ایشیا ٹائمزExclusive: کیوں یہ مسلم نوجوان اپنے خرچ پر کرتا ہے عیسائی قبرستان کی دیکھ بھال ؟ یہ اسٹوری پڑھ کر آپ بھی فلم ‘ادھیکار’ کا یہ نغمہ ضرورگنگنانے لگ جائیں گئے

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز/ اشرف علی بستوی) یہ اسٹوری پڑھ کر آپ بھی 1986 میں ریلیز ہوئی فلم ‘ادھیکار’ کا نغمہ ‘“۔ جینا تو ہے اسی کا جس نے یہ راز جانا–  ہے کام آدمی کا اوروں کے کام آنا “ بے اختیار گنگنانے لگ جائیں گئے ۔ یوں تو دنیا بھر میں عیسائی مشنریوں کے ذیعے انجام پانے والے خدمت خلق کے کاموں کی بڑی پزیرائی ہوتی ہے ، جہاں کہیں بھی سماجی خدمت کا کوئی بڑا کام منظم ڈھنگ سے انجام دیا جارہا ہو اس کے بارے میں یہ تصورکرلیا جاتا ہے کہ یہ کا م ضرور کوئی عیسائی مشنری  انجام دے رہی ہوگی ۔

یہ ہے بہاری کالونی شاہدرہ کا مسیحی قبرستان جس کی دیکھ بھال میں عمران  مسیحی برادران کا ہاتھ بٹاتے ہیں 

آج ہم آپ کو ایک ایسے مسلم نوجوان کے بارے میں بتاتے ہیں جو دارالحکومت دہلی میں ایک عیسائی قبرستان کی مرمت اور اس کی دیکھ بھال کا انتظام اپنی ذاتی دل چسپی سے خود کرتے ہیں۔ قبرستان کی دیواروں کی مرمت ، آس پاس کی صفائی ستھرائی ، قبرستان کی لائٹوں کا انتطام اورقبرستان میں سایہ دار درختوں اور پودوں کو لگانے کا کام اپنے ذاتی خرچ پرکرتے ہیں۔

 محمد عمران اپنے دفتر میں ایشیا ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے   

عمران  کا ماننا ہے کہ وہ سب کچھ  صرف اس لیے کرتے ہیں کہ قرآن نے مسلمانوں کو پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے دنیا میں برپا کیا ہے ۔

قرآن کی تعلیمات کا یہی مرکزی نقطہ انہیں ایک تاجر سے خدمت خلق کی طرف موڑ دیا ۔ بلا تفریق مذہب و ملت یہ نوجوان ہمہ وقت انسانوں کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے ۔ عمران  کی سماجی خدمات کا یہ جذبہ یقینا قابل تقلید ہے۔

 ڈیویڈ نامی ایک مسیحی عمران کے بارے میں بتاتے ہوئے 

گزشتہ دنوں ایشیا ٹائمز کو جب پتہ چلا کہ دہلی کے شاہدرہ علاقے میں واقع بہاری کالونی میں محمد عمران نامی ایک ایسا نوجوان رہتا ہے جو ہر وقت انسانوں کی خدمت کے لیے علاقے میں پیش پیش رہتا ہے ۔

اپنۓ پاس واقع عیسائی قبرستان  کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔

 محمد عمران اپنی ٹیم کے ایک اہم  رکن قریبی دوست خورشید کا تعارف کراتے ہوئے 

ہر سال ” شب برات ” کے موقع پر علاقے کے نوجوانوں کو موٹر سائیکل اسٹنٹ سے بازرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

 اردو زبان و ادب سے والہانہ وابستگی رکھتا ہے ۔ یہی نہیں  اس نے یہاں آباد ہونے کے ساتھ ہی آج سے چار سال قبل مودی جی کی  سوچھ بھارت مہم  سے بہت پہلے  ہی اپنے خرچ پر اپنی گلی  میں مکمل صفائی مہم شروع کر دی تھی ۔

عمران کا آبائی تعلق اتر پر دیش میں پوروانچل کے ضلع اعظم گڑھ سے ہے ،آج سے کوئی  17 برس قبل  عمران روزی روٹی تلاش میں دہلی  آئے تھے ،  ریڈی میڈ کپڑوں کی مینو فیکچرنگ کا کاروبار شروع کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے سماجی خدمت میں قدم رکھا اور اب پورے علاقے میں  عمران ایک اچھے سماجی خدمت گار کی ایک پہچان رکھتے ہیں ۔

 عمران بتاتے ہیں کہ ہم نے مقامی لوگوں کو بھی حکمت کے سا تھ اس صفائی مہم میں اپنے ساتھ لیا ، دھیرے دھیرے سبھی لوگ ہمارے جذ بے کی قدر کرنے لگ گئے اور معاونت کرنے لگے۔  اوراب محلے کے سبھی لوگوں کا تعاون ملنے لگا ہے ۔

 اس کے لیے ہمیں بڑی جدو جہد کرنی پڑی ہے ۔ اول روز سے ہی ہم  نے طے کر لیا تھا کہ ہمیں کسی سے لڑنا جھگڑنا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو قریب لانا ہے،انہیں مسائل کی جانب توجہ دلانا ہے ۔

عمران بتاتے ہیں کہ ایک بار تو ایسا ہواکہ قبرستان کی دیوار کے پاس ایک بزرگ اپنے پالتو کتے کوحاجت سے فارغ کرا رہے تھے ہم پہلے تو خاموشی کے ساتھ سب کچھ دیکھتے رہے ۔ جب وہ وہاں سے نکلنے لگے تو ہم نے انہیں آواز دی اور بڑی ہی عاجزی سے کہا کہ انکل  کل تک آپ کا یہ بیٹا یہاں نہیں رہتا تھا اب آپ کا یہ بیٹا یہاں رہتا ہے کیا آپ اپنے بیٹے کے گھر کے سامنے اس طرح کی گندگی  دیکھنا پسند کریں گے ؟

وہ بزرگ بہت نادم ہوئے اورمعذرت کرنے لگے ہم نے علاقے میں اسی طرح سے لوگوں کو سمجھانے کاکام کیا اور تعاون حاصل کیا ہے ۔

گفتگو کے درمیان عمران نے  بتایا کہ یہ جو سامنے والی قبرستان دیکھ رہے ہیں ، یہ عیسائی بھائیوں کی ہے ۔ آپ کو جان کر یہ تعجب ہوگا کہ میں اس کے انتظام و انصرام میں ذاتی دل چسپی لیتا ہوں  قبرستان میں سایہ دار درختوں کو لگانے کا کام ، سی سی ٹی وی کیمرے کا نظم ، دیواروں پر لائٹوں کا نظم پیڑ پودوں کی دیکھ بھال یہ سب کچھ ہم عیسائی بھائیوں کی اجازت سے کرتے ہیں ۔

عمران سے بات چیت کا سلسلہ ابھی جاری ہی تھا کہ اسی درمیان ایشیا ٹائمز کی ٹیم کو ایک بزرگ اپنے بیٹے کے ساتھ  قبرستان میں داخل ہوتے نظر آئے ۔

ہم قبرستان کی طرف بڑھے اور ان سے خیریت دریافت کی بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ یہ جناب ڈیوڈ تھے جو اپنی اہلیہ کی پہلی برسی پر ان کی قبرپر حاضر ہوئے تھے ۔  ڈیویڈ کہتے ہیں کہ ” عمران  انتہائی مخلص اور ہمارے سچے ہمدرد ہیں انہوں نے ہماری قبرستان میں بڑاکام کیا ہے ۔

درخت لگائے ہیں ،دیواروں کو رنگ و روغن کیا ہے رنگ برنگے پودے لگائے ہیں لائٹوں کا نظم کیا ہے یہ ہمارے لیے بڑا اعزاز ہے خدا انہیں خوش رکھے۔ “َ  ڈیویڈ کے بیٹے نے بھی شکریے کے اسی جذبے کا اظہار کیا۔

اردو زبان کو وہ نہ صرف ایک زبان بلکہ ایک مکمل تہذہب تصور کرتے ہیں ، ایسی زبان سماج جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے ، اردو سے دلی وابستگی کا سہرا  بشیر بدر کے اس شعر کو دیتے ہیں

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں ۔۔۔  پاؤں پھیلاؤں تو دیوار سے سر لگتا ہے

حکومتوں تک  اپنی آواز بلند کرنے کے جذ بے سے عمران نے اردو کا ایک ہفت روزہ ‘تہذیب ہند دہلی’ بھی جاری کیا ، وہ اس اخبار کے  چیف ایڈیٹر ہیں ۔

انہیں سماجی و ادبی خدمات کے لیے کئی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔

 اپنے  مسقبل کے منصوبوں میں معاشرے تعلیم کی کمی پورا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عمران کہتے ہیں کہ ہمیں اب اچھی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

ہم اس کے لیے کام کر رہے ہیں اسے مزید مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔  ہندو،مسلم ،سکھ ،عیسائی سوسائٹی کے ذریعے علاقے میں تہواروں کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے مین انتظامیہ کا تعاون، حقوق انسانی کے لیے سرگرم رول ۔

اردو زبان و ادب سے متعلق سرگرمیوں میں دلچسپی ،مقامی لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا ان کی ہابی میں شامل ہے ۔

  خدا کرے محمدعمران کا یہ جذبہ خدمت ہندوستانی معاشرے  کے نوجوانوں کے لیے بھی مشعل راہ بنے ۔ یقینا عمران کا عمل قابل تقلید ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *