کر دگی کے بہانے نیا مسئلہ چھیڑ کر یو پی ایس سی میں کامیاب امیدواروں کو پس و پیش میں ڈال دیا ہے ، یہ کامیاب امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوگی حکومت کو اس سے دوری بنائے رکھنے میں ہی بھلائی ہے ۔ یہ قدم ایک طرح سے یو پی ایس سی کے انتخاب پر سوالیہ نشان لگانے والا اور اسے کمزور بھی کرنے والا ثابت ہوگا ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *