ہندوستان میں اردو کی قدیم بستیاں کیوں اجڑ رہی ہیں؟

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی

مارچ کا مہینہ کئی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے یہ رواں مالی سال کا آخری  ماہ ہوتا ہے ، حکومتی ادارے مالی سال کی تکمیل اور نئے مالی سال کی آمد کی تیاریوں میں مصرف ہوتے ہیں ، اس ماہ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اسے ادبی حلقوں میں بڑی اہمیت حاصل ہے آپ اسے سمیناروں کا مہینہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ پے درپے سمیناروں کا جو دور فروری کے اواخر سے شروع ہوتا ہے وہ 31 مارچ تک جاری رہتا ہے ۔ دارالحکومت دہلی کو اس میں ممتاز حیثیت حاصل ہے، دہلی میں ہونے والا ہر سمینار نیشنل یا بین الاقوامی  کہلاتا ہے ۔ ہمارے ادیب اردو زبان و ادب کی تاریخ ،ترویج ،توسیع اور ترقی پر قیمتی مقالات پیش کرتے ہیں ۔

ہندوستان میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے کار آمد تجاویز پیش ہوتی ہیں ، لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ اتنی کاوشوں کے باوجود اردو زبان کا دائرہ دن بدن محدود ہوتا چلا گیا ۔ آج سے پانچ سال قبل اردو زبان ہندوستان میں چھٹے نمبر پر تھی اب تازہ سروے کے مطابق یہ ایک پائیدان نیچے 7 ویں زینے پر پہونچ گئی ۔ اب اس کی ذمہ داری کس کے سر ڈالی جائے ، جبکہ یہ بھی سچ ہے کہ گزشتہ ایک عشرے میں  ہندوستان کی مختلف نئی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے بھی قائم ہوئے ہیں ۔

 ابھی کچھ ماہ قبل ہی دہلی کی ایک معروف یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان نے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن قائم کی ہے ،اس کے ذریعے  دنیا بھر میں اردو کی نئی نئی بستیاں تلاش کی جارہی ہیں ۔ اردو کی نئی بستیوں کی تلاش سے کسے اعتراض ہو سکتا ہے ، یہ کام ضرور کیجیے لیکن اردو کی جو قدیم بستیاں اجڑ رہی ہیں ان کی فکر کون کرے گا  ، آج اردو اپنے آبائی وطن میں ہی گھروں سے نکالی جا رہی ہے اس کی بات کون کرے گا ۔

سمینا روں کے انعقاد پر کسے اعتراض ہو سکتا ہے ، یہ ضرور ہونا چاہئے لیکن خیال رہے لیکن مالی وسائل کا اسراف نہ ہو تشویش ناک بات یہ ہے کہ سمیناروں کا یہ سلسلہ ایک ایک عجیب صورت اختیار کر گیا ہے ۔ کیا اردو کا سب سے بڑا ادارہ این سی پی یو ایل، ریاستی اکادمیاں اورانجمن ترقی اردو جیسے دیگر ادارے  یہ بتا سکیں گے کہ اب تک انہوں نے اس سمت میں کیا پیش رفت کی، اردو زبان و ادب پر منعقد ہونے والے سمیناروں کی روداد سے اردو زبان کو درپیش مسائل کے حل میں کیا مدد لی ، ہندوستان میں اردو کی قدیم بستیاں کیوں اجڑ رہی ہیں؟

ان سمیناروں کا حال تو یہ ہے کہ یہ اردو ادیبوں شاعروں اور پروفیسر حضرات کے لیے سیر وتفریح کا سامان بن کر رہ گئے ہیں ۔ سمیناروں کے ملتے جلتے عناوین سے کئی دفعہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سبھی نے باہم مشورے سے ملتے جلتے عناوین طے کیے ہوں ۔

 ضروری نہیں ہے کہ صحافت کے عنوان پرہونے والے سمینار میں کوئی صحافی یا صحافت کا طالب علم مقالہ پڑھے ، یہ بھی ضروری نہیں کہ ‘اردو زبان کی خدمت میں مدارس کے کردار’ کے عنوان سے ہونے والے سمینار میں  کوئی مدرسے کا طالب علم یا عالم مقالہ پیش کرے ۔ دہلی میں ایک کمرے والے نیشنل سمینار بھی کئی کئی ہوتے ہیں ۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض نیشنل سمینار تو ایسے  ہوتے ہیں جن میں سامعین اور مقالہ نگاروں کی تعداد لگ بھگ برابر ہی رہتی ہے ۔

منتظمین کی کوشش یہ رہتی ہے کہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر صاحبان کو مدعو کریں اس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ  منتظمین سامعین اکٹھا کرنے کی زحمت سے بھی بچ جاتے ہیں کیونکہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر صاحبان کے ہمراہ ریسرچ اسکالرس کی ایک ٹیم جو ہوتی ہے، یہ ٹیم   پروفیسر صاحب کے ایک حکم پر آسمان سے تارے توڑ کر لانے کو مجبور ہوتی ہے ۔

سچائی تو یہ بھی ہے کہ اردو والے سمپوزیم اور سمیناروں کے سوا  کچھ اور چاہتے بھی نہیں، اس کا اندازہ این سی پی یو ایل میں سمیناروں کے مالی تعاون کے لیے آنے والی درخواستوں سے کیا جا سکتا ہے ہر سال 500 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ مارچ میں ہی اس قدر ہنگامہ خیزی کیوں ہوتی ہے یہ سبھی  سمینار اگر پورے سال کے کلینڈر کے حساب سے ترتیب دیے جائیں تب بھی کسی حد تک انہیں اور بہتر کیا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *