اگر مستقبل میں کوئی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو اس میں مسلم وٹرس کی حصے داری کیا ہوگی ؟

اشرف علی بستوی

admin

ﺍﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺮﻭ ﮨﻤﺖ ﮐﭽﮫ ﺩُﻭﺭ ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﮯ

ﮔﺮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﻮ،،،، ﭘﺮﻭﺍﺯ ﺑﺪﻝ ﮈالو

  مندرجہ بالا شعر  تین روز قبل   جب میں نے اپنے فیس بک پیج پر علامہ اقبال کے   حوالے شیئر کیا تو  ہمارے علم دوست  کچھ احباب نے مجھے توجہ دلائی  کہ جناب یہ علامہ کے آہنگ سے میل نہیں کھاتا ،  اور پھر کئی حضرات نے اس مباحثے مین شرکت کی بات ہوتی رہی کہ یہ شعر علامہ کا ہے یا نہیں  چونکہ مجھے  یہ جہاں کہیں ملا وہاں علامہ اقبال کو ہی اس کا خالق قرار دیا گیا تھا ، اس لیے میں نے من وعن پوسٹ کر دیا تھا ،

میں نے اس لیے اسے پوسٹ نہیں کیا تھا کہ مجھے علامہ سے حد درجہ  عقیدت  ہے بلکہ اس شعر کے کچھ مصرعے آج کے حالات کی مکمل ترجمانی اور راہنمائی کر رہے تھے ۔ خیر شاعر کے نام کی تصدیق ابھی تک نہیں ہوسکی ہے ۔ آپ بھی اس میں مدد کریں تو نوازش ہوگی ۔

  دو روز قبل جب اتر پردیش میں ضمنی انتخبات کے نتائج آئے تو ایک بار پھر یہ شعر ذہن میں تازہ ہو گیا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ اپوزیشن  متحد ہوکر فاشزم کی آندھی کا سامنا کرے تو آج بھی یو پی میں 1993 کی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے ،اس کی ایک جھلک ضمنی الیکشن کے نتائج میں دیکھی گئی ۔ 

اتر پردیش اور بہار کے ضمنی انتخبات میں اپوزیشن پارٹیوں کی جیت سے ایک نئی امید کی شمع روشن ہوئی ہے ، یہ جیت اس لیے بھی قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش کی دونوں سیٹیں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کی اپنی سیٹیں تھیں ، گورکھپور کے اس پارلیامانی حلقے سے گورکچھ پیٹھ کی جیت کا طویل سلسلہ رہا ہے ۔

دراصل اسے صرف ایک یا دو سیٹ کی جیت کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا ،بی جے پی کی اس شکست سے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کا وقار بھی مجروح ہوا ہے ۔  جیت کی اس خبر نے جہاں میٖڈیا کے ایک بڑے حلقے کو حیران و پریشان کر دیا ٹی وی چینلوں کے اینکروں کے گلے بھر آئے ،

ٹی وی اسٹوڈیو کا  غم ناک منظر ہم سب نے دیکھا، لیکن عام آدمی سوشل میڈیا پر غالب رہا ، بی جے پی کے آئی ٹی سیل کی ٹرول ٹیمیں بھی قدرے خاموش رہیں ۔ لیکن یہ جیت ممکن ہوئی کیسے ؟

اس کا جواب شاید ہر شخص کے پاس ہے  وہ ہے اتر پردیش میں اکھیلش یادو اور مایاوتی کا وقتی اتحاد، اس لیے یہ جیت کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ اس اتحاد کی تھی  ایک جزوقتی اتحاد نے  بڑا کارنامہ انجام دیا

یاد کیجیے یہی اتحاد جب 1993 میں کانشی رام اور ملائم سنگھ یادو کے درمیان ہوا تھا تو حیرت انگیز نتائج آئے تھے ، کانشی رام نے کہا تھا ہم سماجوادی پارتی  سے ملکر منوادی پارٹیوں کو شکست دیں گے  اور ہوا بھی یہی کہ  دونوں ملکر بی جے پی کے رتھ کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔

لیکن اس کے بعد اتر پردیش میں کچھ  ایسے حالات بنتے چلے گئے جس کی وجہ سے یہ دونوں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بہت دور ہو گئیں ،سیاسی دوریاں ذاتی نوعیت کے جھگڑوں میں تبدیل ہوگئیں ۔اب  ایک بار پھر قریب آنے کا ایک اچھا موقع دونوں پارٹیوں کے ہاتھ لگا ہے ۔

اس معاملے میں اکھیلش یادو کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو غنیمت جان کر 2019 سے قبل کوئی مضبوط لائحہ عمل ترتیب دیں ۔اس درمیان  ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اکھیلش یادو نے مایاوتی کی رہائش گاہ پہونچ کر انہیں جیت کی مبارکباد دی ہے ،سیاسی تجزیہ کار اس ملاقات سے کافی پر امید نظر آرہے ہیں ، اس سے آئندہ کے بڑے اتحاد کی راہیں کھلیں گیں ۔

2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کی اصل وجہ اپوزیشن کا انتشار رہا ہے ،بی جے پی نے تریپورہ میں بھی یہی کیا ،اور جہاں جتنا موقع ملتا ہے اپوزیشن کو منتشر کرتی ہے ۔ 2017 میں اتر پردیش اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد لوگوں نے بہار کے عوام کی سیاسی بصیرت کی تعریف کرتے ہوئے اتر پردیش کے لوگوں لعن طعن کرنے لگے تھے ،لیکن یہ نہیں نظر آرہا تھا کہ اصل سمجھ داری کا مظاہرہ عوام نے  نہیں لالو یادو ،نتیش اور راہل گاندھی نے کیا تھا ، جس سے عوام کو صحیح رخ ملا ۔ یہ کام اتر پردیش کی سیکولر سیاسی پارٹیاں نہیں کر سکیں  تھیں جسکا بڑا نقصان سبھی کو اٹھانا پڑا۔

اس کے علاوہ کئی اور اہم پہلو ہمارے سامنے رہنا چاہیے ، ای وی ایم مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کی بات بالکل نظر انداز کر دینا قطعی درست نہیں ہے ، کیونکہ گورکھپور سے ایسی اطلاعات آتی رہیں  کہ کئی گھنٹوں تک  ای وی ایم  سے صرف ایک پارٹی کا ووٹ نکل رہا تھا جسے بعد درست کیا گیا ۔

اس بارے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہے چھوٹے پیمانے پر معمولی چھڑ چھاڑ کی جاتی ہے اور ریاستی انتخابات میں اسے بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ، لیکن اس طرح کے واقعات کا پیچھا کرنے کے لیے کوئی سیاسی پارٹی دیر تک کیوں کھڑی نہیں ہوتی ؟

کیا مایا اور اکھیلش اپنے بزرگوں ملائم اور کانشی رام کے پرانے فارمولے کو اپنانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں ؟

کیا مایاوتی یہ بات دہرائیں گیں کہ ملک کو منواسمرتی سے بچانے کے لیے ہم نے اکھیلش کا ساتھ لیا ہے ؟

دوسری اہم بات  ملک کے مسلم رائے دہندگان کے لیے ہے کہ اگر مستقبل میں ایسا کوئی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو اس میں ان کی حصے داری کیا ہوگی ؟

کیا مسلم قیادت میں کام کرنے والی سیاسی جماعتیں ممکنہ کسی اتحاد میں ا پنی جگہ پانے میں کامیاب ہو سکیں گیں یا پھر مسلم رائے دہندگان اپنا سیاسی سفر سائیکل اور ہاتھی پر سوار ہوکر ہی کرتے رہیں گے ؟

اگر اتحاد وجود میں آتا ہے جس میں ریاست کے مسلم رائے دہندگان کی سیاسی حصے داری  طے ہو تو یہ زیادہ پائیدار ہوگا ۔  یہ کام صرف سماج وادی اور بی ایس پی کے ہی کرنے کا نہیں ہے بلکہ مسلم قیادت والی جماعتوں کی بھی کرنا ہوگا  جن کا مرکز ی نقطہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبوط کرنا ہے وہ اس میں با وقار طریقے سے بحیثیت پارٹی اپنی حصے داری کیسے حاصل کریں گیں یہ ان کے لیے بھی بڑا امتحان ہے ؟

 

ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺲ ﺳﮯ، ﻭﻩ ﺭﺍﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
ﺟﻮ ﺭﺍﺯ ﻧﮧ ﺭﮐﮫ ﭘﺎﮮﺀ ،،،، ﮨﻤﺮﺍﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﯽ ﮨﻮﮔﯽ، ﺍﮎ ﻋﺎﻡ ﮐﮩﺎﻭﺕ ﮨﮯ
ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺧﻄﺮﮦ،،،،،، ﺁﻏﺎﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
ﭘُﺮﺳﻮﺯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮ،،،،، ﻣُﺴﮑﺎﻥ ﻧﮧ ﺩﮮ ﭘﺎﺋﮯ
ﺳُﺮ ﮨﯽ ﻧﮧ ﻣِﻠﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ، ﻭﮦ ﺳﺎﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﮐﻮ، ﮨﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﺍﮔﺮ ﮐﺮﻧﺎ
ﺗﻢ ﮐﮭﯿﻞ ﻭﮨﯽ ﮐﮭﯿﻠﻮ،،،،، ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
ﺍﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺮﻭ ﮨﻤﺖ ﮐﭽﮫ ﺩُﻭﺭ ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﮯ
ﮔﺮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﻮ،،،، ﭘﺮﻭﺍﺯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻟﻮ
 
 

گم نام شاعر

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *