کیا یہ صرف اہل مغرب کو آئینہ دکھانے کے لیے ہے

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

گزشتہ ہفتے حقوق انسانی  کے حوالے سے  عالمی دن منایا گیا  ۔  تمام  انسانوں کو آزاد و مساوی ہونے کے تخیل کو پروان چڑھانے کا عزم دہرایا گیا ۔ یہ عمل  گزشتہ 70 برس سے بلا ناغہ ہر برس ہورہا ہے ۔ اقوام  متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دس دسمبر 1948 کو حقوق انسانی   کے  دن کے طور پر منائے جانے کی منظوری دی تھی۔ حقوق انسانی کے  دن کو عالمی سطح پرانسانی حقوق کے شعور کو اُجاگر کرنے کے  مقصد   منانے کا فیصلہ   کیا گیا   تھا۔  دوسری جنگ عظیم کے  دوران  حکمرانی کے حریص حکمرانوں کے پنجے سے نکالنے کی ایک کوشش تھی ۔ کروڑوں  انسانو ں کو  جنگوں کے حوالے کر دینے ،   جلا وطنی، نسل  کشی اور قتل عام  سے بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا ، انسانوں کو ان کا بنیادی حق دلانے کی بات کی گئی تھی۔ یہ دن یوم احتساب بھی ہے ہم یہ بھی دیکھیں کہ ان کوششوں کے نتیجے کیا رہے دنیا پہلے سے کتنا زیادہ محفوظ ہوسکی ہے ۔ یا حالات مزید ابتر ہوئے ہیں ۔ آج اگر وسیع پیمانے کی جنگیں  نہیں   ہو رہیں ہیں پھر بھی گزشتہ 17 سال میں  عراق ، لیبیا اور شام سمیت کئی ملک تباہ ہوگئے لاکھوں انسان پناہ گزین بنادیے گئے ، میانمارکی صورت حال سبھی کے سامنے ہے 10 لاکھ افراد وطن سے بے دخل کر دیے گئے  ۔  واضح طور پر حقوق انسانی کو پاؤں تلے روندا گیا لیکن اقوام متحدہ بیانات سے آگے نہ بڑھ سکا ۔  اسی لیے   وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اقوام متحدہ کی ساکھ مجروح ہوئی ہے لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ

اقوامِ متحدہ ایسی تنظیم ہے جہاں، اگر ایک بڑے ملک اور چھوٹے ملک کے درمیان کا تنازعہ لایا جاتا ہے تو چھوٹا ملک غائب ہو جاتا ہے۔  دو چھوٹے ملکوں کے درمیان کا تنازعہ لایا جاتا ہے تو تنازعہ غائب ہو جاتا ہے اور اگر دو بڑے ملکوں کے درمیان کا تنازعہ پیش کیا جائے تو اقوامِ متحدہ غائب ہو جاتی ہے۔  دنیا کےجوتنازعات ابھی تک اس کےپاس پہچنے،ان کےتعلق سےاس ادارےکی تاریخ اب تک یہی رہی ہے، اسی لئے کبھی اسے لونڈی کہا جاتا ہےتو کبھی کٹھ پتلی، اقوام متحدہ سے توقعات تو بہت کی جاتی ہیں لیکن جو لوگ توقعات کرتےہیں انہیں خوشی کبھی نہیں ہوتی صرف مایوسیہاتھ لگتی ہے ۔ اقوام متحدہ ہمیشہ طاقت ور ملکوں کےلئے خوب استعمال ہوئی لیکن کبھی بھی اپنا فیصلہ نافذ نہیں کراسکی ۔ کیا کبھی سوچا آپ نے کہ  اس کی باتوں پر کبھی کوئی توجہ کیوں نہیں دیتا اوراس کی قراردادوں کا کوئی پاس ولحاط کیوں نہیں رکھتا ۔ اس ادارے کےبارے میں لوگوں کا یہی احساس ہے۔

 لیکن 14 برس قبل دنیا نے انسانی حقوق کے تحفظ کا دور دیکھا ہے ، بارہویں صدی میں میگنا کارٹا ہیومن رائٹ چارٹر سے بہت قبل اسلام نے دنیا کو بتا دیا تھا کہ انسانی معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم کیسے رہیں ؟ ہمارے اختیارات اور ذمہ  داریاں کیا ہیں ؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹ چارٹر آیا ۔  انسانی حقوق کے تحفظ کی اول صورت یہ ہے کہ ہم خلاف ورزی ہونے ہی نہ دیں ،دوسرا یہ کہ اگر زیادتی ہوجائے تو اپنا حق کیسے بحال کرائیں ۔

گزشتہ تین برس میں ہندوستان میں بری تیزی سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں بڑھی ہیں، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں آواز بلند کر رہی ہیں لیکن حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے ابھی آئین محفوظ ہے جو ہمیں پورا حق دیتا ہے ،  ہمارا آئین ہمیں ‘ ہم ہندوستانی لوگ’  کہہ کر مخاطب کرتا ہے  اس کا مطلب ہے کہ سماج کے کمزور ترین فرد کے بھی حقوق اسی طرح محفوظ ہیں جس طرح کسی بااثر شخص کے ۔

 البتہ یہ حقوق حکومت کے خلاف ہوتے ہیں قانون سازی عوامی نمائندے کرتے ہیں لیکن اس پر عمل  بیوروکریسی کے ذریعے ہوتا ہے  اور یہ بیورو کریسی کا طبقہ ہمیشہ حکمراں جماعت کے اشارے پر کام کرتا ہے اسی لیے  وہ سیاسی حلقے جو اقتدار میں ہوتے ہیں انہیں انسانی حقوق کی باتیں اچھی نہیں لگتیں لیکن پھر بھی ہمیں قطعی مایوس نہیں ہونا چاہیے  عدلیہ ہے جو ہمارے شہری حقوق کا مکمل تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور کرتی ہے بعض اوقات حکومت کے خلاف عدالت کا حکم آتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ عدلیہ تک ہم اپنی بات لے جائیں اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں یہ علم ہونا چاہئے کہ کون ساقانون غلط بنا دیا گیا ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں عدلیہ سے رجوع کریں میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں ۔ یہاں ایک سوال اور ذہن میں آتا ہے کہ ہر سال اس موقع پر ہماری طرف سے اسلام کا نقطہ نظر پابندی سے پیش کیا  جاتا ہے  اور دنیا کو یہ بتایا جات اہے کہ اسلام نے 14 برس قبل ہی یہ بتا دیا تھا کہ سبھی انسان برابرہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں ہے ، ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کا کتنا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے ؟  خود ہمارے مسلم ممالک میں اس پر عمل کی کیا صورت حال ہے ؟ تحریر اور تقریر کی حد تک تو یہ بات برابر دہرائی جاتی رہی ہے کیا ہم نے خود کو کبھی اس کا مخاطب سمجھا ہے ۔ کیا یہ صرف اہل مغرب کو آئینہ دکھانے کے لیے ہے ۔ ہمیں ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *